رفض و شیعت کا موجد ابن سباء ایک یہودی - ردِ رافضیت | دفاع…

رفض و شیعت کا موجد ابن سباء ایک یہودی

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 7 از 8

جو شیعہ یہ بات مانتے ہیں کہ ابنِ سباء کا وجود ہے تو وہ یہ نہیں مانتے کہ شیعیت کا مؤجد یہ ہے ہم سنی جب یہ کہتے ہیں کہ ابنِ شیعیت کا بانی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ایسی جماعت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو کہ اہلِ بیت سے محبت کرتی ہے بلکہ ہم اس کی نشاندہی کر رہے ہیں جو رافضی ہیں اور منافقانہ عقائد رکھتے ہیں یعنی سیدنا ابوبکرؓ وسیدنا عمرؓ کو کافر کہنا، قیامت سے پہلے امام کا واپس آنا اور ولایت تقوینیہ پر ایمان رکھنا وغیرہ۔

شیعوں کا یہ ٹولہ کم سے کم اس حد تک اپنے بڑوں کی عزت کرتا ہے کہ وہ اپنی کتب میں موجود ابنِ سباء یہودی کا انکار نہیں کرتا پر وہ اس بات کو رد کرتے ہیں کہ شیعیت کا ابنِ سبا یا سبائی گروہ سے کوئی تعلق ہے وہ اس کے ثبوت میں آپ کو محمد بن حسن طوسی (رافضیوں کا مشہور عالم متوفی 460) کا حوالہ دیتے ہیں کہ وہ خود ابنِ سباء یہودی کو کافر مانتے ہیں

(رجال طوسی: صفحہ 75 نمبر 718)

طوسی کہتا ہے ابنِ سباء کافر ہوگیا تھا اور وہ غلت میں پڑ گیا تھا

یہ رافضی الکاشی کی صحیح روایات بھی پیش کرتے ہیں حوالہ کے طور پر جس میں اماموں نے ابنِ سباء یہودی پر لعنت کی ہے وہ اسی بناء پر ہی مانتے ہیں کہ ابنِ سباء یہودی کا وجود تھا لیکن شیعہ مذہب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ابنِ سباء یہودی ایسا آدمی ہے جس کو لعنت کی گئی ہے اماموں کی طرف سے کیونکہ اس نے امیر المؤمنین سیدنا علیؓ کی امامت کے بجائے ان کے رب ہونے کا پرچار شروع کردی۔

یہ لوگ اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ حقیقت کو مسخ کیا جائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ شیعہ علماء اس بات کو نہ صرف تسلیم کرتے ہیں کہ ابنِ سباء نے سیدنا علیؓ کے رب ہونے کا پرچار کیا اس کے ساتھ یہ پہلا شخص ہے جس نے شیعوں کے دو بنیادی عقائد کی پرچار بھی کیا جو کہ صرف شیعوں کے ٹولہ میں پائے جاتے ہیں۔

1۔ ابنِ سباء یہودی وہ پہلا شخص ہے جس نے اعلانیہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ، سیدنا عثمانؓ اور صحابہؓ پر کھلا تبراء کیا بلکہ ان سے بیزاری کا اعلان کیا اور یہ بکواس بھی کی اسے ایسا کرنے کو سیدنا علیؓ نے کہا ہے (جیسے آجکے رافضی دعویٰ کرتے ہیں) سیدنا علیؓ اسے قتل کرنے والے تھے لیکن لوگوں کے احتجاج کی وجہ سے اسے جلا وطن کردیا اس بات کو نوبختی، الکشی، سعد بن عبداللہ القمی نے قبول کیا ہے

2۔ ابنِ سباء وہ پہلا شخص ہے جس نے شہادت دی کہ امامت علی کا ماننا فرض ہے اور اس نے اعلانیہ ان کے دشمنوں سے بیزاری کی اور انہیں کافر قرار دیا (جو آج کے رافضیوں کے ایمان کا حصہ ہے) یہ شیعہ علماء کی طرف سے ایک اور اقرار ہے جسے آسانی سے رد نہیں کیا جا سکتا۔

اسی کی بنیاد ہر جس نے شیعوں کی مخالت کی تو بلا جھجک کہا کہ رفض کی بنیاد یہود کے عقائد پر ہے اور یہی بات جو کہ جس کو مسلمان مانتے ہیں اور اہلِ سنت کہتے ہیں شیعہ عقائد کی بنیاد ابنِ سباء یہودی کے عقائد پر ہے اور پھر رافضیوں کے بے تکے سوالوں کے جواب میں یہی کہتے ہیں مثال کے طور پر رافضی کہتے ہیں

شیعہ کا کون سا اصول ابنِ سباء سے لیا گیا ہے ، شیعہ کی کس فقہی مسلے کو لیا گیا ہے ،کیا ہمارے امام ابنِ سباء کی تعریف کرتے تھے ، ہم نے ابنِ سباء سے کتنے احادیث لیں ہیں۔

کیا شیعہ پاگل یا جاہل ہیں کہ 1400 سالوں میں یہ نہیں جان سکے کہ ان کے عقائد کی بنیاد جھوٹی روایات پر ہے جو عبداللہ بن سباء کی طرف سے آئیں ہیں 

اگر ابنِ سبا یہودی شیعوں کے لئے اتنا اہم ہے تو شیعوں نے اماموں کی طرح اس کی روایات کو کیوں نہیں نقل کیا یقیناً اگر ابنِ سباء ان کا آقا ہوتا تو وہ ضرور اس کی روایات نقل کرتے اور اس پر فخر کرتے 

اس قسم کے سوالات کرنے والے العسکری ، یاسر الخبیث ،عمار نخوانی ، الوائلی وغیرہ ہیں اور ان کا سادہ سا جواب یہ ہے

کسی بھی مسلم سنی عالم نے کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ابنِ سباء کی تقلید کے لائق ہے یا اس کی تقلید رافضیوں کے لئے ضروری ہے وہ صرف یہ لکھتے آئے ہیں کہ رافضی صرف اس کے یہودی خیالات کی پیروی کر رہے ہیں مثال کے طور پر آج کے عیسائی کبھی یہ نہیں مانتے کہ وہ ان کے مذہب کی بنیاد مسیح علیہ السلام کی عقائد پر نہیں ہے بلکہ پاگل جاہل کے عقائد پر ہے وہ سمجھتے ہیں کہ وہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے شیعہ (پیروکار) ہیں اسی طرح شیعیت ایک ایسی جماعت ہے جس کی بنیاد رکھنے والا ایک یہودی ہے خاص طور پر صحابہؓ کی تکفیر اور امامت علی کا فرض ہونے کے عقائد اہلِ بیت کے نہیں ہیں بلکہ یہ عقائد ابنِ سباء یہودی کے ہیں جس نے ان عقائد کی بنیاد رکھی اور وہی بقول شیعہ علماء کے پہلا شخص ہے جس سے ان عقائد کا لوگوں میں پرچار اسی لئے کہا جاتا ہے اور تا قیامت کہا جائے گا۔

ابنِ سبا رافضیوں کا روحانی باپ ہے اور ایسے عقائد کی بنیاد رکھنے والا ہے جو کسی بھی فرقے میں نہیں ملتے سوائے رافضیوں کے (خاص اثناء عشریوں میں)

جو بھی کہتے ہیں کہ ابنِ سباء نے شیعیت کی بنیاد رکھی اس کی وجہ اس کے عقائد ہیں خاص کر صحابہؓ کی تکفیر ، ،سیدنا علیؓ کے بارے میں غلو اور وہ ان عقائد کی وجہ سے ہی مشہور ہے شاید کوئی کوشش کرے کہ ایسے عقائد ابنِ سباء سے پہلے بھی تھے لیکن وہ اس کے لئے کوئی بھی چیز نہیں ڈھونڈ سکتا ۔ اگر کوئی کہے کہ ابنِ سبا نے شیعیت کی بنیاد رکھی جس میں شیعیت کے سب کے سب عقائد بشمول امامت کے آتے ہیں تو اس بات کا کسی نے بھی دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی ایسی چیز لکھی ہے مقصد کی بات یہ ہے ابنِ سباء یہودی نے رفض کی بنیاد رکھی جو کہ اہلِ بیت کے نام پر کی گئی اور آج تک اثناء عشری فرقہ اس کی تقلید میں صحابہ کرامؓ خاص کر سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی تکفیر کرتا آرہا ہے۔

نتیجہ:

صفحہ 7 از 8