رفض و شیعت کا موجد ابن سباء ایک یہودی - ردِ رافضیت | دفاع…

رفض و شیعت کا موجد ابن سباء ایک یہودی

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 8

سبائیت: سیدنا علیؓ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کے خلاف دلی دشمنی رکھتے تھے اس نے (ابنِ سباء) نے یہ عقائد سیدنا علیؓ کے بارے میں گھڑے اور کہا کہ وہ یہ اہلِ بیت کی محبت میں کر رہا ہے اور ان کے دشمنوں کے خلاف نفرت کرنے کے لیے۔

شیعیت و رافضیت: رافضیوں کے اکثر فرقے خاص طور پر امامیہ اثناء عشریہ وہی سبائیوں والا عقیدہ رکھتے ہیں کہ سیدنا علیؓ کے دل میں سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ اور دوسرے صحابہؓ سے دشمنی تھی سیدنا علیؓ ان سے نفرت کرتے تھے اور وہ اہلِ بیت کے دشمن ہیں اور ان سے نفرت کرنا محبت کی نشانی ہے کیونکہ سیدنا علیؓ نے ان سے نفرت کی تھی

حقیقت (اسلام) : سیدنا علیؓ نہ صرف ایسے عقائد سے بری تھے بلکہ آپؓ ایسے عقائد سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے آپ ابنِ سباء کو قتل کرنے والے تھے اس کے ان عقائد کی وجہ سے جو وہ محبتِ اہلِ بیت کے نام پر کرتا تھا۔ آپؓ نے ابنِ سباء کا منہ بند کیا اور ہر اس شخص کو وارننگ دی جو ان کو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ سے افضل جانے۔

آپ نے دیکھ لیا کہ اس میں کوئی سچ نہیں کہ ابنِ سباء اور شیعہ کے عقائد مختلف ہیں رافضی ہر دور میں ابنِ سباء کے ان عقائد کو اپناتے رہے ہیں اور اس کی تشریع کرتے رہے ہین سو ابنِ سباء اور رافضیوں کا ایک مضبوط رشتہ ہے ایک سنی عالم نے بجا فرمایا تھا:

رفض کی بنیاد یہود کے عقائد پر ہے۔

ہمیں اپنے الفاظ ٹھیک ٹھیک ادا کرنے کی ضرورت ہے جب ہم کہتے ہیں کہ شیعیت کا نعرہ ایک یہودی کا ایجاد کردہ ہے پر اصل میں ایسا نہیں شیعیت ہر کسی کی دعویداری نہیں ہے اصل میں لفظ شیعیت تاریخِ اسلام میں مخلتف معنیٰ کے ساتھ استعمال ہوتا رہا ہے۔

امام ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ غالی شیعہ اسلاف (مسلمانوں کی پہلے تین نسلیں) کے دور میں انہیں کہا جاتا تھا جو کہ سیدنا عثمانؓ، سیدنا زبیرؓ، سیدنا طلحہؓ، سیدنا معاویہؓ کے خلاف زبان درازی کرتے تھے اور ان کے خلاف بھی جو کہ سیدنا علیؓ سے لڑے تھے یا ان پر حملہ کیا تھا۔

(المیزان: جلد 1 صفحہ 118)

حافظ ابنِ حجرؒ اپنے کتاب الھدیٰ الساری کے مقدمے میں فرماتے ہیں

والتشيع محبة علي وتقديمه على الصحابة فمن قدمه على أبي بكر وعمر فهو غال في تشيعه

شیعیت میں سیدنا علیؓ کی محبت اور ان کی صحابہؓ پر افضلیت ہے پر جو ان کو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ سے افضل جانے وہ غالی شیعیت ہے

مزید ہمارا یہ آرٹیکل پڑھیں:

Shias of the past differed from modern shias

اس سے بہت سے شکوک دور ہوتے ہیں جیسے شیعہ کہتے ہیں سنیوں کی کتب میں شیعوں کی روایات پائی جاتی ہیں تو جو شیعہ اس دور میں تھے وہ آج کے اثناء عشری شیعوں جیسے نہیں تھے اور نہ ہی وہ شیعت میں انتہاء پسند تھے اس وقت کے شیعہ سیدنا علیؓ کو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ سے افضل مانتے تھے حالانکہ خود سیدنا علیؓ ان دونوں کو خود سے افضل کہتے تھے۔ شیعت ارتقاء سے گذرتی رہی ہے اور آج کل یہ اپنی اونچائی پر جا کھڑی ہے (جہاں سے سوائے جہالت اور کچھ حاصل نہیں ہونے والا) جسیا کہ آج کل شیعہ مشہور کرتے رہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ سیدنا علیؓ کے دشمان تھے اور صحابہؓ بھی ان کے دشمن تھے وہ بھی ان کے دشمن ہیں جو ان کو شیعوں کے عقیدہ کے مطابق نہیں مانتے ۔ شیعیت آج کل وہی مشہور کر رہی ہے جو کہ ابنِ سباء نے کبھی دعویٰ کیا تھا اور جس کا سیدنا علیؓ نے سختی سے رد کیا تھا اس لیے ابنِ سباء کو رافضیت کا روحانی باپ ہی کہا جائے

ہمارے الفاظ میں وہ نرمی یا مدافعانہ انداز شاید نہ ہو جیسے اہلِ سنت کے دشمن سے ہو سکتا ہے کہ جس سے فائدہ لیں لیکن ایک سمجھ رکھنے والا انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ میری اوپر والی بات یا اس آرٹیکل کا پیغام کہ شیعیت کی بنیاد سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی تکفیر یہ اہلِ بیت کا عقیدہ نہیں ہے یہ ایک یہودی عقیدہ ہے جو کہ اہلِ بیت کے نام پر گھڑا گیا ہے جس کا گھڑنے والا ایک یمنی یہودی ہے۔

اب جبکہ شیعوں کی داستان کا پول کھل گیا ہے تو کہتے ہیں ایک شخصیت ابنِ سباء جو کہ امویوں اور سیف بن عمر کی ایجاد ہے ۔ ہم آپ کو اس پر کچھ مزید آگاہ کرنا چاہتے ہیں

شیعہ ویب السلام ڈاٹ او آر جی العسکری کے کتاب سے نقل کرتی ہے

اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ الطبری (ابوجعفر ابنِ جریر طبری) پہلا شخض ہے جس نے ابنِ سباء کی کہانی سیف سے بیان کی ہے اور دوسرے تاریخ نویسوں نے اس کو پھر طبری سے نقل کیا ہے۔

العسکری اور اس کے شیعہ حواری یہاں غلط بیانی کر رہے ہیں طبری سے 50 سال پہلے الثقفی نے الغارات لکھی جس میں اس نے ابنِ سباء کیا ذکر کیا ہے۔

دخل عمرو بن الحمد وحجر بن عدي وحبة العوفي والحارث الاعور وعبد الله بن سباء على أمير المؤمنين الغارات صفحہ30

عمرو بن العمد و حجر بن عدی، حبہ العوفی و عبداللہ بن سباء امیر المومنین کے پاس تھے۔

اس کے علاوہ ایک اور قدیمی حوالہ لفظ سبائی کا دیوان اشی حمدان صفحہ 147 میں ملتا ہے اشی حمدان کی وفات 83 ھجری ابنِ جریر طبری تو 310 ہجری میں وفات پائی ان کے بیچ میں 230 سال ہوتی ہیں۔ وہ دیوان مختار الثقفی (شیعوں کا کافر بزرگ) اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں لکھتا ہے:

شهدت عليكم أنكم سبئية وأني بكم يا شرطة الكفر عارف

میں شہادت دیتا ہوں کہ تم سبائی ہو اے کفر کے سپاہیوں میں تمہیں اچھی طرح جانتا ہوں۔

الاسلام ڈاٹ او آر جی لکھتی ہے

جہاں تک سیف بن عمر کے کذاب و ضعیف ہونے کی بات جو کہ سُنّی محدیثین نے کہا ہے تو میں آپ کو بہت سے مایہ ناز سُنّی علماء کے اقوال حوالے دیتا ہوں جنہوں نے سیف بن عمر کو ضعیف کہا ہے اور اس کی روایات کو لینے سے منع کیا ہے۔

یہ بات انتہائی غور طلب ہے کہ امام ذہبیؒ نے اسکی تاریخ کو اپنی کتب میں نقل کیا ہے پر انہوں نے اپنے دوسرے کتب میں کہا ہے کہ سیف ضعیف ہے مغنی الضعفاء میں امام ذہبیؒ لکھتے ہیں

سیف کے پاس دو کتابیں تھیں جس کو علماء نے چھوڑ دیا ہے۔

 (المغنی صفحہ 292)

یہ نہیں کہ وہ صرف کذاب ہے بلکہ کچھ روایات میں (جیسا امام ذہبیؒ نے اس کی روایات نقل کی ہیں) وہ صحیح بھی ہے پر وہ صحیح واقعات بیان کرنے سے زیادہ کہانی نویس ہے یہاں کچھ مزید مثال بیان کر دیتے ہیں۔

صفحہ 4 از 8