Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معرکہ قادسیہ کی مناسبت سے چند اشعار

  علی محمد الصلابی

فارسی فوج کے افسران سے مقابلہ کا ذکر کرتے ہوئے قیس بن مکشوح المرادی اپنی اور اپنے مجاہدین ساتھیوں کی بہترین شہ سواری اور مجاہدانہ کارکردگی کو فخریہ انداز میں یوں بیان کرتے ہیں

جلبت الخیل من صنعاء تردی

بکل مدجج کاللیث سامیی

میں ہتھیاروں سے لیس ہو کر صنعاء سے گھوڑا لے کر چلا، وہ شکار پر حملہ آور ببر شیر کی طرح قلانچیں مار رہا تھا۔

إلی وادی القری فدیار کلب

إلی الیر موک فالبلد الشامی

’وہ وادی قریٰ، دیار کلب اور یرموک سے ہوتے ہوئے ملک شام پہنچا۔

وجئنا القادسیۃ بعد شہر

مسومۃ دوا برہا دوامی

ہم ایک مہینہ (سفر کرنے) کے بعد قادسیہ پہنچے اور گھوڑوں کے کھر زخم خوردہ اور خون آلود ہو چکے تھے۔

فناہضنا ہنالک جمع کسرٰی

وابناء المرازبۃ الکرام

’’ہم نے وہاں پہنچ کر کسریٰ کی فوج اور فارس کے معزز سرداروں سے مقابلہ کیا۔

فلما أن رأیت الخیل جالت

قصدت لموقف الملک الہمام

جب میں نے دیکھا کہ گھوڑے چوکڑیاں بھر رہے ہیں تو میں (دشمن کے) بہادر بادشاہ کو تلاش کرنے لگا۔

فأضرب رأسہ فہو صریعا

بسیف لا أفل ولا کہام

تاکہ اس کی گردن ایسی تلوار سے ماروں جو نہ ابھی کند ہوئی ہے نہ اس کی دھار ختم ہوئی ہے اور پھر وہ مقتول ہو کر لڑھک گیا۔

وقد أبلی الإ لہ ہناک خیرًا

وفعل الخیر عند اللہ نامی

(الادب الإسلامی: دیکھیے نایف معروف: صفحہ 222، 223)

اللہ نے وہاں (ہمیں) بہترین طریقے سے آزمایا اور کار خیر ہی اللہ کے نزدیک برکت و ثواب کا ذریعہ ہے۔

اور بشر بن ربیع خثعمی نے کہا: 

تذکر ہداک اللہ وقع سیوفنا

بباب قدیس والمکر عسیر

اللہ تمہیں توفیق دے! تم قدیس کے دروازے پر ہماری تلواروں کی کاٹ یاد کرو جب کہ حملہ آسان نہ تھا۔

عشیۃ ود القوم لو أن بعضہم

یعارجناحی طائر فیطیر

وہ ایسی رات تھی جس میں لوگوں کی خواہش تھی کہ اگر پرندوں کے پر مستعار مل جائیں تو اڑ جائیں۔

إذا ما فرغنا من قراع کتیبۃ

دلفنا لأخری کالجبال تسیر

ایک لشکر کو تہ تیغ کرنے سے فارغ ہوتے ہی دوسرے کی طرف پہاڑوں کی طرح چل دیے۔

تری ا لقوم فیہا واجمین کأنہم

جمال بأجمال لہن زفیر

(الأدب الاسلامی: صفحہ 215)

تم دیکھو گے کہ بلبلانے والے اونٹوں کی طرح وہ لوگ سخت غصہ سے خاموش ہیں۔

اور بعض شعراء نے یوں کہا:

وحیتک عنی عصبۃ نخعیۃ

حسان الوجوہ آمنوا بمحمد

خوبصورت چہروں والے، نخعیوں کی جماعت نے جو محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان لا چکی ہے، تجھے میرا سلام پہنچا دیا ہے۔

اقامو لکسرٰی یضربون جنودہ

بکل رقیق الشفرتین مہند

وہ کسروی فوج کے سامنے ڈٹ گئے، وہ بے مثال تیغ براں سے کسریٰ کی فوج کو کاٹنے لگے۔

إذا ثوب الداعی أنا خوا بکلکل

من الموت مسود الغیاطیل أجرد

جب اعلان جنگ کرنے والا جنگ کا اعلان کرتا ہے تو وہ سیاہ رنگ اور ننگی پیٹھ والے موت کے نمائندہ اونٹوں سے ان کو روند ڈالتے ہیں۔

اور بعض شعراء نے کہا

وجدنا الأکرمین بنی تمیم

غداۃ الروع اکثرہم رجالا

ہم نے دیکھا کہ جب لڑائی شروع ہوئی تو بنو تمیم کے معزز و اشراف وہاں موجود تھے اور ان میں اکثر مرد میدان تھے۔

ہموا ساروا بارعن مکفہر

الی لجب یرونہم رعالا

وہ لوگ رات کی سخت تاریکی میں میدان کارزار سے اٹھتی ہوئی گھوڑوں کی ہنہناہٹ کی طرف بڑھے، ان کے خیال میں وہ (جنگی گھوڑے نہیں) شتر مرغ تھے۔

بحور للاکا سر من رجال

کاسد الغاب تحسبہم جبالا

نامور بہادروں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر، جھاڑی کے شیر کی طرح کسروی فوج کے سامنے ڈٹ گیا وہ تمہیں ایسے لگیں گے کہ (انسان نہیں) پہاڑ ہیں۔

ترکن لہم بقادس عز فخر

وبالخیفین ایاما طوالا

(انہوں نے) قادسیہ میں فخر و سربلندی کے کارنامے چھوڑے اور خیفین میں ان کی بہادری کی ایک لمبی داستان ہے۔

مقطعۃ اکفہم وسوق

بمرد حیث قابلت الرجالا

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 47)

نامرد دشمن کی ہتھیلیاں اور پنڈلیاں کٹی پڑی ہیں، اس لیے کہ ان کا مقابلہ مردوں سے ہوا ہے۔

نابغہ جعدی بھی فتوحات فارس پر نکلتے ہوئے اپنی بیوی کی فرقت اور اس کی آہ و بکا کی تصویر کشی ان الفاظ میں کرتے ہیں:

باتت تذکرنی باللّٰہ قاعدۃ

والدمع ینہل من شأنیہا سبلا

وہ مجھے اللہ کا واسطہ دیتی ہے، غم فرقت میں بیٹھ کر رات گذارتی ہے اور اس کے دونوں گوشہ ہائے چشم سے آنسوؤں کی موسلا دھار بارش ہوتی ہے۔

یا بنت عمی کتاب اللّٰہ أخرجنی

کرہا، وہل أمنعن اللّٰہ ما بذلا

اے میرے چچا کی لڑکی، (سن لو!) کتاب الہٰی نے مجھے اس کے لیے گھر سے باہر نکلنے پر مجبور کیا ہے۔ اللہ نے مجھے جو کچھ نوازا ہے میں اسے اس کے راستہ میں لٹانے سے باز آنے والا نہیں۔

فإن رجعت فرب الناس أرجعنی

وإن لحقت بربی فابتغی بدلا

اگر میں لوٹ آیا تو لوگوں کے رب نے مجھے لوٹایا اور اگر اپنے رب سے جا ملا تو اس سے سرفروشی کے ثواب کا طالب ہوں۔

ما کنت أعرج أو أعمی فیعذرنی

او ضارعا من ضنی لم یستطع جولا

 (الادب الإسلامی: صفحہ 214)

میں لنگڑا، اندھا یا بیماری کی وجہ سے لاغر نہیں ہوں کہ وہ ناتواں مان کر مجھے معذور سمجھے۔