رفض و شیعت کا موجد ابن سباء ایک یہودی - ردِ رافضیت | دفاع…

رفض و شیعت کا موجد ابن سباء ایک یہودی

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 5 از 8

امام نسائیؒ کہتے ہیں کہ سیف کی روایات ضعیف ہیں اور وہ چھوڑ دینی چاہیئے کیونکہ وہ قابلِ اعتماد و ثقہ نہیں ہے

ابو حاتمؒ کہتے ہیں کہ سیف کی حدیث کو رد کیا جائے۔

یہ تھے چند امثال جو کہ العسکری بہت زیادہ نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے پر وہ کیوں نہیں کرتا جو کہ سُنّی محدیثین کہا ہے جیسا کہ

ابنِ ابی حاتم لکھتے ہیں علماء نے سیف کی روایات کو ترک کیا ہے امام سیوطیؒ کہتے ہیں کہ سیف کی صرف حدیث ضعیف ہے باقی تاریخ میں اس کی روایات قابل اعتماد ہیں جو وہ کہتا ہے اسے نقل کیا جا سکتا ہے ایسا بلکل بھی نہیں ہے جیسے شیعہ دعویٰ کرتے ہیں

ابنِ حجر عسقلانیؒ تقریب تہذیب جلد 1 صفحہ 344 میں کہتے ہیں تاریخ میں سیف عمدہ ہے

امام ذھبی میزان الاعتدال جلد 2، صفحہ255 میں کہتے ہیں کہ وہ تاریخ میں عالم ہے۔

اسی سبب کے بنیاد پر علماء جن میں محمد صوبی حسن حلاق، محمد بن طاہر البرزنجی، شیخ یحییٰ ابراہیم الیحییٰ، ڈاکٹر خالد الغایب شامل ہیں کچھ شرائط رکھی ہے جس کی بنیاد پر سیف بن عمر کی روایات کو لیا جائے (دیکھیے تاریخ طبری صحیح وضعیف)

1۔ سیف جو کہے اس کی بنیاد کسی حدیث کی مستند کتاب میں پائی جاتی ہو اور وہ روایات کسی مستند تاریخ کی کتاب سے لی گئی ہوں۔

2۔ اس کی روایات عقیدہ کے بارے میں یا حلال و حرام کے بارے میں نہ ہوں۔

3۔ اس کی روایات صحابہؓ کے خلاف نہ ہوں۔

4۔ اس کی روایات خلفاء راشدینؓ کے خلاف نہ ہوں۔

 آپ نے دیکھا کہ العسکری اور اس کے حواری بڑی جہالت کا مظاہرہ کرتے ہیں جب وہ سیف بن عمر کو ایک محدث کے طور پر پیش کرتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ حدیث میں ضعیف ہے پر تاریخ میں اس کی روایات قابلِ قبول ہیں خاص طور ایسی روایات جس کے دوسری سندوں کے ساتھ آئے ہیں اور ہم نے 8 ایسی روایات پیش کی جو کہ سیف بن عمر کے علاوہ کسی دوسری صحیح سندوں سے آئیں ہیں ۔تو ثابت ہوا کہ شیعوں کا دعویٰ کہ ابنِ سباء کے بارے میں صرف سیف بن عمر سے روایات آئی ہیں یہ ایک کھلا جھوٹ ہے۔

حصہ دوم

 ابنِ سباء یہودی شیعہ کتب میں ایسی حقیقت جس کا بہت سے شیعوں کو علم نہیں۔

ابولحسن محمد بن موسیٰ النوبختی (متوفی 310 ھجری) یہ تیسری صدی میں شیعوں کے مایہ ناز علماء میں سے ہیں اس نے شیعوں کے فرقہ اور ان کے عقائد کے بارے میں لکھا ہے کتاب فرق الشیعہ صفحہ 31 میں یہ الفاظ درج ہیں



اور فرقہ جو کہتا ہے کہ سیدنا علیؓ قتل نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کی وفات ہوئی ہے وہ تب تک نہیں مر سکتے جب تک وہ عربوں کو اپنی چھڑی سے نہ چلائیں اور جب تک زمین انصاف و برابری سے بھر نہ جائے جیسا کہ اب وہ جبر و طاغوت سے بھری ہے ۔ یہ امت کا پہلا فرقہ ہے جس نے وقف پہ بات کی بعد نبیﷺ اور پہلا جس نے غلو کیا اس فرقہ کو سبائیہ کہتے ہیں یہ عبداللہ بن سباء کے ساتھی تھے یہ سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ اور صحابہؓ پر الزام بازی و تبراء کرتا تھا وہ کہتا تھا کہ سیدنا علیؓ نے اسے ایسا کرنے کو کہا ہے ، سیدنا علیؓ نے اسی گرفتار کروایا اور اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے اقرار کیا تب سیدنا علیؓ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا لیکن لوگوں نے احتجاج کیا اور کہا اے امیر المؤمنین کیا آپ ایسے آدمی کو قتل کرتے ہیں جو کہتا ہے کہ وہ اہلِ بیت سے محبت کرتا ہے اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کرتا ہے تب سیدنا علیؓ نے اسے مدین کی طرف جلا وطن کردیا سیدنا علیؓ کے اصحاب میں اہلِ علم کا کہنا ہے کہ عبداللہ بن سباء پہلے یہودی تھا پھر مسلمان ہوا سیدنا علیؓ کا طرف دار ہوگیا۔ جب یہودی تھا تو یہ وہی چیز یوشع بن نون کے بارے میں کہتا تھا موسیٰ علیہ السلام کے بعد ، رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد سیدنا علیؓ کے بارے میں بھی یہی پہلا شخص تھا جس نے کہا کہ امامت علی کا ماننا فرض ہے اس نے کھلے عام سیدنا علیؓ کے دشمنوں کے خلاف بات کی اور سب کو کافر قرار دیا۔یہی بات ہے جس کی وجہ سے مخالفین کہتے ہیں کہ رفض کی بنیاد یہودیوں سے لی گئی ہے 

اب یہ بلکل ہی صاف اقرار ہے شیعوں کے علماء کی طرف سے نوبختی کا تنہاء یہ قول ہی شیعوں کی پول کھول دیتا ہے جو وہ کہتے ہیں اموی ہی ابنِ سباء کے مؤجد ہیں صرف شیعوں کا پروپیگینڈہ ہے۔

الکشی اپنی رجال کی کتاب میں (ابنِ سباء شیعوں کی رجال کی کتب میں بھی ہے اب بھی یہ اس کا انکار کرسکتے ہیں) وہی اقرار کرتا ہے۔


بعض اہلِ علم نے ذکر کیا ہے کہ عبداللہ ابنِ سباء یہودی تھا اسلام لے آیا اور پھر سیدنا علیؓ کی ولایت کا قائل ہوا۔ اس پہلے جب یہ یہودی تھا تو حضرت یوشع کے بارے میں غلو کرتا تھا کہ وہ موسیٰ کے وصی ہیں۔ اسلام لانے کے بعد اس قسم کی بات سیدنا علیؓ کے بارے میں کی۔ یہ سب سے پہلا شخص ہے جس نے سیدنا علیؓ کی امامت کا قائل ہونا فرض ہے اور ان کی دشمنوں پر اعلانیہ تبراء کیا۔اور مخالفوں کو کافر کہا یہی بات ہے جس کی وجہ سے مخالفین کہتے ہیں کہ رفض کی بنیاد یہودیوں سے لی گئی ہے۔

اب ہم بلکل سادہ الفاظ میں الکشی اور نوبختی نے جو کہا ہے بیان کرتے ہیں

1۔ پہلا فرقہ جس نے غلو کیا اہلِ بیت کے بارے میں وہ سبائی ہیں۔ سیدنا علیؓ ابنِ سباء کو جلا دینا چاہتے تھے لیکن پھر اس کو انہوں نے جلا وطن کردیا اس کے بعد جب اس کے کچھ ساتھیوں نے کفر (علی خود خدا ہیں وغیرہ) کو بار بار زکر کیا تو انہوں ان کو جلا دیا (یہ جلادینے کی روایت سنی و شیعہ کتب میں ملتی ہیں)

 2۔ یہ پہلا شخص ہے جس نے سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ اور دوسرے صحابہؓ پر تبراء کیا اور ان سے بیزاری کا اعلان کیا (جیسے آج کے رافضی کرتے ہیں) اور کہا کہ اس کو ایسا کرنے کے لئے سیدنا علیؓ نے کہا ہے (جیسے آج کے رافضی کہتے ہیں) سیدنا علیؓ اسے قتل کرنا چاہتے تھے پر صرف لوگوں کے احتجاج کے بناء پر آپ نے اسے جلا وطن کردیا۔

3۔ نوبختی کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ کے اصحاب میں سے اہلِ علم سمجھتے ہیں کہ عبداللہ بن سباء یہودی تھا (اصحاب علی کے الفاظ بعد کے شیعہ علماء نے نکال دیے)

صفحہ 5 از 8