رافضیت سے متعلق عمومی کلام یہودو روافض میں مشابہت - ردِ…

رافضیت سے متعلق عمومی کلام یہودو روافض میں مشابہت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 6

آپ نے ان سے پوچھا : ’’ رفضتمونی‘‘[ کیونکہ تخریبی سرگرمیاں ان کے دین کا ایک حصہ ہیں ۔اس سلسلے میں ابوجعفر کلینی کی ایک شر انگیز عبارت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں ،کلینی نے لکھا ہے:’’ابوبکر سے لے کرآج تک تمام سنی حکمران غاصب وظالم ہیں ،کیونکہ حکمرانی کا حق صرف شیعہ اماموں یا ان کی امامت کو ماننے والے شیعوں کو ہے اور شیعوں کا فرض ہے کہ تمام سنی حکومتوں کو تباہ کرنے میں لگے رہیں ،کیونکہ اگر انہوں نے ایسانہ کیا اور سنی حکومت میں اطمینان سے رہے تو چاہے یہ شیعہ کتنے ہی عبادت گذار کیوں نہ ہوں عذاب الٰہی کے مستحق ہوں گے ‘‘ (اصول کافی ص:۲۰۶)۔ ۳۸۔ ان مشابہات میں سے ایک : ان کا یہ کہنا ہے کہ جو کوئی ان سے دشمنی رکھے گا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا، اور ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ ایسی ہی بات یہود اور نصاریٰ نے کہی تھی : ﴿وَقَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ہُوْدًا أَوْ نَصَارَی﴾ (البقرہ: ۱۱۱) ’’ اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘ ۳۹۔ ان میں سے ایک : ائمہ [مسلمان حکمران ] کی نصرت سے پیچھے رہنا ہے۔ جیسا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت زید ( بن حسین ) کے ساتھ کیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں رسوا کرے ؛ اہل ِ بیت سے محبت کے کتنے بڑے دعوے کرتے ہیں ، اور ان کی نصرت کے وقت کتنے بزدل ثابت ہوتے ہیں ۔ یہود نے بھی تو اپنے نبی موسیٰ سے یہی کہا تھا : ﴿ فَاذْہَبْ أَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا اِنَّا ہٰہُنَا قَاعِدُوْنَ﴾ (مائدہ:۲۴) ’’تم اور تمہارا رب جاؤ اور لڑو ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔‘‘ ۴۰۔ ایک مشابہت یہ بھی ہے کہ یہود پرذلت اور رسوائی مسلط کردی گئی ہے ؛ بھلے وہ جہاں کہیں بھی ہوں ، ان پر بھی ذلت مسلط ہے۔ یہاں تک کہ اس ذلت اور خوف کے مارے انہوں تقیہ کا عقیدہ ایجاد کیا۔ ۴۱۔ ان مشابہات میں سے ایک یہ ہے کہ یہود تورات کواپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں ، اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ ایسے یہ لوگ بھی اپنے ہاتھوں سے جھوٹ لکھتے ہیں ، اور کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے؛ اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اہل بیت پر جھوٹ بولتے ہیں ۔ حضرت زید رحمہ اللہ کے خروج اوررافضہ کے ساتھ ان کے اختلاف اور ان کانام رافضہ پڑنے کا سبب ؛اورحضرت زید کے مقتل و صلب کا واقعہ علامہ اشعری نے اپنی کتاب ’’مقالات الاسلامیین ۱؍۱۲۹پر بیان کیا ہے۔ اور فخر الرازی نے یہی قصہ اختصار کے ساتھ اپنی کتاب ’’اعتقادات فرق المسلمین و المشرکین ص ۵۲ پر بیان کیا ہے۔ ان دونوں نے بیک زبان ان کے رافضی نام پڑنے کا سبب ان لوگوں کا حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہماکی خلافت کا انکار بیان کیا ہے؛ کوئی دوسرا سبب نہیں ۔]....’’کیا تم نے مجھے چھوڑ دیا ہے؟‘

یہیں سے ان کا نام رافضی پڑ گیا ‘ اس لیے کہ انہوں نے زید بن علی کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ اور جن لوگوں نے آپ کا ساتھ دیا تھا ‘ انہیں زیدیہ کہا جانے لگا۔ اس لیے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو زید بن علی کی طرف منسوب کرتے تھے۔

جب آپ کو پھانسی پر لٹکایاگیا تورات کو [کچھ شیعہ ]عابد آتے اور اس لکڑ کے پاس عبادت کرنے لگتے ۔ امام شعبی رحمہ اللہ کی وفات خلیفہ ہشام کی خلافت کے شروع اور اس کے بھائی خلیفہ یزید بن عبد الملک کی خلافت کے آخری ایام میں ہوئی ہے ۔یہ تقریباً ۱۰۵ھ کا زمانہ ہے ۔ اس وقت تک لفظ ’’ رافضہ ‘‘ معروف نہیں تھا۔

اس سے ان احادیث کے من گھڑت ہونے کا بھی پتہ چل جاتا ہے جن میں ’’ رافضہ ‘‘ کا لفظ آیا ہے ۔ مگر اتنا ضرور تھا کہ انہیں اس کے علاوہ دوسرے ناموں سے پکارا جاتا تھا۔ جیسا کہ انہیں خشبیہ بھی کہا جاتا تھا۔ اس لیے کہ یہ لوگ کہا کرتے تھے کہ : ہم تلوار کے ساتھ جہاد صرف امام معصوم کی موجود گی میں ہی کریں گے۔پس یہ لوگ لکڑی سے لڑا کرتے تھے۔

امام شعبی رحمہ اللہ سے منقول بعض روایات میں آیا ہے ‘ آپ نے فرمایا: ’’ میں نے خشبیہ[شیعہ] سے بڑھ کر بیوقوف کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘ تو ان روایات میں رافضہ کو بالمعنی تعبیر کیاگیا ہوگا۔عبد الرحمن کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کے سیاق و سباق سے ظاہر ہوتا ہے کہ : یہ کلام عبد الرحمن بن مالک بن مغول کی تالیف ہے ۔اور اس کا کچھ حصہ انہوں نے ضرور امام شعبی سے سنا ہوگا ۔ بھلے پھر اسے انہوں نے اپنے الفاظ میں بیان کردیا ہو۔ اس لیے کہ انہوں نے اپنے زمانہ کے شیعہ میں ایسے برے امور کا مشاہدہ کرلیا تھا۔ یا ان کے بارے میں جو کچھ سنا ہو ‘ اس کی بنیاد پر ایسے کہا ہوگا۔ یا دیگر اہل علم کے اقوال ان کے بارے میں سنے ہوں گے۔ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اس میں دونوں باتیں موجود ہوں ۔ یا کچھ کلام امام شعبی کا ہو اور کچھ دیگر علماء کرام کا ۔ خواہ جو بھی حال ہو ‘یہ کلام اتنی اسناد سے منقول ہے کہ اب دیگر کسی دلیل کی ضرورت نہیں ۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رافضی ایسے کرتے ہیں ۔ اس سے مراد بعض رافضی ہیں ‘سارے نہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَ قَالَتِ الْیَہُوْدُ عُزَیْرُنِ ابْنُ اللّٰہِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ ﴾ (التوبہ۳۰)

’’اوریہود ی کہتے ہیں کہ عزیر (پیغمبر )اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہے اورنصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿وَ قَالَتِ الْیَہُوْدُ یَدُ اللّٰہِ مَغْلُوْلَۃٌ غُلَّتْ اَیْدِیْہِمْ﴾ [المائدہ ۶۴] 

’’اور یہودی کہتے ہیں اللہ کا ہاتھ تنگ ہے ؛انھی کے ہاتھ تنگ[کردیے گئے] ہیں ۔‘‘

صفحہ 5 از 6