روافض کی بعض حماقتوں کا تذکرہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

روافض کی بعض حماقتوں کا تذکرہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 6

اور کبھی کبھار کسی دوسرے اوقات میں بھی وہاں چلے جاتے ہیں ۔ اور پھر ان میں سے کوئی ایک آواز لگاتا ہے ‘ اور کہتا ہے : ’’ اے ہمارے آقا! اب باہر تشریف لائیے ۔‘‘[ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامہ کتاب’’ تحفۃ النظار فی غرائب الامصار و عجائب الاسفار ‘‘ ۱؍ ۱۶ (مطبع خیریہ قاہرہ ؛ ۱۳۲۲ہجری )پر شہر ’’حلہ‘‘کے بارے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا ہے :’’ اس شہر کے مین بازار کے قریب ایک مسجد علی ہے جس کے دروازوں پر ریشمی پردے لٹکے ہوئے ہیں ۔ اسے شیعہ لوگ ’’مشہد امام زمان ‘‘ کا نام دیتے ہیں ۔ اور ان کی عادت اور طریقہ یہ ہے کہ ہر رات اہل شہر میں سے سو آدمی مسلح ہوکر نکلتا ہے؛ ان کے ہاتھوں میں ننگی تلواریں ہوتی ہیں ۔پہلے وہ نماز عصر کے بعد امیر شہر کے پاس آتے ہیں ؛ ان کے ساتھ آراستہ و پیراستہ ایک گھوڑا یا خچر بھی ہوتا ہے۔ پھر وہ اس صاحب زمان کے مشہد پر آتے ہیں ۔ اور دروازے پر کھڑے ہوکر پکارتے ہیں : ’’بسم اللہ ! یا صاحب الزمان !بسم اللہ باہر تشریف لائیں ۔ فساد ظاہر ہو چکا؛ ظلم بڑھ گیا؛ اور یہ آپ کے خروج کا وقت ہے۔‘‘]

اس موقع پر اسلحہ کی نمائش بھی کرتے ہیں ؛ حالانکہ وہاں پر ان سے لڑنے والا کوئی نہیں ہوتا ۔

اور کچھ ایسے بھی ہیں جو برابر وہاں پر کھڑے رہتے ہیں اور نماز بھی نہیں پڑھتے ۔ اس لیے کہ اسے اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ نماز میں ہو اور امام نکل آئے؛ اور اسے امام کی خدمت کا موقع نہ مل سکے۔

اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو وہاں سے دور ہونے کی بنا پر؛ جیسے کہ مدینہ طیبہ سے ؛ رمضان کے آخری عشرہ میں سامراء کی طرف منہ کرکے چلاتے ہیں ‘ اور بلند آواز میں امام کو نکلنے کے لیے دہائیاں دیتے ہیں ۔

فرض کریں اگر یہ مان لیا جائے کہ امام کسی غار میں موجود ہے ۔ اور اسے اللہ تعالیٰ نے نکلنے کا حکم دیدیا تو وہ نکل کر ہی رہے گا ‘ خواہ یہ لوگ اسے آوازیں دیں یا نہ دیں ۔اور اگر اسے اجازت نہ ملے تو وہ ان کی بات ہر گز نہیں مانے گا۔ اور جب امام نکلے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائیں گے ‘ اور اس کے لیے سواری کا بھی بندوبست فرمائیں گے۔ اور اس کے معاون و مدد گار پیدا فرمائیں گے۔مگر پھر بھی وہاں پر کھڑے ہونے والے صرف وہی لوگ ہوسکتے ہیں جن کی دنیاوی زندگی کی تمام کوششیں اکارت ہوگئی ہیں ‘ اور وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اچھا کام کررہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان لوگوں کو معیوب گردانا ہے جو ایسے لوگوں کو پکارتے ہیں ‘ جو ان کی پکار کو قبول نہیں کرتے ۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَا یَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍOاِنْ تَدْعُوْہُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآئَ کُمْ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَکُمْ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکْفُرُوْنَ بِشِرْکِکُمْ وَ لَا یُنَبِّئُکَ مِثْلُ خَبِیْرٍ﴾ [فاطر۱۳۔۱۴] 

’’وہ اللہ تمھارا پروردگار ہے، اسی کی بادشاہی ہے اور جن کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے مالک نہیں ۔اگر تم انھیں پکارو تووہ تمھاری پکار نہیں سنیں گے اور اگر وہ سن بھی لیں تو تمھاری درخواست قبول نہیں کریں گے اور قیامت کے دن تمھارے شرک کا انکا ر کر دیں گے اور تجھے ایک پوری خبر رکھنے والے کی طرح کوئی خبر نہیں دے گا ۔‘‘

یہ تواس وقت فرمایا جارہا ہے جب بت موجود بھی تھے؛ اور ان بتوں کے پاس شیاطین ہواکرتے تھے جو کہ کبھی کبھار انہیں نظر بھی آتے اور ان سے کلام بھی کرتے ۔ سو پھر جو کوئی معدوم کو مخاطب کرتا ہے وہ اس انسان سے زیادہ برے حال میں جو موجود کومخاطب کرکے پکارتا ہے اگرچہ وہ موجود جمادات ہی ہو۔پس جو کوئی اس امام غائب کو پکارتا ہو جس کو ابھی تک اللہ تعالیٰ نے پیدا ہی نہیں کیا ؛ تو اس کی گمراہی ان مشرکین کی گمراہی سے بھی بڑھ کر ہے ۔ اگر وہ یہ کہیں کہ ہم اس امام کے موجود ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔ تو یہ دعوی بھی مشرکین کے اس قول کی طرح ہوگا کہ وہ کہا کرتے تھے: ’’ ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ بت اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے۔‘‘

پس اس عقیدہ کی بنا پر وہ ایسے لوگوں کی بندگی کرتے تھے جو ان کو کوئی نفع دے سکتے اور نہ ہی نقصان۔ حالانکہ ان کا دعوی یہی تھا کہ یہ لوگ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں ۔

مقصود یہ ہے کہ یہ دونوں فرقے ایسوں کو پکارتے ہیں جو نہ انہیں نفع دے سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان ۔ اگرچہ ان لوگوں نے اپنے ان [جھوٹے] معبودوں کو اللہ کے ہاں اپنا سفارشی بنا رکھا ہو۔ شیعہ بھی تو یہی کہتے ہیں : ’’ [جسے ہم پکارتے ہیں ‘وہ ] امام معصوم ہے۔ وہ اسی بنیاد پر اس سے دوستی رکھتے ہیں ‘ اور اسی بنیاد پر دشمنی رکھتے ہیں ۔ جیسا کہ مشرکین اپنے معبودوں کی وجہ سے دوستی اور دشمنی رکھتے ہیں ۔ اور پھر اس دوستی اور دشمنی کو ایمان کا اصول قرار دیتے ہیں جس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ بعض مشرکین اپنے معبودوں کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں ۔جب کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَہُ اللّٰہُ الْکِتٰبَ وَ الْحُکْمَ وَ النُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ کُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ لٰکِنْ کُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا کُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْکِتٰبَ وَ بِمَا کُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ*وَ لَا یَاْمُرَکُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِکَۃَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا اَیَاْمُرُکُمْ بِالْکُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ﴾ [آل عمران ۷۹۔۸۰]

’’کسی بشر کا کبھی حق نہیں کہ اللہ اسے کتاب اور حکم اور نبوت دے، پھر وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ لیکن رب والے بنو، اس لیے کہ تم کتاب سکھایا کرتے تھے اور اس لیے کہ تم پڑھا کرتے تھے۔ اور نہ یہ (حق ہے ) کہ تمھیں حکم دے کہ فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لو، کیا وہ تمھیں کفر کا حکم دے گا، اس کے بعد کہ تم مسلم ہو۔‘‘

صفحہ 3 از 6