فصل: رافضیوں کا جھوٹ اور علم سے تہی دامنی - ردِ رافضیت |…

فصل: رافضیوں کا جھوٹ اور علم سے تہی دامنی

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 7

یہ معنی اگرچہ صحیح ہے؛ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ سے پہلے الفاظ ثابت ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی وہی اصول بیان کیا ہے جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں نے بیان کیا ہے کہ جو لوگ جھوٹ بولنے میں مشہور ہوں ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی ؛ جیسا کہ خطابیہ ۔ [خطابیہ غالی شیعہ کا ایک گروہ ہے؛ جو کہ ابو الخطاب محمد بن ابو زینب مقلاس اسدی الکوفی الاجدع (مقتول ۱۴۳ہجری ) کے پیروکار ہیں ۔ نوبختی نے فرق الشیعۃ ص ۳۷۔ ۳۸ پر کہا ہے: ’’’ ابو الخطاب کا دعوی تھا کہ ابو عبداللہ جعفر بن محمد (الصادق) نے اسے اپنے بعد اپنا وصی اور قیم بنایا تھا۔ اور اسے اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کی تعلیم دی تھی۔ پھر اس نے ایک قدم آگے بڑھ کرنبوت کا دعوی کیا۔ پھر اور ترقی کرتے ہوئے رسالت کا دعوی کیا۔ پھر دعوی کیا کہ وہ اصل میں فرشتوں میں سے ہے جو اہل زمین کی طرف اللہ تعالیٰ کا فرستادہ پیغمبر ہے۔ اور اہل زمین پر اللہ تعالیٰ کی حجت ہے۔ اشعری نے بتایا ہے کہ خطابیہ کے بھی پانچ فرقے ہیں ۔ [مقالات الاسلامیین ۱؍۱۷۵۔ الملل و النحل ۱؍ ۳۸۰۔ الفرق بین الفرق ص ۱۵۰۔ التبصیر فے الدین ص ۷۳۔فرق الشیعۃ ص ۶۳۔ الخطط للمقریزی ۲؍ ۳۵۲۔ رجال الکشی ص ۲۴۶۔ ]]

جھوٹ میں معروف لوگوں کی گواہی رد کرنااہل فقہ علمائے کرام کے مابین متفق علیہ مسئلہ ہے۔ جب کہ باقی تمام اہل بدعت گمراہ خواہشات کے پجاری فرقوں کی گواہی قبول کرنے کے متعلق اختلاف ہے۔ ان میں سے بعض کہتے ہیں : ان کی گواہی مطلق طور پر قبول کی جائے گی۔ اور بعض کہتے ہیں : مطلقاً رد کی جائے گی۔ اور بعض کہتے ہیں : جب ایسی گواہی ہو جس میں ان کی بدعت کی طرف دعوت ہو تو رد کی جائے گی؛ ورنہ قبول کر لی جائے گی۔ محدثین کے ہاں یہی تیسرا قول غالب طور پر مقبول ہے۔ وہ ایسی روایت نقل نہیں کرتے جس میں بدعت کی طرف دعوت ؛ یا اس پر شہادت ہو۔یہی وجہ ہے کہ ان کی امہات کتب جیسے صحاح ؛ مسانید ؛ سنن میں کوئی ایسی روایت نہیں ہے جو ایسے راوی سے ہو جو اپنی بدعت کی طرف دعوت دینے میں مشہور ہو۔ اگرچہ ان میں ایسے راوی ضرورپائے جاتے ہیں جن میں کسی نہ کسی حد تک بدعت کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ جیسے خوارج ؛ مرجئہ ؛ شیعہ؛ قدریہ وغیرہ۔ اس لیے کہ ان سے کوئی ایسی روایت منقول نہیں ہے جو ان کے فسق کی طرف دعوت دیتی ہو۔ جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے۔ لیکن جو کوئی اپنی بدعت کا اظہار کرے اس کا انکار کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ بخلاف اس کے جو کوئی اپنی بدعت کو چھپاتا ہو اور اسے خفیہ رکھتا ہو۔ جب انکار کرنا واجب ہے تو پھر یہ بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ اس سے قطع تعلقی کی جائے حتیٰ کہ وہ اپنی بدعت کے اظہار سے باز آجائے۔ اور قطع تعلقی میں سے یہ بھی ہے کہ اس سے علم حاصل نہ کیا جائے؛ اور نہ ہی اس کے کلام سے دلیل پیش کی جائے۔

ایسے ہی اہل فجور اور اہل بدعت کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں بھی فقہائے کرام رحمہم اللہ کا اختلاف ہے۔ان میں سے بعض مطلق طور پر اس کی اجازت دیتے ہیں ؛ اور بعض مطلق طور پر منع کرتے ہیں ۔اور اس مسئلہ کی تحقیق یہ ہے کہ ان کے پیچھے نماز اس وجہ سے منع نہیں ہے کہ ان کی اپنی نماز نہیں ہوتی۔لیکن اس کی وجہ یہ ہے

کہ جب وہ لوگ برائی کا پرچار کرتے ہیں تو اس بات کے مستحق قرار پاتے ہیں کہ ان سے قطع تعلقی کی جائے؛ اور انہیں مسلمانوں کو نماز پڑھانے کے لیے آگے نہ بڑہایا جائے۔اور اسی باب سے یہ مسئلہ بھی تعلق رکھتا ہے کہ اگر وہ بیمار ہوجائیں تو ان کی عیادت نہ کی جائے؛ اور اگر مر جائیں تو ان پر نماز جنازہ نہ پڑھا جائے۔ ان تمام امور کا تعلق اس مشروع قطع تعلقی سے ہے جس کا مقصد انہیں برائی سے روکنا ہوتا ہے۔‘‘

جب یہ بات معلوم ہوگئی یہ مسئلہ شرعی عقوبات سے تعلق رکھتا ہے ؛ تو یہ بھی پتہ چل گیا کہ اس میں بدعت کی قلت و کثرت کے اختلاف احوال اور سنت کے ظہور و خفاء کے لحاظ سے اس کی نوعیت بھی مختلف ہوتی ہے۔ اور یہ کہ کبھی تو تألیف قلب مشروع ہوتی ہے؛اور کبھی قطع تعلقی۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار مشرکین میں سے نو مسلم لوگوں کی تالیف قلب کرتے تھے؛ جن کے بارے میں آپ کو فتنہ کا اندیشہ ہوتا تھا۔تو پھر مؤلفۃ القلوب کو وہ کچھ عطا فرماتے جو دوسروں کو نہیں دیا کرتے تھے۔

جیسا کہ صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’ میں بعض لوگوں کو دیتا ہوں اور بعض کو نہیں دیتا؛ لیکن میں جس کو نہیں دیتا وہ میرے نزدیک ان سے زیادہ محبوب ہیں جن کو میں دیتا ہوں ۔ میں تو ان لوگوں کو دیتا ہوں جن کے دلوں میں بے صبری اور لالچ پاتا ہوں ۔ لیکن جن کے دل اللہ تعالیٰ نے خیر اور بے نیاز بنائے ہیں ، میں ان پر بھروسہ کرتا ہوں ۔ عمرو بن تغلب بھی ان ہی لوگوں میں سے ہیں ۔‘‘[رواہ البخاری ۲؍۱۰؛ کتاب الجمعۃ باب من قال في الخطبۃ بعد الثناء....مسند أحمد ۵؍۶۹]

ایک دوسری حدیث میں ہے آپ نے ارشاد فرمایا:

’’ میں کسی دوسرے آدمی کو صرف اس ڈر کی وجہ سے دیتا ہوں کہ کہیں اللہ تعالیٰ اسے چہرہ کے بل جہنم کی آگ میں نہ گرا دیں ۔‘‘ [البخاری ۱؍۱۰؛ کتاب الإیمان ؛ باب إذا لم یکن الإسلام علی الحقیقۃ....]

اور کبھی کبھار آپ بعض مسلمانوں سے لاتعلقی بھی اختیار کر لیتے تھے؛ جیسے ان تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا قصہ ہے جو غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے۔ کیونکہ اس سے مقصود اچھے طریقہ سے مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت گزاری کی طرف دعوت دینا ہوتا ہے۔ پس جہاں پر مناسب ہو وہاں ترغیب کا اسلوب استعمال کیا جاتاہے۔ اور جہاں پر مناسب ہو وہاں ترہیب کا اسلوب بروئے کار لایا جاتا ہے۔

جس انسان کو ان امور کا علم حاصل ہوگیا؛ اس پر واضح ہو جاتا ہے کہ جن لوگوں نے تأویل کی بنا پر اہل بدعت کی شہادت اور روایت کو مطلق طور پر رد کیاہے؛ ان کا قول ضعیف ہے۔ کیونکہ سلف اس تأویل کی بنا پر بہت بڑی آزمائشوں میں مبتلا ہوئے تھے۔

صفحہ 3 از 7