مؤذن کی شہادت اور اذان دینے کے لیے مسلمانوں کا باہمی مسابقہ
علی محمد الصلابیمعرکہ قادسیہ فتح کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو اس بات کا غماز ہے کہ دور اوّل کے مسلمان اپنے مذہبی معاملات اور عبادات الہٰی کا کتنا زبردست اہتمام کرتے تھے۔ واقعہ یوں ہے کہ اس دن مسلمانوں کے مؤذن جہاد کرتے ہوئے شہید کر دیے گئے اور جب اذان کا وقت ہوا تو اذان دینے کے لیے مسلمان حضرات ایک دوسرے سے سبقت لے جانا چاہتے تھے اور یہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ اس کے لیے میان سے تلواریں باہر آگئیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے یہ منظر دیکھا تو ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اور جس آدمی کا نام نکلا اس نے اذان دی۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 390)
یقیناً ایک عمل صالح کے لیے اس قدر باہمی مقابلہ اس دور کے مسلمانوں کی ایمانی قوت کی دلیل ہے، کیونکہ اذان کے ذریعہ سے دنیا کی کسی کمائی، جاہ و منصب کی طلب یا شہرت و ناموری کے حصول کا کوئی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس تنافس و باہمی مقابلہ کی محض ایک ہی وجہ تھی وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے موذنوں کے لیے قیامت کے دن جو عظیم ثواب و بدلہ تیار کر رکھا ہے اسے کسی طرح حاصل کیا جا سکے۔ پس ایسی قوم جو اذان دینے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانا چاہتی ہے، وہ بدرجہ اولیٰ اس سے عظیم عبادات اور ثواب الہٰی کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھ نکلنے کے لیے کوشاں ہوگی، بلا شبہ عبادت الہٰی کا یہی شوق جہاد فی سبیل اللہ اور اسلامی دعوت کی ترقی وکامیابی کا عظیم راز تھا۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 470)