روافض کی بعض حماقتوں کا تذکرہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

روافض کی بعض حماقتوں کا تذکرہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 6

روافض کی بعض حماقتوں کا تذکرہ

ان کی جملہ حماقتیں توبہت زیادہ ہیں ۔ مثال کے طورپر زید نامی شخص کی کھودی ہوئی نہر سے ان کا پانی نہ پینا۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان نہروں اور کنؤوں سے بھی پانی پی لیتے تھے جنہیں کفار نے کھودا ہوتا تھا۔ اور ایسے ہی بعض شیعہ شامی توت نہیں کھاتے ۔اور یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی کفار کے ممالک سے لائی جانے والی چیزیں جیسے : پنیر ‘ لباس [اور پھل وغیرہ] استعمال کرتے تھے۔ بلکہ غالب طور پر ان کے استعمال میں آنے والا لباس کفار کے ہاتھوں سے تیار کردہ ہوتا تھا۔اور ایسے ہی یہ لوگ لفظ’’ عشرہ ‘‘ یعنی ’’دس ‘‘ کو زبان پر لانا گوارا نہیں کرتے۔اورنہ ہی کوئی ایسا کام کرتے ہیں جس کی تعداد دس تک پہنچتی ہو۔

یہاں تک کہ عمارت تعمیر کرنے میں بھی اسے دس ستونوں پر تعمیر کرنا گوارا نہیں کرتے۔ اس لیے کہ یہ لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بہترین جماعت ’’ عشرہ مبشرہ ‘‘دس جنتی صحابیوں سے بغض رکھتے ہیں۔

وہ دس حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہ ہیں :جناب ابو بکر صدیق‘ جناب عمر فاروق جناب عثمان غنی ؛ جناب علی بن ابی طالب ؛ جناب طلحہ ‘ جناب زبیر ؛ جناب سعد بن ابی وقاص ؛ جناب سعید بن زید بن عمرو بن نفیل جناب عبد الرحمن بن عوف جناب ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ ۔ [ اللہم اجعلنا من محبیہم واحشرنا في زمرتہم؛ آمین] 

سوائے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ان تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغض رکھتے ہیں ۔ اور سابقین اولین میں سے مہاجر و انصاراور وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنہوں حدیبیہ میں درخت کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ؛ان سے بغض رکھتے ہیں ۔ بیعت کرنے والے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد چودہ سو تھی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنی رضامندی کی سند عطا فرمائی ہے۔

صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:

’’حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے غلام نے کہا:

’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ کی قسم ! حاطب ضرور جہنم میں جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ تم جھوٹ کہتے ہو ۔ بیشک حاطب بدر اور حدیبیہ میں شریک ہوا تھا۔‘‘ [مسلم برقم(۱۹۴۲)]

جب کہ شیعہ ان جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تبرأ کرتے ہیں ؛ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیساتھ ان کا یہی سلوک ہوتا ہے سوائے چند ایک صحابہ کے؛ جن کی تعداد دس سے کچھ زیادہ بنتی ہے۔فرض کر لیجیے

کہ دنیا میں دس بڑے کافر لوگ ہیں ۔ تب بھی ان کے کفر کی وجہ سے اس لفظ [دس] کا ترک کرنا واجب نہیں ہوتا۔ جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں ؛

﴿وَکَانَ فِی الْمَدِیْنَۃِ تِسْعَۃُ رَہْطٍ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا یُصْلِحُوْنَ ﴾ [النمل ۴۸]

’’اس شہر میں نو جھتے دار تھے جو ملک میں فساد پھیلاتے اور کوئی اصلاح کا کام نہ کرتے تھے۔‘‘

[ان کی وجہ سے ] مطلق طور پر نو کے عدد کو ترک کرنا واجب نہیں ہوتا۔ بلکہ بہت سارے مواقع پر اللہ تعالیٰ نے لفظ ’’ دس ‘‘ کے مسمیٰ کی تعریف کی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ حج تمتع کے بارے میں فرماتے ہیں :

﴿فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الحج وَ سَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ

[البقرۃ۱۹۶]

’’تو جس شخص کو قربانی میسر نہ آئے تو تین روزے تو ایام حج میں رکھے اور سات گھر واپس پہنچ کر، یہ کل دس روزے ہو جائیں گے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰی ثَلٰثِیْنَ لَیْلَۃً وَّ اَتْمَمْنٰہَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّہٖٓ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً

[الأعراف ۱۴۲]

’’ہم نے موسی علیہ السلام کو تیس شب کے لیے(کوہِ سینا پر)طلب کیا اور بعد میں دس راتوں کا اور اضافہ کر دیا ، اِس طرح اس کے رب کی مقرر کردہ مدت چالیس راتیں پوری ہوگئیں ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :﴿وَالفجر وَلَیَالٍ عَشْرٍ﴾ [الفجر۱۔۲]

اور قسم ہے فجر کے وقت کی ‘ اور دس راتوں کی ۔‘‘

اور صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کی آخری دس راتیں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی ۔‘‘ [ البخاری (۳؍۴۷)مسلم (۲؍۸۳۰)]

لیلۃ القدرکے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اسے رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔‘‘[البخاري کتاب الصوم ‘ باب(۷۲)؛ مسلم (۲؍۸۲۳)۔]

اور صحیح حدیث میں یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے [ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کے متعلق ]ارشاد فرمایا :

’’ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی بھی عمل ان دنوں کے عمل سے بڑھ کر محبوب اور پسندیدہ نہیں ۔‘‘[البخاري ۲؍۲۰۔ الترمذي ۲؍۱۲۹۔]

اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں ۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ یہ لوگ لفظ ’’ نو ‘‘سے تو دوستی رکھتے ہیں ؛ اور دس [عشرہ مبشرہ ] میں سے ’’نو ‘‘سے بغض رکھتے ہیں ۔ یعنی یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سوا باقی لوگوں سے بغض رکھتے ہیں ۔ ایسے ہی شیعہ ابوبکر و عمر اور عثمان نام رکھنا گوارہ نہیں کرتے؛اور ان لوگوں سے قطع تعلقی کرلیتے ہیں جن کے نام ابو بکر و عمر اور عثمان [ رضی اللہ عنہم ]ہوں ۔ اور ان کے ساتھ لین دین کرنے کو مکروہ سمجھتے ہیں ۔ اور یہ بات بھی سبھی جانتے ہیں کہ اگر فرض محال یہ سب سے بڑے کافر بھی ہوتے تو پھر بھی یہ مشروع نہ ہوتا کہ کوئی انسان ان کے نام پر نام نہ رکھے ۔ صحابہ کرام میں کتنے ہی لوگ ایسے تھے جن کے بچوں کا نام ’’ ولید ‘‘ تھا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قنوت میں یوں دعا فرمایا کرتے تھے:

((اللہم أنج ولید بن ولید بن المغیرۃ۔)) [البخاری ۶؍۴۸]

’’اے اللہ ! ولید بن ولید بن مغیرہ کو نجات عطا فرما۔‘‘

حالانکہ اس کا والد [ولید بن مغیرہ] لوگوں میں سب سے بڑا کافر تھا۔ قرآن میں وارد لفظ ’’ وحید ‘‘ سے یہی مراد ہے :

﴿ذَرْنِی وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِیدًا ﴾ [المدثر۱۱]

’’چھوڑ دو مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘

صفحہ 1 از 6