رافضیت سے متعلق عمومی کلام یہودو روافض میں مشابہت - ردِ…

رافضیت سے متعلق عمومی کلام یہودو روافض میں مشابہت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 6

رافضیت سے متعلق عمومی کلام

یہودو روافض میں مشابہت 

ابن المطہر نے اپنی کتاب کا نام ’’منہاج الکرامۃ فی معرفۃ الامامۃ‘‘ رکھا ہے۔یہ کتاب اس بات کی زیادہ حق دار تھی کہ اس کا نام ’’ منہاج الندامۃ ‘‘ رکھاجائے۔ جیسا کہ اس کا مصنف ہے؛ جو کہ [اپنے بارے میں ] طاہر ہونے کا دعوی کرتا ہے ‘ مگر حقیقت میں اس کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ پاک نہیں کرتا چاہتے۔ بلکہ یہ سرکش طاغوت اور اہل نفاق میں سے ہے ۔ اس کو مطہر کہنے کے بجائے پلید اور نجس کہنا زیادہ مناسب تھا۔ اور دل کی پلیدگیوں میں سب سے بڑی پلیدی یہ ہے کہ جو لوگ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ اوربہترین اہل ایمان ہیں ‘ ان کے خلاف حسد و بغض ہو۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بعد مال ِ فے میں صرف ان لوگوں کا حصہ رکھا ہے جو یہ کہتے ہیں : 

﴿رَبَّنَآ اغْفِرْ لَنَا وَلِاِِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِِنَّکَ رَئُ وْفٌ رَحِیْمٌ﴾ (الحشر۱۰)

’’ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے اور ایمانداروں کے لیے ہمارے دل میں بغض اور دشمنی نہ ڈال؛اے ہمارے رب بیشک تو شفقت و مہربانی کرنے والا ہے۔‘‘

شیعہ خبث باطن اور ہوائے نفس اور دیگر کئی ایک یہودی اخلاقیات میں یہود سے ملتے جلتے ہیں ‘اور غلو و جہالت اور دیگر کئی ایک عیسائی اخلاقیات میں نصاریٰ کے ہم نوا ہیں ۔بعض اسباب کی وجہ سے یہودیوں سے مشابہت رکھتے ہیں تو بعض اسباب کی جہ سے عیسائیوں کے مشابہ ہیں ۔ لوگ شروع سے لیکر آج تک ان کے بارے میں ان خیالات کا اظہار کرتے چلے آئے ہیں ۔ ان کے متعلق سب سے زیادہ معلومات رکھنے والے امام شعبی رحمہ اللہ اور ان جیسے دوسرے علماء کوفہ تھے۔

امام شعبی رحمہ اللہ سے ثابت ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے :

’’میں نے رافضیوں سے بڑھ کر بیوقوف کسی کو نہیں پایا[ان کے لیے یہاں پر ’’خشبیہ ‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے؛ جو کہ خشب کی طرف منسوب ہے؛ یعنی لکڑی والے۔ انہیں یہ نام دینے کی وجہ یہ ہے یہ لوگ اس دور میں تلوار سے نہیں لڑتے تھے۔ بلکہ لکڑ سے لڑتے تھے۔ اور کہتے تھے: اسلحہ کا استعمال کرنا اس وقت تک حرام ہے جب تک امام غائب کا ظہور نہ ہوجائے۔ اور لوگوں کو پتھر مار کر اور گلا گھونٹ کر یا لکڑ سے مار مار کر قتل کرتے تھے۔ ان کی مزید تفصیل آگے آئے گی۔ [الفصل لابن حزم ۵؍۴۵]]۔اگر یہ جانوروں میں سے ہوتے تو گدھے ہوتے، اور اگر پرندوں میں سے ہوتے تو کوّے ہوتے۔ اور اللہ کی قسم ! اگر میں چاہوں کہ وہ میرے گھر کو سونے سے بھر دیں ، اور میں ان کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ایک جھوٹ بولوں تو وہ ایسا کر گزریں گے۔ لیکن اللہ کی قسم ! میں کبھی بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ پر جھوٹ نہیں بولوں گا۔‘‘

آپ سے یہ کلام بہت تفصیل کیساتھ منقول ہے لگتا ہے کہ زیادہ تفصیل شعبی کے علاوہ کسی دوسرے عالم سے نقل کی ہے ۔

ابن شاہین [حسن بن موسی نو بختی کا تعلق کبار شیعہ امامیہ علماء سے تھا۔اس نے اپنی کتاب’’فرق الشیعہ ص ۱۹ ‘‘ میں کہا ہے: ’’جب حضرت علی رضی اللہ عنہ قتل ہوگئے تو جو لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے منصوص امام مانتے تھے؛ وہ تین گروہوں میں بٹ گئے۔ ان میں سے ایک فرقے نے یہ عقیدہ اختیار کرلیا کہ آپ نہ ہی قتل ہوئے ہیں اور نہ ہی مرے ہیں ؛ اور نہ ہی قتل ہوں گے اورنہ ہی مریں گے جب تک کہ سارے عرب کو اپنی لاٹھی سے ہانک نہ لیں ۔اورزمین کو عدل و انصاف سے ایسے نہ بھر لیں جیسے وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وقف کا کہنے والا آپ کی امت میں یہ پہلا فرقہ ہے۔ اور یہی وہ لوگ تھے؛ جنہوں نے سب سے پہلے غلو کا عقیدہ اختیار کیا۔ اس فرقے کو سبائیہ بھی کہا جاتاہے؛ جو عبداللہ بن سبا کے ساتھی تھے۔یہی وہ انسان تھا جس نے حضرت ابوبکر صدیق؛ حضرت عمر فاروق اورحضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم پر طعنہ زنی کی ابتداء کی ۔ اور ان پر تبرأ کرنا شروع کیا۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ کر اس بارے میں پوچھا؛ تو اس نے اس بات کا اقرار کیا کہ اس نے ایسا کہا ہے۔ تو آپ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔ اہل علم کی ایک جماعت نے بیان کیا ہے کہ یہ عبداللہ بن سبأ یہودی تھا؛ اس نے اسلام کا اظہار کیا؛ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولایت کا پرچار کرنے لگا۔ جب وہ یہودی تھا تو کہا کرتا تھا کہ حضرت یوشع بن نون موسی علیہ السلام کے بعد وصی ہیں ۔تو اسلام کے بعد یہی بات وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ وصی ہیں ۔ یہ پہلا انسان ہے جس نے امامت کے فرض ہونے کا عقیدہ ایجاد کیا۔ اور آپ کے مخالفین سے برأت کا اظہار کرنے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ شیعہ کے مخالفین کہتے ہیں : ’’شیعیت در اصل یہودیت سے مأخوذ ہے۔‘‘[مقالات الإسلامیین للأشعری ۱؍۸۵؛ التبصیر في (]رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’ اللطف في السنۃ‘‘ میں فرماتے ہیں :

’’ہم سے محمد بن القاسم بن ہارون نے بیان کیا‘ وہ کہتے ہیں : ہم سے احمد بن ولید واسطی نے بیان کیا ؛ وہ کہتے ہیں : ہم سے جعفر بن نصیر الطوسی الواسطی نے بیان کیا ‘ وہ عبد الرحمن بن مالک بن مغول سے روایت کرتے ہیں ‘ وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : مجھ سے شعبی نے کہا :

صفحہ 1 از 6