رافضیت سے متعلق عمومی کلام یہودو روافض میں مشابہت - ردِ…

رافضیت سے متعلق عمومی کلام یہودو روافض میں مشابہت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 6

ابو عاصم خشیش بن اصرم [خشیش بن اصرم بن اسود ؛ ابو عاصم النسائی ؛ آپ کا انتقال ۲۵۳ھ میں ہوا۔ تہذیب التہذیب ۳؍۱۴۳۔]نے اپنی کتاب میں روایت کیا ؛ انہوں نے ابو عمرو الطلمنکی کی سند سے روایت کیا ہے ‘ان کی کتاب ’’ الاصول ‘‘ میں ہے ؛ آپ فرماتے ہیں : ’’ ہم سے ابن جعفر الراقی نے بیان کیا ؛ وہ عبدالرحمن بن مالک بن مغول سے روایت کرتے ہیں ‘ وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں ‘ وہ فرماتے ہیں میں نے عامر الشعبی سے کہا :’’ آپ کو ان لوگوں سے کس چیز نے موڑا، جب کہ آپ انہی میں سے تھے، اور ان کے بڑے سردار تھے ؟‘‘

تو انہوں نے فرمایا: ’’ میں نے دیکھا کہ وہ نصوص کوایسے کاٹ کر لیتے ہیں جن کا کوئی منہ سرا ہی نہیں ہوتا۔ پھر مجھ سے کہا : ’’ اے مالک ! اگر میں چاہوں کہ وہ اپنی گردنیں غلام بناکر میرے سامنے پیش کردیں ، اور میرے گھر کو سونے سے بھر دیں ، یا وہ میرے اس گھر کا حج کریں ، اور میں جناب سید نا علی رضی اللہ عنہ پر ایک ہی جھوٹ بولوں ، تو وہ ایسا کر گزریں گے۔ ‘‘ مگر اللہ کی قسم ! میں حضرت علی رضی اللہ عنہ پر جھوٹ ہر گز نہیں بولوں گا۔‘‘

اے مالک ! میں نے تمام بدعتی فرقوں کا مطالعہ کیا ہے، رافضہ سے بڑھ کر بیوقوف کسی کو نہیں پایا۔اگر یہ لوگ چوپائے ہوتے تو گدھے ہوتے؛ اور اگر پرندوں میں سے ہوتے تو کوّے ہوتے۔ ‘‘

اے مالک ! یہ لوگ دین اسلام میں رغبت اور اللہ کی رضا مندی کے حصول اور اس کے خوف کی وجہ سے مسلمان نہیں بنے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عذاب ہے۔ اوران کی اسلام پر سرکشی اور بغاوت۔ یہ چاہتے ہیں کہ دین اسلام کو ایسے بگاڑ دیں جیسے پولس بن یوشع (یہودی بادشاہ) نے عیسائیت کو بگاڑا تھا۔

ان کی نماز ان کے کانوں سے اوپر تجاوز نہیں کرتیں ۔ انہیں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے آگ میں جلایاتھا۔ اوران میں سے کچھ کو مختلف علاقوں میں جلاوطن کیا۔ انہی میں سے عبد اللہ بن سبا ؛صنعاء کا یہودی بھی تھا جسے ساباط کی طرف جلا وطن کیا۔ اور ایسے ہی ابوبکر الکروس کو جابیہ کی طرف جلا وطن کیا۔ اور ان میں سے ایک قوم کو آگ سے جلادیا؛ (یہ وہ لوگ تھے) جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو کہنے لگے : ’’ آپ وہی ہیں ۔‘‘

حضرت علی نے کہا : میں کون ہوں ؟

تو کہنے لگے : ’’آپ ہی ہمارے رب ہیں ۔ ‘‘

(حضرت علی رضی اللہ عنہ ) نے آگ جلانے کا حکم دیا۔ جب شعلے بھڑکنے لگے تو حکم دیا کہ انہیں آگ میں ڈال دیا۔

ان ہی کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’ جب برائی کو حد سے بڑھا ہوا دیکھا تو میں نے آگ جلائی، اور (انہیں جلانے کے لیے اپنے غلام) قنبر کو آواز دی ؛ (اس نے انہیں آگ میں جلا دیا)۔‘‘

۱۹۔یہود نماز میں اپنا کپڑا لٹکائے رکھتے ہیں ۔رافضی بھی ایسے ہی کرتے ہیں ۔ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جس نے اپنا کپڑا لٹکایا ہوا تھا تو آپ نے اسے نرمی سے کپڑا اوپر کرنے کو کہا۔ ‘‘

۲۰۔ یہودیوں نے تورات میں تحریف کی تو رافضی قرآن میں تحریف کرتے ہیں ۔

۲۱۔ یہودی تمام مسلمانوں کے خون کو حلال تصور کرتے ہیں ‘ ایسے ہی رافضی بھی عقیدہ رکھتے ہیں ۔

۲۲۔ یہودی لوگوں کو دھوکا دینا حلال سمجھتے ہیں ۔ ایسے ہی رافضی بھی کرتے ہیں ۔

۲۳۔ یہودی تین طلاق کی کوئی اہمیت نہیں سمجھتے ؛ بس ہر حیض پر ایک طلاق شمار کرتے ہیں ۔ ایسے ہی رافضی بھی کرتے ہیں ۔

۲۴۔ یہودی باندیوں سے عزل کا عقیدہ نہیں رکھتے۔ رافضہ بھی ایسے ہی عقیدہ رکھتے ہیں ۔

۲۵۔ یہود قبر میں لحد نہیں بناتے۔رافضی بھی ایسے ہی کرتے ہیں جب کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لحد بنائی گئی تھی۔

صفحہ 3 از 6