رافضیت سے متعلق عمومی کلام یہودو روافض میں مشابہت - ردِ…

رافضیت سے متعلق عمومی کلام یہودو روافض میں مشابہت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 6

’’میں تمہیں گمراہ کرنے والی ہوا پرستی سے خبر دار کرتا ہوں اوران میں سب سے بڑھ کر برے رافضی ہیں ۔یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے خوف سے اور ثواب کی امید پر اسلام میں داخل نہیں ہوئے لیکن اہل اسلام سے بیزاری اور ان پر سرکشی کرتے ہوئے اسلام میں داخل ہوئے؛بلکہ اہل اسلام سے انتقام لینے کیلئے اسلام کا اظہار کرنے لگے ۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں آگ میں جلایا تھااور انہیں شہروں سے نکال دیا تھا۔ انہی میں سے ایک عبد اللہ بن سباء یہودی تھا جوکہ صنعاء کے یہود میں سے تھا؛ جسے ساباط کی طرف ملک بدر کیاتھا۔اور عبد اللہ بن یسار کو حاذر[الدین ص ۷۱۔ الفرق بین الفرق ص ۱۴۳۔ الشیعۃ و التشیع از علامہ ظہیر ص ۴۶۔] ابن طاہر البغدادی نے اپنی کتاب [الفرق بین الفرق ص ۱۸۔]پر کہا ہے: سبئیہ وہ سب سے پہلا فرقہ ہے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اپنی بدعت کا اظہار کیا۔ان میں سے بعض حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: آپ ہی خدا ہیں ۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے بعض کو جلا ڈالا؛ اور بعض کو ساباط کی طرف ملک بدر کردیا۔ ابو حفص عمر بن احمد بن عثمان البغدادی ‘ ۳۸۵ھ میں انتقال ہوا ؛ دیکھیں : تذکرۃ الحفاظ ۳؍۱۸۳] کی طرف ملک بدر کیا۔

رافضیوں کا فتنہ بھی یہودیوں کی طرح ہے۔[اس کی وجہ ان کے عقائد میں یگانگت ہے ۔ مثال کے طور پر:]

۱۔ یہودی کہتے ہیں کہ :’’بادشاہت صرف آل ِ داؤد میں ہی ہوسکتی ہے۔ جب کہ رافضی کہتے ہیں : ’’امامت صرف آل علی بن ابی طالب میں ہی ہوسکتی ہے۔ ‘‘

۲۔ یہودی کہتے ہیں : ’’جہاد اس وقت تک نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ مسیح منتظر نہ نکلے اور آسمان سے تلوار اترے ۔‘‘

رافضی کہتے ہیں : ’’جہاد فی سبیل اللہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ مہدی منتظرکا خروج ہو؛ اور آسمان سے ایک آواز لگانے والا آواز لگائے ۔‘‘

۳۔ یہودی نماز مغرب میں تاخیر کرتے ہیں یہاں تک کہ ستارے آپس میں مل جائیں ؛ رافضی بھی ایسے ہی کرتے ہیں ۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث میں ثابت ہے آپ نے فرمایا: ’’ میری امت اس وقت تک خیر پر قائم رہے گی جب تک یہ نماز مغرب میں ستاروں کے مل جانے تک دیر نہ کرنے لگ جائیں ۔‘‘[رواہ أبو داؤد في السنن ۱؍۱۶۹؛ وابن ماجۃ ۱؍۲۲۵۔ وأحمد في المسند ۴؍۱۴۷۔]

۴۔ یہود قبلہ سے کچھ ہٹ کر نماز پڑھتے ہیں ‘ ایسے ہی رافضی بھی کرتے ہیں ۔

۵۔ یہود نماز میں سستی کرتے ہیں ‘ ایسے ہی رافضی بھی سستی برتتے ہیں ۔

۶۔ یہودی نماز میں اپنے کپڑے لٹکا کر رکھتے ہیں ؛ رافضی بھی ایسے ہی کرتے ہیں ۔

۷۔ یہود کے ہاں عورتوں کی عدت نہیں ہے۔ ایسے ہی رافضہ کے ہاں بھی ہے۔

۸۔ یہودیوں نے تورات میں تحریف کی ؛ رافضیوں نے قرآن میں تحریف کی۔

۹۔ یہودی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں ‘رافضی بھی ایسے ہی کہتے ہیں ۔

۱۰۔ یہودی اہل ایمان کو اخلاص کے ساتھ سلام نہیں کرتے بلکہ [السلام علیکم کے بجائے ] السام علیکم [ تم پر موت ہو] کہتے ہیں ۔ اور رافضی بھی ایسے ہی کرتے ہیں۔

۱۱۔ یہودی جری اورمرماہی [ مچھلی کی اقسام ] نہیں کھاتے ؛ ایسے ہی رافضی بھی کرتے ہیں ۔

۱۲۔ یہودیوں نے خر گوش کواور ’’تِلی ‘‘کو حرام قرار دیا ؛ رافضہ نے بھی ایسے ہی کیا۔

۱۳۔ یہودی موزوں پر مسح کرنا جائز نہیں سمجھتے۔ رافضہ بھی ایسے ہی نظریہ رکھتے ہیں ۔

۱۴۔ یہودی ہر مسلمان کے خون کو حلال سمجھتے ہیں [یہودیوں کی بابت]اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن میں خبر دی ہے :

﴿قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ ﴾ (آل عمران ۷۵)

’’وہ کہتے ہیں کہ جاہلوں کا مال مار لیں توہم پر کوئی گناہ نہ ہو گا۔‘‘

رافضی بھی ایسے ہی کرتے ہیں ۔[وہ کہتے عامہ کے اموال کھانا ہمارے لیے جائز ہیں ]۔

۱۵۔ یہودی نماز میں اپنی مینڈھیوں پر سجدہ کرتے ہیں ۔ رافضی بھی ایسے ہی کرتے ہیں [تربت کربلا کی ٹکیہ پر سجدہ کرتے ہیں ]۔

۱۶۔ یہودی نامکمل رکوع سے سجدہ میں چلے جاتے ہیں ۔ اوریہی حال روافض کا بھی ہے ۔

۱۷۔ یہود جبرئیل سے بغض رکھتے ہیں ، اور کہتے ہیں کہ : یہ ملائکہ میں سے ہمارا دشمن ہے۔ ایسے ہی رافضہ بھی کہتے ہیں کہ : ’’ جبرئیل نے غلط کیا وحی لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا، اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔‘‘

۱۸۔ اس ایک خصلت میں رافضی عیسائیوں سے مشابہت رکھتے ہیں ؛ عیسائی کہتے ہیں ہم پر عورتوں کاکوئی مہر نہیں ‘ بس صرف ان سے فائدہ اٹھالینا چاہیے ۔ رافضی بھی اپنی عورتوں سے متعہ کرتے ہیں ۔

یہودیوں اور عیسائیوں کی رافضیوں پر دو وجہ سے فضیلت ہے۔ یہودیوں سے پوچھا گیا کہ: تمہاری ملت میں سب سے بہتر لوگ کون ہیں ؟ توکہنے لگے :’’ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی ہیں ۔‘‘

اورنصاریٰ سے پوچھا کہ: تمہاری ملت میں سب سے بہتر لوگ کون ہیں ؟

توکہنے لگے :’’ عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھی ہیں ۔‘‘

رافضیوں سے پوچھا گیا کہ تمہاری ملت میں سب سے برے لوگ کون ہیں ؟

توکہنے لگے : ’’ محمد کے ساتھی ہیں ۔‘‘

انہیں ان (اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لیے استغفار کرنے کا حکم دیا گیا، تو انہوں نے (استغفار کے بجائے) سب و شتم کیا۔

سو یہ برہنہ تلوار قیامت تک ان کے سروں پر لٹکتی رہے گی۔ان کے قدم قیامت تک جم نہیں پائیں گے۔ او رنہ ہی ان کا جھنڈا بلند ہوگا اور نہ ہی ان کا ایک بات پر اجتماع ہوسکتا ہے۔ ان کی دعوت راندی ہوئی ہے۔ ان کا کبھی اتفاق نہیں ہوسکتا۔ ان کے اجتماع میں بھی تفریق ہے۔جب بھی یہ جنگ کی آگ بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں ،تو اللہ تعالیٰ اس آگ کوبجھا دیتے ہیں ۔‘‘

(میں کہتا ہوں ):امام شعبی رحمہ اللہ سے ثابت ہے آپ فرماتے ہیں :

’’اگر شیعہ جانوروں میں ہوتے تو گدھے ہوتے اور اگر پرندوں میں سے ہوتے تو کوّے ہوتے۔‘‘

ابن شاہین کہتے ہیں : ہم سے محمد بن عباس نحوی نے بیان کیا ‘ وہ کہتے ہیں : ہم سے ابراہیم الحربی نے بیان کیا ؛ وہ کہتے ہیں : ہم سے ابو ربیع زہرانی نے بیان کیا ‘ وہ کہتے ہیں : ہم سے وکیع بن جراح نے بیان کیا۔ وہ کہتے ہیں : ہم سے مالک بن مغول نے بیان کیا۔ اور پھر یہی کلام نقل کیا ۔ یہ سیاق عبدالرحمن بن مالک بن مغول کی سند سے امام شعبی سے منقول ہے ۔

صفحہ 2 از 6