فصل: رافضیوں کا جھوٹ اور علم سے تہی دامنی - ردِ رافضیت |…

فصل: رافضیوں کا جھوٹ اور علم سے تہی دامنی

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 7

مثلاً شیعہ علماء کے یہاں ابو محنف[ابو محنف شیعہ رواۃ میں سے مقابلتاً کم درجہ کا ضعیف راوی ہے، اور اس میں ضعف کم پایا جاتا ہے۔ محدث ابن عدی اسکے بارے میں فرماتے ہیں : ’’ یہ کٹر شیعہ اور اخباری راوی ہے۔‘‘ حافظ ذہبی میزان الاعتدال میں فرماتے ہیں : ’’ یہ ایک قصہ گو شخص ہے جس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، ابو حاتم نے اس کی روایت قبول نہیں کی۔‘‘ فیروز آبادی نے بھی اپنی کتاب ’’ القاموس المحیط ‘‘ میں یونہی لکھا ہے: کہا جاتا ہے، کہ لوط بن یحییٰ ابو محنف ۱۵۷ھ میں فوت ہوا۔] لُوط بن یحییٰ اور ہشام بن محمد بن سائب کلبی [ہشام کا نام و نسب ابو المنذر ہشام بن محمد بن سائب المتوفی ۲۰۴ھ ہے،یہ قصہ گو اور ماہر انساب تھا اس کے بارے میں امام احمد رحمہ اللہ کا قول سب سے زیادہ سچا ہے، فرماتے ہیں :’’ یہ قصہ گو او ماہر انساب ہے، میں یہ نہیں خیال کرتا کہ کوئی اس سے حدیث روایت کرتا ہو، یہ ان اخبار و انساب کا مرجع ہے، جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں ، جہاں تک حدیث رسول کا تعلق ہے، مسلمان اس سے زیادہ دانش مند ہیں ، کہ وہ اس کے دھوکہ میں آئیں ۔‘‘ کلبی کے بارے میں محدث ابن عساکر نے حسب ذیل رائے کا اظہار کیا ہے:’’کلبی شیعہ ہے اور اعتماد کے قابل نہیں ۔‘‘] اوران جیسے دیگر لوگوں کی روایات بھی قابل اعتماد ہیں حالانکہ اہل علم کے ہاں یہ لوگ جھوٹ میں مشہور و معروف ہیں ۔اور اس قابل نہیں ہیں کہ ان کی روایات پر اعتماد کیا جاسکے۔ اس لیے کہ یہ لوگ انتہائی درجہ کی جہالت اورگمراہی کا شکار ہیں ۔ اہل علم اپنی کتابوں میں ان لوگوں سے روایات نقل کرنے سے گریز کرتے ہیں ۔علماء کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سب سے بڑھ کر جھوٹا فرقہ رافضیوں کا ہے ۔ابو حاتم یونس بن عبدالاعلی[یہ اپنے زمانہ میں امام مصر اور وہاں کے جید فاضل تھے ۲۶۴ھ میں وفات پائی۔]روایت کرتے ہیں ، کہ اشہب [اشہب بن عبدالعزیز قیسی المتوفی (۱۴۰۔ ۲۰۴) یہ ائمہ مصر میں سے تھے اور امام مالک اور لیث بن سعد کے شاگرد تھے۔ ]بن عبدالعزیز کہتے ہیں : امام مالک رحمہ اللہ سے جب روافض کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا:

’’ لَا تُکَلِّمْہُمْ وَلَا تَرْوِعَنْہُمْ فَاِنَّہُمْ یَکْذِبُوْنَ ۔‘‘

’’شیعہ سے بات کیجئے نہ ہی ان سے روایت کیجئے، اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔‘‘

ابو حاتم فرماتے ہیں : ہم سے حرملہ [حرملہ بن یحییٰ نجیبی المتوفی ۲۴۳ یہ امام شافعی کے تلمیذ خاص اور مصر کے یکتائے روز گار فاضل تھے، انہوں نے امام مالک کے تلمیذ خاص ابن وہب سے تقریباً ایک لاکھ روایات اخذ کیں ۔]نے بیان کیا کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ کو یہ فرماتے سنا:

’’ لَمْ اَرَاَحَدًا اَشْہَدَ بِالزُّوْرِ مِنَ الرَّافِضَۃِ ۔‘‘

’’میں نے شیعہ سے زیادہ جھوٹی گواہی دینے والا کوئی نہیں دیکھا۔‘‘

مؤمل بن اہاب[مؤمل بن اہاب ربعی المتوفی ۲۵۴ھ ان سے ابو داؤد اور نسائی نے روایت کی ہے۔] کہتے ہیں ، میں نے یزید بن ہارون[یزید بن ہارون واسطی مشہور حافظ حدیث اور امام احمد کے استاد تھے، ان کی مجلس درس میں ستر ہزار طلبہ ہوا کرتے تھے، ۲۰۶ ھ میں فوت ہوئے۔] کو سنا آپ فرماتے تھے:’’ ہر بدعتی کی روایت قبول کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ وہ بدعت کا داعی نہ ہو البتہ شیعہ کی روایت مقبول نہیں کیونکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔‘‘

محمد بن سعید[محمد بن سعید اصفہانی مشہور محدث شریک کے تلامذہ میں سے تھے، امام بخاری نے ان سے روایت کی ہے، یہ ۲۲۰ھ میں فوت ہوئے۔]اصفہانی فرماتے ہیں : میں نے شریک [شریک بن عبداﷲ نخعی المتوفی (۹۵۔۱۷۷) کوفہ کے قاضی اور عبداﷲ بن مبارک کے شیوخ میں سے ہیں ، یہ محدث ثوری اور امام ابو حنیفہ کے معاصر اور رفیق تھے۔آپ شیعہ میں سے تھے ‘ اور خود اپنی زبان سے کہا کرتے تھے: میں شیعہ ہوں ۔ اور یہ ان کی گواہی اپنے ہی لوگوں کے متعلق ہے ۔] کو یہ کہتے سنا:’’میں جس آدمی سے بھی ملوں اس سے علم حاصل کر لیتا ہوں البتہ شیعہ سے علم حاصل نہیں کرتا؛ اس لیے کہ وہ حدیثیں گھڑ لیتے ہیں اور پھر انہیں دین بنا لیتے ہیں ۔‘‘

یہ شریک بن عبداللہ القاضی ؛ کوفہ کے جج تھے۔ امام ابو حنیفہ اور امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کے ہم پلہ اور ہم مثل لوگوں میں سے ایک تھے۔ یہ خود شیعہ تھے؛ اور اپنی زبان سے اپنے شیعہ ہونے کا اقرار کرتے تھے۔ اور اپنے ہی لوگوں کے بارے میں یہ ن کی گواہی ہے جو حقیقت پر مبنی ہے۔

ابو معاویہ کا قول ہے کہ میں نے سنا اعمش رحمہ اللہ فرماتے تھے:

’’لوگ اصحاب مغیرہ بن سعید کو کذاب کا نام دیتے ہیں اور کذاب کی شہادت بالاتفاق مردود ہے۔‘‘

حضرت اعمش رحمہ اللہ کہتے ہیں : ’’ تمہارے لیے یہ ضروری ہے کہ تم ان چیزوں کو یاد رکھو۔ اس لیے کہ میں خود کو اس بات سے مامون نہیں سمجھتا کہ یہ لوگ کہیں کہ : ’’ ہم نے اعمش کو ایک عورت کے ساتھ پایا ۔‘‘

یہ روایات تاریخ میں ثابت ہیں ۔ انہیں امام ابو عبد اللہ بن بطہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’ الابانہ الکبری‘‘ میں ؛اور دوسرے لوگوں نے اپنی تصنیفات میں نقل کیا ہے ۔ ابو القاسم الطبری نے روایت کیا ہے : امام شافعی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:

’’ میں نے گمراہ فرقوں میں سے رافضیوں سے بڑھ کر جھوٹی گواہی دینے والا کوئی نہیں دیکھا۔‘‘

یہ روایت حرملہ رحمہ اللہ نے بھی نقل کی ہے ؛ اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ :

’’ میں نے رافضیوں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ پر جھوٹی گواہی دینے والا کوئی نہیں دیکھا۔‘‘

صفحہ 2 از 7