روافض کی بعض حماقتوں کا تذکرہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

روافض کی بعض حماقتوں کا تذکرہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 6

جب ملائکہ اور انبیاء کو معبود بنانے والوں کا یہ حال ہے تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو ایک ایسے معدوم امام کو اپنا معبود بنارہے ہیں جس کا کوئی وجود ہی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ مَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوْٓا اِلٰھًا وَّاحِدًا لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ سُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ﴾ [التوبۃ ۳۱]

’’انھوں نے اپنے عالموں اور اپنے درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا تھا کہ ایک معبود کی عبادت کریں ، کوئی معبود نہیں مگر وہی ، وہ اس سے پاک ہے جو وہ شریک بناتے ہیں ۔‘‘

سنن ترمذی میں حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی روایت سے ثابت ہے ؛ انہوں نے اس آیت کوسن کر کہا تھا :

’’ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! انہوں نے اپنے درویشوں کی بندگی تو نہیں کی ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ بیشک انہوں نے ان پر حلال چیز کو حرام کیا ‘ اور حرام کو حلال کیا اور لوگوں نے ان کی اطاعت کی ؛ تو یہی چیز عوام کی طرف سے ان کی عبادت کرنا تھی ۔‘‘ [ سنن الترمذي ۴؍۳۱۴۔ وقال: غریب۔] 

ان لوگوں نے تو زندہ اور موجود لوگوں کواپنا رب بنالیا تھا ‘ جب کہ یہ لوگ حلال و حرام کو ایسے معدوم امام کے ساتھ معلق کیے ہوئے ہیں جس کی کوئی حقیقت ہی نہیں ۔ اور پھر یہ لوگ جو بھی کام کرتے ہیں اس کو ثابت کرنے کیلئے کہتے ہیں کہ :

’’ امام نے ان کے لیے اسے حلال کیا ہے ‘ یا پھر امام نے ہی ان پر یہ چیز حرام کی ہے ۔‘‘

خواہ یہ کام کتاب و سنت اور اجماع امت اور سلف صالحین کے عمل کے مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ ان کی حالت تو یہ ہے کہ جب ان کے دو گروہوں میں اختلاف ہوجاتا ہے تو اس وقت وہ قول قابل حجت ہوتا ہے جس کا کہنے والا معلوم نہ ہو۔اس لیے کہ یہی امام معصوم کا قول ہوسکتا ہے ۔ پس اس کی روشنی میں وہ اس چیز کو حلال سمجھتے ہیں جو امام حلال قرار دے ‘ اور اس چیز کوحرام سمجھتے ہیں جس کو امام حرام قرار دے ۔ یہ بات کسی بھی دوسرے فرقہ کے ہاں نہیں پائی جاتی۔ اور یہی ان لوگوں کا مذہب بھی ہے جو کہتے ہیں : امام کو کوئی بھی نہیں جانتا ‘اور نہ ہی اس سے ایک کلمہ بھی روایت کرنا ممکن ہے۔

ان کی حماقتوں کی ایک مثال یہ ہے کہ جس سے یہ لوگ بغض رکھتے ہیں ‘ تو اس کا ایک پتلا بنالیتے ہیں ؛ یہ پتلا کبھی تو جمادات سے بناتے ہیں ؛ اور کبھی حیوان وغیرہ سے۔اورپھر اس جماد یا حیوان کو وہ سزا دیتے ہیں جو ان کی نظر میں اس ناپسندیدہ آدمی کی ہوسکتی ہے جس کا یہ پتلا بنایا گیا ہے۔اور کبھی مینڈھے کو اس کی شکل قرار دیتے ہیں ۔اور کبھی کبھار یہ مینڈھا سرخ رنگ کا ہوتا ہے ‘ اس لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پیار سے حمیراء [گوری ] کہا جاتا تھا۔[نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو پیار سے ان الفاظ میں پکارتے تھے ]۔ پھر اس مینڈھے کو عائشہ رضی اللہ عنہا قرار دیکر اسے تکلیف دیتے ہیں ‘ اور اس کے بال نوچتے ہیں ۔اس عمل سے ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ اس طرح عائشہ رضی اللہ عنہا کو تکلیف ہوتی ہوگی۔

اور ایسے ہی ایک گھی بھری ہوئی مشک کو چھریاں مار کر پھاڑ ڈالتے ہیں ‘اور پھر اس سے گھی پیتے ہیں ‘ اور یہ کہتے ہیں کہ یہ عمر کا پیٹ چاک کیا گیا ہے ‘ اور ہم اس کا خون پیتے ہیں ۔

ایسے ہی کولہو کے چرخ پر گھومنے والے گدھوں میں سے ایک کانام ابو بکر رکھتے ہیں ‘ اور دوسرے کا عمر ؛ اور پھر ان دونوں گدھوں کو انتہائی سخت مارتے ہیں ‘اور یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ ابو بکر و عمر کو سزا دی جارہی ہے ۔ اور کبھی کبھار ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نام گدھے کے پاؤں کے نیچے لکھ دیتے ہیں ۔یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ ایسے گدھوں کے پاؤں پر بہت سخت مارتے ہیں جن پر ان صحابہ کرام کے نام لکھے گئے ہوں ‘اورکہتے ہیں :میں تو ابو بکر وعمر کو سزا دیتا ہوں ؛ اور اس وقت تک ایسا کرتا رہوں گا جب تک یہ پاؤں توڑ نہ دوں ۔‘‘

ان میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے کتوں کے نام ابو بکر وعمر کے نام پر رکھتے ہیں اور ان پر لعنت کرتے ہیں ۔اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو ان صحابہ کرام کے اسماء مبارکہ پر اپنے کتوں کے نام رکھتے ہیں ‘ اور پھر اگر اسے ابو بکر کے بجائے بکیر کہا جائے تو اس پر لڑنا شروع کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ :’’تم جہنمیوں کے نام پر ہمارے کتے کا نام رکھتے ہو۔‘‘

ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے مجوسی غلام ابو لؤلؤ فیروز کی تعظیم صرف اس وجہ سے کرتے ہیں کہ اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا۔ اور کہتے ہیں : ’’ حضرت ابو لؤلؤ کا انتقام ۔‘‘

باتفاق مسلمین ایک کافر کی یہ تعظیم صرف اس وجہ سے ہے کہ اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کوشہید کیا تھا۔

ان کی حماقتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کوئی ایک درگاہ بنالیتے ہیں ‘اور کہتے ہیں :

’’یہ ہے: ’’ مزار ِاہل بیت ۔‘‘

حالانکہ ان کے اس جھوٹ پر کتنی بار لوگ انہیں جھوٹا قرار دے چکے ہیں ۔اور کبھی کبھار اس صاحب مزار کو شہید قرار دیتے ہیں ۔ اور اس پر درگاہ تعمیر کر لیتے ہیں ۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہاں پر عوام الناس میں سے کسی کی قبر ہو‘ یا پھر کسی کافر کی قبر ہو‘ یا [پھر کسی جانور کو دفنا دیاگیا ہو؛ یا پھر فرضی قبر تیار کرلی گئی ہو۔دراوی]۔بہت ساری نشانیوں سے یہ جھوٹ واضح ہوجاتا ہے۔

صفحہ 4 از 6