رفض و شیعت کا موجد ابن سباء ایک یہودی - ردِ رافضیت | دفاع…

رفض و شیعت کا موجد ابن سباء ایک یہودی

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 6 از 8

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کچھ رافضیوں کی طرح شیعہ علماء سنی روایات شیعوں کے لئے نقل نہیں کرتے بلکہ وہ اقرار کرتے ہیں کہ سیدنا علیؓ کی پیروی کرنے والوں میں سے ایک گروہ یہ اقرار کرتا تھا کہ عبداللہ بن سباء کا وجود ہے اور وہ یہودی تھا جو کہ ہم نے نوبختی کی قول سے ثابت کیا۔ ہم نے آپ سے پہلے وعدہ کیا تھا نہ ہم شیعوں کا پول کھول دیں گے جب وہ ابنِ سباء کا انکار کریں گے۔

بعد کے رافضی جانتے تھے کہ یہ قول (من أهل العلم من أصحاب علي عليه السلام أن عبد الله بن سبأ كان يهودي) ان کے لئے ایک بم کی طرح ہے اس لئے انہوں نے اس میں ترمیم کردی اور اس کا ضروری حصہ غائب کردیا تاکہ لوگ سمجھیں کہ اہلِ بیت یا اصحابِ علی میں سے کسی نے نہیں کہا کہ ابنِ سباء کا وجود ہے۔

رافضیوں کے اس فراڈ کی مثال یہاں پر ہے جو ان کے علماء نے سچ کو چھپانے کے لئے کیا۔

نوبختی متوفی 310 ہجری لکھتا ہے

حکی جماعۃ من اہل العلم من اصحاب علی علیہ السلام ان عبداللہ بن سبا کان یہودیا فاسلم و والی علیا علیہ السلام و کان یقول و ہو علی یہودیتہ فی یوشع بن نون بعد موسی علیہ السلام بھذہ المقالۃ فقال فی اسلام

سیدنا علیؓ کے اصحاب میں اہلِ علم کا کہنا ہے کہ عبداللہ بن سباء پہلے یہودی تھا پھر مسلمان ہوا سیدنا علیؓ کا طرف دار ہوگیا جب یہودی تھا تو یہ وہی چیز یوشع بن نون کے بارے میں کہتا تھا، موسیٰ علیہ السلام کے بعد ، جب مسلمان ہوا رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد سیدنا علیؓ کے بارے میں بھی یہی کہتا تھا۔

الکشی متوفی 340 نے اس میں ترمیم کرتے ہوئے من اصحاب علی علیہ السلام کے الفاظ نکال دیے اور لکھا کہ

حکی جماعۃ من اہل العلم ان عبداللہ بن سباء کان یہودیا

الخوئی نے پھر اور ترمیم کرتے ہوئے اہلِ علم کے الفاظ بھی نکال دیے اور لکھا کہ

(معجم رجال الحديث السيد الخوئي جلد 11 صفحہ 206–207)

وقال الكشي: ذكر بعض أن عبد الله بن سبأ كان يهوديا 

الخوئی نے الکشی کی عبارت نقل کی ہے کہ کچھ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سباء یہودی تھا

اس فراڈ کی ایک اور مثال ملاحظہ کریں:


یہاں الخوئی نے خیانت کرتے ہوئے الکشی کے الفاظ حذف کردیے جو یہ تھے و زکر بعض اہل العلم ان

 الفاظ کو الخوئی نے بعض سے تبدیل کردیا ۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح کا اختلاف پیدا کیا گیا ہے بعد والا (الخوئی ) کہتا ہے کہ یہ انجان لوگوں کا خیال ہے کہ ابنِ سباء یہودی تھا پہلے والا (الکشی) کہتا ہے کہ یہ اہلِ علم تھے جو کہتے ہیں ابنِ سباء کا وجود ہے جو یہودی تھا حقیقیت میں پہلے والوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ پہلا تھا جو سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ پر تبراء کرتا تھا یہ پہلا تھا جس نے امیر المؤمنین کی امامت کے بارے میں بات کی یہ پہلا تھا جس نے کہا کہ سیدنا علیؓ رسولﷺ کے وصی ہیں اس نے یہ بھی کہا کہ وہ یہ صرف اس لیے کہتا ہےکہ وہ اہلِ بیت سے محبت کرتا ہے (جیسے آج کے رافضی کہتے ہیں) وہ ان کی تابعداری اور ان کی دشمنوں سے بیزاری کی بات کرتا ہے اور دشمن سے اس کی مراد صحابہؓ ہے۔

 تو ہم نے دو شیعہ علماء نوبختی اور کشی کا اقرار دیکھ لیا اس میں اور بھی ہیں۔

المامقانی (یہ وہی کافر شیعہ عالم ہے جس نے اقرار کیا کہ شیعہ مذہب میں سوائے تین سب صحابہؓ مرتد ہوگئے) اپنی کتاب تنقیح المقال فی علم الرجال جلد 2 صفحہ 183-184 پر کہتا ہے

عبد الله بن سبأ الذي رجع إلى الكفر وأظهر الغلو … غال ملعون، حرقه أمير المؤمنين عليه السلام بالنار، وكان يزعم أن علياً إله، وأنه نبي

عبداللہ بن سباء جو کہ کفر کی طرف پلٹ گیا اور مشہور غلو باز تھا اور لعنتیوں میں سے تھا امیر المؤمنین نے اسے آگ میں جلا دیا تھا وہ کہتا تھا کہ سیدنا علیؓ خدا ہیں وہ یعنی عبداللہ بن سباء پیغمبر ہے۔

سعد بن عبداللہ العشری القمی المقالات الفراق صفحہ 20پر کہتا ہے

السبئية أصحاب عبد الله بن سبأ، وهو عبد الله بن وهب الراسبي الهمداني، وساعده على ذلك عبد الله بن خرسي وابن اسود وهما من أجل أصحابه، وكان أول من أظهر الطعن على أبي بكر وعمر وعثمان والصحابة وتبرأ منهم۔

السبائیہ جو کہ عبداللہ بن سباء کے اصحاب تھے اور وہ عبداللہ بن وہب الھمدانی ہے اور جو کہ عبداللہ بن خرسی اور ابنِ اسود اس کی امداد کرتے تھے وہ اس کے ساتھیوں میں سے شاندار تھے یہ پہلا تھا جس نے اعلانیہ سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ اور صحابہؓ پر تبراء کیا اور ان سے بیزاری کا اعلان کیا۔

کیکڑے کی طرح دکھنے والا نعمت اللہ الجزائری لکھتا ہے


قال عبد الله بن سبأ لعلي عليه السلام: أنت الإله حقاً، فنفاه علي عليه السلام إلى المدائن، وقيل أنه كان يهودياً فأسلم، وكان في اليهودية يقول في يوشع بن نون وفي موسى مثل ما قال في علي

عبداللہ بن سباء نے علی کو کہا کہ آپ رب ہیں تب سیدنا علیؓ نے اس کو مدین کی طرف جلا وطن کردیا کہا جاتا ہے کہ وہ یہودی تھا اسلام لے آیا جب یہودی تھا تو یوشع بن نون کے بارے میں وہی کہتا تھا جو سیدنا علیؓ کے بارے میں کہتا تھا

سب شیعہ علماء نے ابنِ سباء کے عقائد اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں زکر کیا ہے سید قومی جو کہ 301 ہجری میں وفات پاگئے، شیخ طائفہ الطوسی، تستری نے قاموس رجال مین، عباس قمی نے تحفہ الاحباب، انصاری نے روضات الجنات، ناسخ تاریخ اور روضات الصفا کے مصنفین نے بھی اس کا زکر کیا اس ساری بحث سے ہم نے یہ ثابت کردیا کہ عبداللہ بن سباء کا وجود ہے جو کہ یہودی تھا اور اس کی جس نے مدد کی یا اس کے عقائد اپنائے ان کو سبائی کہا جاتا ہے علماء شیعہ اس حقیقت سے بلکل واقف ہیں کہ وہ ہر ثبوت کو رد نہیں کر سکتے جو کہ ہم نے یہاں نقل کی ہیں اس کی وجہ یہ ہےکہ الکاشی مین امام ابنِ سباء کو لعنت کرتے دکھائی دیتے ہیں کیا امام ایک فرضی شخص لعنت کر سکتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو ابنِ سباء کے وجود کا انکار کرتے ہیں جن میں یاسر الخبیس، العسکری، الوائلی اور دوسرے رافضی ہیں لیکن آپ نے دیکھا کہ ہم نے ان کے خیال کا رد پیش کیا اب ان کے پاس اس پر کھڑے رہنے کے لئے ٹانگ نہیں ہے کیونکہ وہ ان کے اماموں نے ابنِ سباء کو لعنت کر کے کھینچ لی ہے۔

حصہ سوم

شیعہ اعتراض ابنِ سباء کا وجود ہے لیکن شیعیت کا بانی یہ نہیں ہے۔

صفحہ 6 از 8