روافض کی بعض حماقتوں کا تذکرہ
امام ابنِ تیمیہؒروافض کی بعض حماقتوں کا تذکرہ
ان کی جملہ حماقتیں توبہت زیادہ ہیں ۔ مثال کے طورپر زید نامی شخص کی کھودی ہوئی نہر سے ان کا پانی نہ پینا۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان نہروں اور کنؤوں سے بھی پانی پی لیتے تھے جنہیں کفار نے کھودا ہوتا تھا۔ اور ایسے ہی بعض شیعہ شامی توت نہیں کھاتے ۔اور یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی کفار کے ممالک سے لائی جانے والی چیزیں جیسے : پنیر ‘ لباس [اور پھل وغیرہ] استعمال کرتے تھے۔ بلکہ غالب طور پر ان کے استعمال میں آنے والا لباس کفار کے ہاتھوں سے تیار کردہ ہوتا تھا۔اور ایسے ہی یہ لوگ لفظ’’ عشرہ ‘‘ یعنی ’’دس ‘‘ کو زبان پر لانا گوارا نہیں کرتے۔اورنہ ہی کوئی ایسا کام کرتے ہیں جس کی تعداد دس تک پہنچتی ہو۔
یہاں تک کہ عمارت تعمیر کرنے میں بھی اسے دس ستونوں پر تعمیر کرنا گوارا نہیں کرتے۔ اس لیے کہ یہ لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بہترین جماعت ’’ عشرہ مبشرہ ‘‘دس جنتی صحابیوں سے بغض رکھتے ہیں۔
وہ دس حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہ ہیں :جناب ابو بکر صدیق‘ جناب عمر فاروق جناب عثمان غنی ؛ جناب علی بن ابی طالب ؛ جناب طلحہ ‘ جناب زبیر ؛ جناب سعد بن ابی وقاص ؛ جناب سعید بن زید بن عمرو بن نفیل جناب عبد الرحمن بن عوف جناب ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ ۔ [ اللہم اجعلنا من محبیہم واحشرنا في زمرتہم؛ آمین]
سوائے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ان تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغض رکھتے ہیں ۔ اور سابقین اولین میں سے مہاجر و انصاراور وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنہوں حدیبیہ میں درخت کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ؛ان سے بغض رکھتے ہیں ۔ بیعت کرنے والے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد چودہ سو تھی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنی رضامندی کی سند عطا فرمائی ہے۔
صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:
’’حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے غلام نے کہا:
’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ کی قسم ! حاطب ضرور جہنم میں جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ تم جھوٹ کہتے ہو ۔ بیشک حاطب بدر اور حدیبیہ میں شریک ہوا تھا۔‘‘ [مسلم برقم(۱۹۴۲)]
جب کہ شیعہ ان جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تبرأ کرتے ہیں ؛ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیساتھ ان کا یہی سلوک ہوتا ہے سوائے چند ایک صحابہ کے؛ جن کی تعداد دس سے کچھ زیادہ بنتی ہے۔فرض کر لیجیے
کہ دنیا میں دس بڑے کافر لوگ ہیں ۔ تب بھی ان کے کفر کی وجہ سے اس لفظ [دس] کا ترک کرنا واجب نہیں ہوتا۔ جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں ؛
﴿وَکَانَ فِی الْمَدِیْنَۃِ تِسْعَۃُ رَہْطٍ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا یُصْلِحُوْنَ ﴾ [النمل ۴۸]
’’اس شہر میں نو جھتے دار تھے جو ملک میں فساد پھیلاتے اور کوئی اصلاح کا کام نہ کرتے تھے۔‘‘
[ان کی وجہ سے ] مطلق طور پر نو کے عدد کو ترک کرنا واجب نہیں ہوتا۔ بلکہ بہت سارے مواقع پر اللہ تعالیٰ نے لفظ ’’ دس ‘‘ کے مسمیٰ کی تعریف کی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ حج تمتع کے بارے میں فرماتے ہیں :
﴿فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الحج وَ سَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ﴾
[البقرۃ۱۹۶]
’’تو جس شخص کو قربانی میسر نہ آئے تو تین روزے تو ایام حج میں رکھے اور سات گھر واپس پہنچ کر، یہ کل دس روزے ہو جائیں گے۔‘‘
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰی ثَلٰثِیْنَ لَیْلَۃً وَّ اَتْمَمْنٰہَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّہٖٓ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ﴾
[الأعراف ۱۴۲]
’’ہم نے موسی علیہ السلام کو تیس شب کے لیے(کوہِ سینا پر)طلب کیا اور بعد میں دس راتوں کا اور اضافہ کر دیا ، اِس طرح اس کے رب کی مقرر کردہ مدت چالیس راتیں پوری ہوگئیں ۔‘‘
نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :﴿وَالفجر وَلَیَالٍ عَشْرٍ﴾ [الفجر۱۔۲]
اور قسم ہے فجر کے وقت کی ‘ اور دس راتوں کی ۔‘‘
اور صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کی آخری دس راتیں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی ۔‘‘ [ البخاری (۳؍۴۷)مسلم (۲؍۸۳۰)]
لیلۃ القدرکے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اسے رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔‘‘[البخاري کتاب الصوم ‘ باب(۷۲)؛ مسلم (۲؍۸۲۳)۔]
اور صحیح حدیث میں یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے [ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کے متعلق ]ارشاد فرمایا :
’’ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی بھی عمل ان دنوں کے عمل سے بڑھ کر محبوب اور پسندیدہ نہیں ۔‘‘[البخاري ۲؍۲۰۔ الترمذي ۲؍۱۲۹۔]
اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں ۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ یہ لوگ لفظ ’’ نو ‘‘سے تو دوستی رکھتے ہیں ؛ اور دس [عشرہ مبشرہ ] میں سے ’’نو ‘‘سے بغض رکھتے ہیں ۔ یعنی یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سوا باقی لوگوں سے بغض رکھتے ہیں ۔ ایسے ہی شیعہ ابوبکر و عمر اور عثمان نام رکھنا گوارہ نہیں کرتے؛اور ان لوگوں سے قطع تعلقی کرلیتے ہیں جن کے نام ابو بکر و عمر اور عثمان [ رضی اللہ عنہم ]ہوں ۔ اور ان کے ساتھ لین دین کرنے کو مکروہ سمجھتے ہیں ۔ اور یہ بات بھی سبھی جانتے ہیں کہ اگر فرض محال یہ سب سے بڑے کافر بھی ہوتے تو پھر بھی یہ مشروع نہ ہوتا کہ کوئی انسان ان کے نام پر نام نہ رکھے ۔ صحابہ کرام میں کتنے ہی لوگ ایسے تھے جن کے بچوں کا نام ’’ ولید ‘‘ تھا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قنوت میں یوں دعا فرمایا کرتے تھے:
((اللہم أنج ولید بن ولید بن المغیرۃ۔)) [البخاری ۶؍۴۸]
’’اے اللہ ! ولید بن ولید بن مغیرہ کو نجات عطا فرما۔‘‘
حالانکہ اس کا والد [ولید بن مغیرہ] لوگوں میں سب سے بڑا کافر تھا۔ قرآن میں وارد لفظ ’’ وحید ‘‘ سے یہی مراد ہے :
﴿ذَرْنِی وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیدًا ﴾ [المدثر۱۱]
’’چھوڑ دو مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ایسے لوگ بھی تھے جن کا نام عمرو تھا؛ اور مشرکین میں بھی اس نام کے لوگ تھے جیسے : عمرو بن عبد ود ؛ ابو جہل کا نام عمرو بن ہشام تھا ۔ صحابہ کرام میں خالد بن سعید بن العاص کا شمار سابقین اولین میں ہوتا ہے ‘ جب کہ یہی نام مشرکین میں خالد بن سفیان ہذلی کا بھی تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہشام نام کے لوگ تھے ؛ جیسے : ہشام بن حکیم ۔ اور کفار میں سے ابو جہل کے باپ کانام ہشام تھا۔ صحابہ کرام میں عقبہ نام کے لوگ تھے ؛ جیسے ابو مسعود عقبہ بن عمرو البدری ؛ عقبہ بن عامر الجہنی ۔ اور مشرکین میں بھی اس نام کے لوگ تھے جیسے :عقبہ بن ابی معیط ۔ ایسے ہی صحابہ کرام میں عثمان و علی نام کے لوگ تھے۔ اور مشرکین میں بھی اس نام کے لوگ تھے؛ جیسے علی بن امیہ بن خلف؛ جسے حالت کفر میں میدان بدر میں قتل کیا گیا۔ ایسے ہی عثمان بن طلحہ کو اسلام قبول کرنے سے قبل قتل کردیا گیا۔ اس طرح کی مثالیں بہت زیادہ ہیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسماء میں سے کسی بھی نام کو محض اس وجہ سے نا پسند نہیں کرتے تھے کہ کسی کافر کا یہ نام ہے۔ اگر یہ بات مان لی جائے کہ یہ نام رکھنے والے کافرتھے ؛ تو بھی اس بنا پر ان ناموں سے ناپسندیدگی واجب نہیں ہوتی ۔یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کو ان اسماء مبارکہ سے ہی پکارتے تھے۔اور لوگوں کے بھی اس نام سے پکارنے کو باقی رکھتے تھے۔شیعہ میں سے بہت سارے لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ لوگ منافق تھے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے منافق ہونے کا علم بھی تھا۔ مگر پھر بھی آپ ان کو ان ناموں سے ہی پکارتے تھے۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان ناموں پر اپنے بچوں کے نام رکھے۔ جس سے ان ناموں کیساتھ پکارنے کا جواز معلوم ہوتا ہے۔خواہ یہ نام رکھنے والا مسلمان ہو یا کافر ؛یہ معاملہ اسلام میں کسی پر مخفی نہیں ہے۔ اور جو کوئی کسی ایک کو ان ناموں سے پکارنا نا پسند کرتا ہو ‘ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ دین اسلام کی مخالفت کرنے والا ہے۔ پھر اس کے باوجود جب ان کے ہاں کسی آدمی کا نام علی ‘ یا جعفر؛ یا حسن یا حسین یا اس طرح کا دیگر کوئی نام ہو تو اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں ‘ اور اس کی عزت و تکریم کرتے ہیں ؛ حالانکہ ان کے پاس اس چیز کی کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ وہ ان ہی میں سے ہے ۔
ان اسماء کا خاص اہتمام کرنا ان لوگوں میں ہوسکتا ہے۔مگر ایسا کرنا اہل سنت ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ شیعہ لوگ انتہائی جہالت اور گمراہی کا شکار ہیں ۔ اور یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ہر وہ چیز جس کا لوگ ان پر انکار کر رہے ہیں ‘ وہ باطل نہیں ہوتی۔ بلکہ ان کے اقوال میں سے کچھ اقوال ایسے ہیں جن میں اہل سنت ان کی مخالفت کرتے ہیں اور بعض مسائل میں موافقت کرتے ہیں ۔ حق وصواب اس چیز میں ہے جو سنت کے موافق ہو۔
لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو ان کے جہری بسم اللہ پڑھنے کو‘ موزوں پر مسح ترک کرنے کو ‘ خواہ سفر میں ہو یا حضر میں ؛ نماز فجر میں قنوت کو ؛ اور حج تمتع ؛ طلاق بدعی کے لزوم ‘ اور قبریں برابر کرنے کو اور نماز میں ہاتھ کھلا چھوڑنے کو بدعت قرار دیتے ہیں ۔ یہ ایسے مسائل ہیں جن میں علماء اہل سنت والجماعت کا اختلاف ہے۔ کبھی اس میں حق بات وہ بھی ہوسکتی ہے جو ان کے قول کے موافق ہو؛ اور کبھی وہ بات حق ہوتی ہے جو ان کے مخالف ہو۔ لیکن یہ سارا معاملہ اجتہادی مسائل میں ہوتا ہے۔ ان پر اس وقت تک انکار نہیں کیا جاسکتا جب تک انہیں خاص شعار نہ بنا لیا جائے جس وقت یہ کسی خاص فرقہ کی نشانی بن جاتا ہے ‘ اس لیے اس کا انکار کرنا لازمی ہوجاتا ہے ۔ اگرچہ بذات خود مسئلہ اس نوعیت کا ہو کہ اس میں اجتہاد جائز ہو۔ اس کی ایک مثال قبر پر ٹہنی گاڑنے کی ہے۔ ایسا کرنا بعض صحابہ کرام سے منقول ہے ۔ اور اس طرح کے دیگر مسائل بھی ہیں ۔
ان کی حماقات میں سے یہ بھی ہے کہ یہ لوگ [اپنے مزعوم ] مہدی منتظر کے لیے کئی ایک مقامات سجائے بیٹھے ہیں ‘جہاں پر وہ امام کا انتظار کررہے ہیں ۔ ایک تو سامراء [معجم البلدان میں ہے؛ سامراء؛ اصل میں سرَّ من راہ ہے۔یہ ایک شہر ہے جو کہ بغداد اور تکریت کے درمیان میں دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر آباد ہے۔ اب یہ شہر ویران ہوچکا ہے۔ سامراء میں حضرت علی بن محمد بن علی بن موسی بن جعفر اور ان کے بیٹے حسن بن علی کی قبریں ہیں ۔ شیعہ کا خیال ہے کہ یہیں پر ان کا امام غائب ہوگیا ہے۔ اب شیعہ امامیہ کا خیال ہے کہ مہدی ادھر ہی کسی غائب میں پوشیدہ ہے؛ وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ؛ زندہ اور موجود ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں : الملل والنحل ۱؍۱۵۰۔ دائرہ المعارف الاسلامیہ ؛ مادہ سامراء۔]کا سرداب ہے ‘ جس کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ امام یہاں پر غائب ہوگیا ہے ۔
اور کئی ایک دوسرے مقامات بھی ہیں جہاں پر گھوڑا یا خچریا کوئی دوسری سواری لیے کھڑے رہتے ہیں تاکہ جب امام کا خروج ہو تو اس پر سواری کرے۔ان مقامات پر ان کے کھڑے ہونے کا وقت صبح اور شام کا ہوتا ہے۔
اور کبھی کبھار کسی دوسرے اوقات میں بھی وہاں چلے جاتے ہیں ۔ اور پھر ان میں سے کوئی ایک آواز لگاتا ہے ‘ اور کہتا ہے : ’’ اے ہمارے آقا! اب باہر تشریف لائیے ۔‘‘[ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامہ کتاب’’ تحفۃ النظار فی غرائب الامصار و عجائب الاسفار ‘‘ ۱؍ ۱۶ (مطبع خیریہ قاہرہ ؛ ۱۳۲۲ہجری )پر شہر ’’حلہ‘‘کے بارے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا ہے :’’ اس شہر کے مین بازار کے قریب ایک مسجد علی ہے جس کے دروازوں پر ریشمی پردے لٹکے ہوئے ہیں ۔ اسے شیعہ لوگ ’’مشہد امام زمان ‘‘ کا نام دیتے ہیں ۔ اور ان کی عادت اور طریقہ یہ ہے کہ ہر رات اہل شہر میں سے سو آدمی مسلح ہوکر نکلتا ہے؛ ان کے ہاتھوں میں ننگی تلواریں ہوتی ہیں ۔پہلے وہ نماز عصر کے بعد امیر شہر کے پاس آتے ہیں ؛ ان کے ساتھ آراستہ و پیراستہ ایک گھوڑا یا خچر بھی ہوتا ہے۔ پھر وہ اس صاحب زمان کے مشہد پر آتے ہیں ۔ اور دروازے پر کھڑے ہوکر پکارتے ہیں : ’’بسم اللہ ! یا صاحب الزمان !بسم اللہ باہر تشریف لائیں ۔ فساد ظاہر ہو چکا؛ ظلم بڑھ گیا؛ اور یہ آپ کے خروج کا وقت ہے۔‘‘]
اس موقع پر اسلحہ کی نمائش بھی کرتے ہیں ؛ حالانکہ وہاں پر ان سے لڑنے والا کوئی نہیں ہوتا ۔
اور کچھ ایسے بھی ہیں جو برابر وہاں پر کھڑے رہتے ہیں اور نماز بھی نہیں پڑھتے ۔ اس لیے کہ اسے اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ نماز میں ہو اور امام نکل آئے؛ اور اسے امام کی خدمت کا موقع نہ مل سکے۔
اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو وہاں سے دور ہونے کی بنا پر؛ جیسے کہ مدینہ طیبہ سے ؛ رمضان کے آخری عشرہ میں سامراء کی طرف منہ کرکے چلاتے ہیں ‘ اور بلند آواز میں امام کو نکلنے کے لیے دہائیاں دیتے ہیں ۔
فرض کریں اگر یہ مان لیا جائے کہ امام کسی غار میں موجود ہے ۔ اور اسے اللہ تعالیٰ نے نکلنے کا حکم دیدیا تو وہ نکل کر ہی رہے گا ‘ خواہ یہ لوگ اسے آوازیں دیں یا نہ دیں ۔اور اگر اسے اجازت نہ ملے تو وہ ان کی بات ہر گز نہیں مانے گا۔ اور جب امام نکلے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائیں گے ‘ اور اس کے لیے سواری کا بھی بندوبست فرمائیں گے۔ اور اس کے معاون و مدد گار پیدا فرمائیں گے۔مگر پھر بھی وہاں پر کھڑے ہونے والے صرف وہی لوگ ہوسکتے ہیں جن کی دنیاوی زندگی کی تمام کوششیں اکارت ہوگئی ہیں ‘ اور وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اچھا کام کررہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان لوگوں کو معیوب گردانا ہے جو ایسے لوگوں کو پکارتے ہیں ‘ جو ان کی پکار کو قبول نہیں کرتے ۔ فرمان الٰہی ہے:
﴿ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَا یَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍOاِنْ تَدْعُوْہُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآئَ کُمْ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَکُمْ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکْفُرُوْنَ بِشِرْکِکُمْ وَ لَا یُنَبِّئُکَ مِثْلُ خَبِیْرٍ﴾ [فاطر۱۳۔۱۴]
’’وہ اللہ تمھارا پروردگار ہے، اسی کی بادشاہی ہے اور جن کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے مالک نہیں ۔اگر تم انھیں پکارو تووہ تمھاری پکار نہیں سنیں گے اور اگر وہ سن بھی لیں تو تمھاری درخواست قبول نہیں کریں گے اور قیامت کے دن تمھارے شرک کا انکا ر کر دیں گے اور تجھے ایک پوری خبر رکھنے والے کی طرح کوئی خبر نہیں دے گا ۔‘‘
یہ تواس وقت فرمایا جارہا ہے جب بت موجود بھی تھے؛ اور ان بتوں کے پاس شیاطین ہواکرتے تھے جو کہ کبھی کبھار انہیں نظر بھی آتے اور ان سے کلام بھی کرتے ۔ سو پھر جو کوئی معدوم کو مخاطب کرتا ہے وہ اس انسان سے زیادہ برے حال میں جو موجود کومخاطب کرکے پکارتا ہے اگرچہ وہ موجود جمادات ہی ہو۔پس جو کوئی اس امام غائب کو پکارتا ہو جس کو ابھی تک اللہ تعالیٰ نے پیدا ہی نہیں کیا ؛ تو اس کی گمراہی ان مشرکین کی گمراہی سے بھی بڑھ کر ہے ۔ اگر وہ یہ کہیں کہ ہم اس امام کے موجود ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔ تو یہ دعوی بھی مشرکین کے اس قول کی طرح ہوگا کہ وہ کہا کرتے تھے: ’’ ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ بت اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے۔‘‘
پس اس عقیدہ کی بنا پر وہ ایسے لوگوں کی بندگی کرتے تھے جو ان کو کوئی نفع دے سکتے اور نہ ہی نقصان۔ حالانکہ ان کا دعوی یہی تھا کہ یہ لوگ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں ۔
مقصود یہ ہے کہ یہ دونوں فرقے ایسوں کو پکارتے ہیں جو نہ انہیں نفع دے سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان ۔ اگرچہ ان لوگوں نے اپنے ان [جھوٹے] معبودوں کو اللہ کے ہاں اپنا سفارشی بنا رکھا ہو۔ شیعہ بھی تو یہی کہتے ہیں : ’’ [جسے ہم پکارتے ہیں ‘وہ ] امام معصوم ہے۔ وہ اسی بنیاد پر اس سے دوستی رکھتے ہیں ‘ اور اسی بنیاد پر دشمنی رکھتے ہیں ۔ جیسا کہ مشرکین اپنے معبودوں کی وجہ سے دوستی اور دشمنی رکھتے ہیں ۔ اور پھر اس دوستی اور دشمنی کو ایمان کا اصول قرار دیتے ہیں جس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ بعض مشرکین اپنے معبودوں کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں ۔جب کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَہُ اللّٰہُ الْکِتٰبَ وَ الْحُکْمَ وَ النُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ کُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ لٰکِنْ کُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا کُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْکِتٰبَ وَ بِمَا کُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ*وَ لَا یَاْمُرَکُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِکَۃَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا اَیَاْمُرُکُمْ بِالْکُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ﴾ [آل عمران ۷۹۔۸۰]
’’کسی بشر کا کبھی حق نہیں کہ اللہ اسے کتاب اور حکم اور نبوت دے، پھر وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ لیکن رب والے بنو، اس لیے کہ تم کتاب سکھایا کرتے تھے اور اس لیے کہ تم پڑھا کرتے تھے۔ اور نہ یہ (حق ہے ) کہ تمھیں حکم دے کہ فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لو، کیا وہ تمھیں کفر کا حکم دے گا، اس کے بعد کہ تم مسلم ہو۔‘‘
جب ملائکہ اور انبیاء کو معبود بنانے والوں کا یہ حال ہے تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو ایک ایسے معدوم امام کو اپنا معبود بنارہے ہیں جس کا کوئی وجود ہی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ مَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوْٓا اِلٰھًا وَّاحِدًا لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ سُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ﴾ [التوبۃ ۳۱]
’’انھوں نے اپنے عالموں اور اپنے درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا تھا کہ ایک معبود کی عبادت کریں ، کوئی معبود نہیں مگر وہی ، وہ اس سے پاک ہے جو وہ شریک بناتے ہیں ۔‘‘
سنن ترمذی میں حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی روایت سے ثابت ہے ؛ انہوں نے اس آیت کوسن کر کہا تھا :
’’ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! انہوں نے اپنے درویشوں کی بندگی تو نہیں کی ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ بیشک انہوں نے ان پر حلال چیز کو حرام کیا ‘ اور حرام کو حلال کیا اور لوگوں نے ان کی اطاعت کی ؛ تو یہی چیز عوام کی طرف سے ان کی عبادت کرنا تھی ۔‘‘ [ سنن الترمذي ۴؍۳۱۴۔ وقال: غریب۔]
ان لوگوں نے تو زندہ اور موجود لوگوں کواپنا رب بنالیا تھا ‘ جب کہ یہ لوگ حلال و حرام کو ایسے معدوم امام کے ساتھ معلق کیے ہوئے ہیں جس کی کوئی حقیقت ہی نہیں ۔ اور پھر یہ لوگ جو بھی کام کرتے ہیں اس کو ثابت کرنے کیلئے کہتے ہیں کہ :
’’ امام نے ان کے لیے اسے حلال کیا ہے ‘ یا پھر امام نے ہی ان پر یہ چیز حرام کی ہے ۔‘‘
خواہ یہ کام کتاب و سنت اور اجماع امت اور سلف صالحین کے عمل کے مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ ان کی حالت تو یہ ہے کہ جب ان کے دو گروہوں میں اختلاف ہوجاتا ہے تو اس وقت وہ قول قابل حجت ہوتا ہے جس کا کہنے والا معلوم نہ ہو۔اس لیے کہ یہی امام معصوم کا قول ہوسکتا ہے ۔ پس اس کی روشنی میں وہ اس چیز کو حلال سمجھتے ہیں جو امام حلال قرار دے ‘ اور اس چیز کوحرام سمجھتے ہیں جس کو امام حرام قرار دے ۔ یہ بات کسی بھی دوسرے فرقہ کے ہاں نہیں پائی جاتی۔ اور یہی ان لوگوں کا مذہب بھی ہے جو کہتے ہیں : امام کو کوئی بھی نہیں جانتا ‘اور نہ ہی اس سے ایک کلمہ بھی روایت کرنا ممکن ہے۔
ان کی حماقتوں کی ایک مثال یہ ہے کہ جس سے یہ لوگ بغض رکھتے ہیں ‘ تو اس کا ایک پتلا بنالیتے ہیں ؛ یہ پتلا کبھی تو جمادات سے بناتے ہیں ؛ اور کبھی حیوان وغیرہ سے۔اورپھر اس جماد یا حیوان کو وہ سزا دیتے ہیں جو ان کی نظر میں اس ناپسندیدہ آدمی کی ہوسکتی ہے جس کا یہ پتلا بنایا گیا ہے۔اور کبھی مینڈھے کو اس کی شکل قرار دیتے ہیں ۔اور کبھی کبھار یہ مینڈھا سرخ رنگ کا ہوتا ہے ‘ اس لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پیار سے حمیراء [گوری ] کہا جاتا تھا۔[نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو پیار سے ان الفاظ میں پکارتے تھے ]۔ پھر اس مینڈھے کو عائشہ رضی اللہ عنہا قرار دیکر اسے تکلیف دیتے ہیں ‘ اور اس کے بال نوچتے ہیں ۔اس عمل سے ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ اس طرح عائشہ رضی اللہ عنہا کو تکلیف ہوتی ہوگی۔
اور ایسے ہی ایک گھی بھری ہوئی مشک کو چھریاں مار کر پھاڑ ڈالتے ہیں ‘اور پھر اس سے گھی پیتے ہیں ‘ اور یہ کہتے ہیں کہ یہ عمر کا پیٹ چاک کیا گیا ہے ‘ اور ہم اس کا خون پیتے ہیں ۔
ایسے ہی کولہو کے چرخ پر گھومنے والے گدھوں میں سے ایک کانام ابو بکر رکھتے ہیں ‘ اور دوسرے کا عمر ؛ اور پھر ان دونوں گدھوں کو انتہائی سخت مارتے ہیں ‘اور یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ ابو بکر و عمر کو سزا دی جارہی ہے ۔ اور کبھی کبھار ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نام گدھے کے پاؤں کے نیچے لکھ دیتے ہیں ۔یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ ایسے گدھوں کے پاؤں پر بہت سخت مارتے ہیں جن پر ان صحابہ کرام کے نام لکھے گئے ہوں ‘اورکہتے ہیں :میں تو ابو بکر وعمر کو سزا دیتا ہوں ؛ اور اس وقت تک ایسا کرتا رہوں گا جب تک یہ پاؤں توڑ نہ دوں ۔‘‘
ان میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے کتوں کے نام ابو بکر وعمر کے نام پر رکھتے ہیں اور ان پر لعنت کرتے ہیں ۔اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو ان صحابہ کرام کے اسماء مبارکہ پر اپنے کتوں کے نام رکھتے ہیں ‘ اور پھر اگر اسے ابو بکر کے بجائے بکیر کہا جائے تو اس پر لڑنا شروع کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ :’’تم جہنمیوں کے نام پر ہمارے کتے کا نام رکھتے ہو۔‘‘
ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے مجوسی غلام ابو لؤلؤ فیروز کی تعظیم صرف اس وجہ سے کرتے ہیں کہ اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا۔ اور کہتے ہیں : ’’ حضرت ابو لؤلؤ کا انتقام ۔‘‘
باتفاق مسلمین ایک کافر کی یہ تعظیم صرف اس وجہ سے ہے کہ اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کوشہید کیا تھا۔
ان کی حماقتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کوئی ایک درگاہ بنالیتے ہیں ‘اور کہتے ہیں :
’’یہ ہے: ’’ مزار ِاہل بیت ۔‘‘
حالانکہ ان کے اس جھوٹ پر کتنی بار لوگ انہیں جھوٹا قرار دے چکے ہیں ۔اور کبھی کبھار اس صاحب مزار کو شہید قرار دیتے ہیں ۔ اور اس پر درگاہ تعمیر کر لیتے ہیں ۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہاں پر عوام الناس میں سے کسی کی قبر ہو‘ یا پھر کسی کافر کی قبر ہو‘ یا [پھر کسی جانور کو دفنا دیاگیا ہو؛ یا پھر فرضی قبر تیار کرلی گئی ہو۔دراوی]۔بہت ساری نشانیوں سے یہ جھوٹ واضح ہوجاتا ہے۔
یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ ان ناموں والے جانوروں کو تکلیف دینا اورمارپیٹ کرنا صرف اس انسان کا کام ہوسکتا ہے کہ جو لوگوں میں سب سے بڑھ کر بیوقوف اور جاہل ہو۔اس لیے کہ وہ لوگ جو باتفاق مسلمین سب سے بڑے کافر تھے ‘ جیسے : فرعون ؛ ابو لہب ‘ ابو جہل وغیرہ ؛ اگر ہم ان کو بھی سزا دینا چاہیں ‘ اور پھر یہ طریقہ اختیار کریں تو یہ سب سے بڑی حماقت و جہالت ہوگی۔ اس لیے کہ اب ایسا کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔کیونکہجب کسی ایسے کافر کو قتل کردیا جاتا ہے جسے جان سے ختم کرنا جائز بھی ہو‘ یا پھر وہ خود اپنی موت مر جائے ‘ تو پھر بھی اس کے مر جانے یا قتل کیے جانے کے بعد اس کا مثلہ بنانا جائز نہیں ۔ پس نہ ہی اس کی ناک کاٹی جائے گی ‘ اورنہ ہی پیٹ چاک کیا جائے گا؛ نہ ہی کان کاٹے جائیں گے ‘اور نہ ہی اس کے ہاتھ توڑے جائیں گے ۔بس اس کی صرف یہ ایک صورت ہوسکتی ہے کہ بطور بدلہ کے اس کے ساتھ ایسے کیا جائے۔
صحیح مسلم میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت میں ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر کو روانہ فرماتے تو اسے تقوی کی نصیحت فرماتے ۔ اور جو مسلمان ان کے ساتھ ہیں ‘ان کے ساتھ بھلائی کا سلوک کرنے کی وصیت کرتے ۔ اور پھر فرماتے : اللہ کے نام پر اللہ کی راہ میں جہاد کرو، کافروں سے قتال کرو، دھوکہ نہ دو، خیانت نہ کرو ؛ کسی کا مثلہ نہ کرو اور کسی بچے کو قتل نہ کرو۔‘‘ [مسلم کتاب الجہاد و السیر ؛ باب تأمیر الإمام الأمراء ۳؍۱۳۵۶۔سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی دعاء المشرکین سنن الترمذي ۳؍ ۸۵؛ کتاب السیر ؛ باب ماجاء في وصیۃ النبي في القتال]]
سنن میں ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبہ میں صدقہ کرنے کا حکم فرماتے ‘ اور مثلہ کرنے سے منع کیا کرتے تھے۔‘‘[سنن أبي داؤد ۳؍۷۲۔ والدارمي ۱؍۱۹۰۔وفي البخاری ۵؍۱۲۹؛ کتاب المغازي باب في النہي عن المثلۃ]
حالانکہ کفار کا مثلہ بنانے میں دشمن کے لیے زیادہ سزا ہے۔ مگر آپ نے ایسا کرنے سے اس لیے منع فرمایا کہ یہ زیادہ تکلیف بلا ضرورت ہے ۔ اس لیے کہ مقصود اس کے شر سے بچنا تھا جو کہ اس کے قتل سے پورا ہوگیا۔ یہ لوگ جو ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغض و نفرت رکھتے ہیں ‘ اگر یہ کفار ہوتے ‘ اور انہیں قتل کردیا جاتا تو تب بھی ان کا مثلہ کرنا شریعت میں جائز نہ ہوتا ۔اورنہ ہی انہیں مرنے کے بعد مارا پیٹا جاتا۔ نہ ہی ان کے پیٹ چاک کیے جاتے اور نہ ہی ان کے بال نوچے جاتے ۔ حالانکہ اس میں ان کے لیے مزید تکلیف و ایذا رسانی ہوتی ہے۔
جب یہ لوگ اپنے تئیں اس خیال میں کہ اس سے دوسرے کو تکلیف پہنچتی ہے ؛ ایسی حرکات کا ارتکاب کرتے ہیں تو یہ ان کی جہالت کی انتہاء ہے۔ توپھر اس وقت کیا کیفیت ہوگی جب وہ کسی ایسے جاندار کو ایذاء دے رہے ہوں جن کو ناحق ایذا رسانی شریعت میں حرام ہے۔ پس وہ ایسی حرکت کاارتکاب کرتے ہیں جس سے حقیقت میں انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔بلکہ اس میں ان کا دنیا و آخرت کا نقصان ہے۔ اور اس کے ساتھ ان کی انتہائی حماقت اور جہالت کی نشانی بھی ہے۔
ان کی حماقتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ صدیوں سے مقتولین پر ماتم کرتے چلے آرہے ہیں ۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ کوئی خواہ مقتول ہو یا دیگر مرنے والا ؛ موت کے بعد ایسی حرکات کا ارتکاب کرنا شریعت میں حرام ہے۔اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام ٹھہرایا ہے ۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:
’’ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جس نے اپنے چہرے کو پیٹا اور گریبان چاک کیا اور جاہلیت کی سی پکار پکاری۔‘‘ [البخاري ۲؍۸۲؛کتاب الجنائز ؛ باب لیس منا من شق الجیوب؛ مسلم ۱؍۹۹۔ کتاب الایمان؛ باب تحریم ضرب الخدود ۔سنن النسائی ۴؍ ۱۳؛ کتاب الجنائز ؛ باب ضرب الخدود ۔]
نیز یہ بھی صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبت کے وقت میں سر منڈوانے ‘ چلا چلا کر رونے اور اپنے کپڑے پھاڑنے والوں سے برأت کا اظہار فرمایا ہے ۔‘‘[البخاري ۲؍۸۱؛ مسلم ۱؍۱۰۰۔]
اور صحیح حدیث میں یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ جس پر ماتم کیاجائے ‘ اسے اس ماتم کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ۔‘‘ [البخاري ۲؍۸۰؛ کتاب الجنائز ؛ باب ما ینہی من الحلق عند المصیبۃ ۔ مسلم ۲؍۶۴۴۔ کتاب الایمان؛ باب تحریم ضرب الخدود۔]
اور مسلم شریف کی صحیح روایت میں یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ نوحہ کرنے والی اگر اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس حال میں اٹھے گی کہ اس پر گندھک کا کرتا اور زنگ کی چادر ہو گی۔‘‘ [مسلم ۲؍۶۴۴۔ ٭ یہ بات تاریخ میں تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کا باقی ماندہ قافلہ کوفہ کی طرف نکلا تو وہاں لوگ رو رہے تھے اور ماتم کررہے تھے ۔حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے پوچھا یہ لوگ کیوں رو رہے ہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر رورہے ہیں ۔ تو آپ نے فرمایا: ’’ ارے ظالمو! تم نے ہی تو انہیں قتل کیا ہے ؛ اور اب رو رہے ہو ؛ جاؤ تم قیامت تک ایسے روتے ہی رہو۔‘‘یہ انہی مظلوموں کی بد دعاؤں کا اثر ہے کہ اصل قاتلین کی اولاد آج بھی رو رہے ہیں اور اپنے آپ کو پیٹ رہے ہیں ۔ورنہ قتل کرنے والے مردود بھی اپنے انجام کو پہنچ گئے اور مقتولین بھی اپنے انعام کو پہنچ گئے ؛ وارثین اور لاحقین بھی صبرواستقامت کے ساتھ اپنے رب کی طرف سے عزت و اکرام کو پہنچ گئے ؛ اور جواہل جرم ہیں ان پر آج بھی رسوائی و ذلالت چھائی ہوئی ہے۔اوران پر بددعاؤں کے اثرات ہر خاص و عام ملاحظہ کرسکتا ہے ۔[دراوی جی ]]
اس معنی میں بہت ساری احادیث وارد ہوئی ہیں ۔ اور یہ لوگ تو ایسا ہی کرتے ہیں ‘ اپنے گال پیٹتے ہیں ‘ گریبان پھاڑتے ہیں ‘ اور جاہلیت کا رونا روتے ہیں ‘ اور ان کے علاوہ دیگر کئی برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں جو کہ کئی صدیوں سے جاری ہے ۔ اگر یہ کام اسی وقت بھی ہوتا [جب یہ غم تازہ تھا] تب بھی ایسا کرنا بہت بڑی برائی ہوتی ؛ کیونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے کو حرام ٹھہرایا ہے۔تو پھر اتنی مدت گزر جانے کے بعد اس کا کیا جواز ہوسکتاہے۔٭
یہ بات بھی سبھی جانتے ہیں کہ جو لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے افضل تھے ؛جن میں انبیاء بھی شامل ہیں اور غیر انبیاء بھی ؛ انہیں ظلم و عداوت سے قتل کیا گیا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جو کہ آپ کے والد اور آپ سے افضل ہیں ‘انہیں قتل کیا گیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ [جو کہ آپ کے خالو ‘جامع القرآن اور ذوالنورین ہیں ] کو قتل کیا گیا ۔آپ کا قتل کیا جانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سب سے پہلا فتنہ تھا جو اس امت میں پیدا ہوا۔ اور آپ کے قتل کی وجہ سے جو فتنہ و فساد پیدا ہوا وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کی وجہ سے پیدا ہونے والے فتنہ سے کئی گناہ بڑھ کر ہے ۔ ان کے علاوہ بھی کئی ایک لوگ قتل ہوئے ‘ اور کئی لوگ طبعی موت مر گئے۔ مگر مسلمانوں یا غیر مسلموں میں سے کسی ایک نے بھی میت پر ایسے ماتم نہیں کیا اورنہ ہی کسی مقتول پر اتنی نوحہ گری کی گئی۔ سوائے ان بیوقوفوں کے ۔اگر یہ لوگ پرندوں میں ہوتے تو کوّے ہوتے اور اگر چوپائے ہوتے تو گدھے ہوتے۔‘‘
ان میں سے بعض ایسے بھی بیوقوف ہیں جو جھاؤ کی لکڑ نہیں جلاتے ؛ اس لیے کہ انہیں پتہ چلاہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا خون جھاؤ پر گرا تھا۔حالانکہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ محض جھاؤ کی لکڑ جلاناشریعت میں مکروہ نہیں ہے؛ خواہ اس پر کوئی بھی خون گراہو۔ تو پھر سارے جہاں میں پائے جانے والے اس جنس کے درخت جلانے میں کیا حرج ہے جن پر خون گرا ہی نہیں ؟
ان کی حماقتیں اتنی زیادہ ہیں کہ یہاں پر ان کا تذکرہ کرنا طوالت اختیار کر جائے گا؛ ان کے نقل کرنے کے لیے کسی سند کی ضرورت بھی نہیں ۔لیکن اس سے مقصود یہ ہے کہ زمانہ قدیم یعنی تابعین اور تبع تابعین کے دور سے ان لوگوں کی حماقتوں کی روایتیں معروف ہیں ؛جیسا کہ امام شعبی اور امام عبد الرحمن سے بعض روایات ثابت ہیں ۔ [امام شعبی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شاگرد اور تابعین میں سے ہیں ‘ جب کہ حضرت عبد الرحمن تبع تابعین میں سے ہیں ۔اور آپ کوکئی ایک علوم پر دسترس حاصل تھی]۔
آپ کی روایات دوسری روایات کے ساتھ مل کر قابل اعتماد ہوتی ہیں ۔ان کے علاوہ مقاتل بن سلیمان ‘ محمد بن عمر الواقدی اور ان جیسے دیگر لوگ بھی شامل ہیں ۔ان شہادات اورروایات کی کثرت کے ساتھ اگر ان کے راوی ثقہ نہ بھی ہوں تو بھی یہ بات یقینی طور پر معلوم ہوجاتی ہے۔ تو پھر اس وقت کیا عالم ہوگا جب ثقہ لوگ ان روایات کو نقل کررہے ہوں ۔
یہ بات جاننا بھی ضروری ہے کہ خود جنس شیعہ میں جو مذموم اقوال و افعال پائے جاتے ہیں ‘ وہ اس سے کہیں بہت زیادہ ہیں جو ہم نے ذکر کیے ہیں ۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ سب اقوال امامیہ یا زیدیہ کے ہوں ‘ یہ اقوال غالیہ اور کئی دوسرے شیعہ فرقوں کے بھی ہوسکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر : اونٹ کے گوشت کو حرام قرار دینا ‘ اور یہ کہنا کہ طلاق میں عورت کی مرضی شرط ہے ؛ اور ان کے علاوہ دیگر ایسے اقوال جو ان کے عام لوگوں میں مشہور ہیں اگرچہ ان کے علماء اس کا اقرار نہ بھی کرتے ہوں ۔ اس لیے کہ جب ان کے مذہب کی بنیاد ہی جہالت پر ہے تو ان کے اکثر لوگ جہالت و حماقت کا شکار ہیں ۔