روافض کی بعض حماقتوں کا تذکرہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

روافض کی بعض حماقتوں کا تذکرہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 6

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ایسے لوگ بھی تھے جن کا نام عمرو تھا؛ اور مشرکین میں بھی اس نام کے لوگ تھے جیسے : عمرو بن عبد ود ؛ ابو جہل کا نام عمرو بن ہشام تھا ۔ صحابہ کرام میں خالد بن سعید بن العاص کا شمار سابقین اولین میں ہوتا ہے ‘ جب کہ یہی نام مشرکین میں خالد بن سفیان ہذلی کا بھی تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہشام نام کے لوگ تھے ؛ جیسے : ہشام بن حکیم ۔ اور کفار میں سے ابو جہل کے باپ کانام ہشام تھا۔ صحابہ کرام میں عقبہ نام کے لوگ تھے ؛ جیسے ابو مسعود عقبہ بن عمرو البدری ؛ عقبہ بن عامر الجہنی ۔ اور مشرکین میں بھی اس نام کے لوگ تھے جیسے :عقبہ بن ابی معیط ۔ ایسے ہی صحابہ کرام میں عثمان و علی نام کے لوگ تھے۔ اور مشرکین میں بھی اس نام کے لوگ تھے؛ جیسے علی بن امیہ بن خلف؛ جسے حالت کفر میں میدان بدر میں قتل کیا گیا۔ ایسے ہی عثمان بن طلحہ کو اسلام قبول کرنے سے قبل قتل کردیا گیا۔ اس طرح کی مثالیں بہت زیادہ ہیں ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسماء میں سے کسی بھی نام کو محض اس وجہ سے نا پسند نہیں کرتے تھے کہ کسی کافر کا یہ نام ہے۔ اگر یہ بات مان لی جائے کہ یہ نام رکھنے والے کافرتھے ؛ تو بھی اس بنا پر ان ناموں سے ناپسندیدگی واجب نہیں ہوتی ۔یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کو ان اسماء مبارکہ سے ہی پکارتے تھے۔اور لوگوں کے بھی اس نام سے پکارنے کو باقی رکھتے تھے۔شیعہ میں سے بہت سارے لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ لوگ منافق تھے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے منافق ہونے کا علم بھی تھا۔ مگر پھر بھی آپ ان کو ان ناموں سے ہی پکارتے تھے۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان ناموں پر اپنے بچوں کے نام رکھے۔ جس سے ان ناموں کیساتھ پکارنے کا جواز معلوم ہوتا ہے۔خواہ یہ نام رکھنے والا مسلمان ہو یا کافر ؛یہ معاملہ اسلام میں کسی پر مخفی نہیں ہے۔ اور جو کوئی کسی ایک کو ان ناموں سے پکارنا نا پسند کرتا ہو ‘ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ دین اسلام کی مخالفت کرنے والا ہے۔ پھر اس کے باوجود جب ان کے ہاں کسی آدمی کا نام علی ‘ یا جعفر؛ یا حسن یا حسین یا اس طرح کا دیگر کوئی نام ہو تو اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں ‘ اور اس کی عزت و تکریم کرتے ہیں ؛ حالانکہ ان کے پاس اس چیز کی کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ وہ ان ہی میں سے ہے ۔

ان اسماء کا خاص اہتمام کرنا ان لوگوں میں ہوسکتا ہے۔مگر ایسا کرنا اہل سنت ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ شیعہ لوگ انتہائی جہالت اور گمراہی کا شکار ہیں ۔ اور یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ہر وہ چیز جس کا لوگ ان پر انکار کر رہے ہیں ‘ وہ باطل نہیں ہوتی۔ بلکہ ان کے اقوال میں سے کچھ اقوال ایسے ہیں جن میں اہل سنت ان کی مخالفت کرتے ہیں اور بعض مسائل میں موافقت کرتے ہیں ۔ حق وصواب اس چیز میں ہے جو سنت کے موافق ہو۔

لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو ان کے جہری بسم اللہ پڑھنے کو‘ موزوں پر مسح ترک کرنے کو ‘ خواہ سفر میں ہو یا حضر میں ؛ نماز فجر میں قنوت کو ؛ اور حج تمتع ؛ طلاق بدعی کے لزوم ‘ اور قبریں برابر کرنے کو اور نماز میں ہاتھ کھلا چھوڑنے کو بدعت قرار دیتے ہیں ۔ یہ ایسے مسائل ہیں جن میں علماء اہل سنت والجماعت کا اختلاف ہے۔ کبھی اس میں حق بات وہ بھی ہوسکتی ہے جو ان کے قول کے موافق ہو؛ اور کبھی وہ بات حق ہوتی ہے جو ان کے مخالف ہو۔ لیکن یہ سارا معاملہ اجتہادی مسائل میں ہوتا ہے۔ ان پر اس وقت تک انکار نہیں کیا جاسکتا جب تک انہیں خاص شعار نہ بنا لیا جائے جس وقت یہ کسی خاص فرقہ کی نشانی بن جاتا ہے ‘ اس لیے اس کا انکار کرنا لازمی ہوجاتا ہے ۔ اگرچہ بذات خود مسئلہ اس نوعیت کا ہو کہ اس میں اجتہاد جائز ہو۔ اس کی ایک مثال قبر پر ٹہنی گاڑنے کی ہے۔ ایسا کرنا بعض صحابہ کرام سے منقول ہے ۔ اور اس طرح کے دیگر مسائل بھی ہیں ۔

ان کی حماقات میں سے یہ بھی ہے کہ یہ لوگ [اپنے مزعوم ] مہدی منتظر کے لیے کئی ایک مقامات سجائے بیٹھے ہیں ‘جہاں پر وہ امام کا انتظار کررہے ہیں ۔ ایک تو سامراء [معجم البلدان میں ہے؛ سامراء؛ اصل میں سرَّ من راہ ہے۔یہ ایک شہر ہے جو کہ بغداد اور تکریت کے درمیان میں دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر آباد ہے۔ اب یہ شہر ویران ہوچکا ہے۔ سامراء میں حضرت علی بن محمد بن علی بن موسی بن جعفر اور ان کے بیٹے حسن بن علی کی قبریں ہیں ۔ شیعہ کا خیال ہے کہ یہیں پر ان کا امام غائب ہوگیا ہے۔ اب شیعہ امامیہ کا خیال ہے کہ مہدی ادھر ہی کسی غائب میں پوشیدہ ہے؛ وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ؛ زندہ اور موجود ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں : الملل والنحل ۱؍۱۵۰۔ دائرہ المعارف الاسلامیہ ؛ مادہ سامراء۔]کا سرداب ہے ‘ جس کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ امام یہاں پر غائب ہوگیا ہے ۔

اور کئی ایک دوسرے مقامات بھی ہیں جہاں پر گھوڑا یا خچریا کوئی دوسری سواری لیے کھڑے رہتے ہیں تاکہ جب امام کا خروج ہو تو اس پر سواری کرے۔ان مقامات پر ان کے کھڑے ہونے کا وقت صبح اور شام کا ہوتا ہے۔

صفحہ 2 از 6