فصل: رافضیوں کا جھوٹ اور علم سے تہی دامنی - ردِ رافضیت |…

فصل: رافضیوں کا جھوٹ اور علم سے تہی دامنی

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 7

اور ایسے ہی جو لوگ بدعت کا اظہار کرنے والوں کو علم و شہادت کا امام بنائے پھرتے ہیں ؛ اور ان کی اس برائی کا انکار نہ ہی قطعی تعلقی سے کیا جائے اور نہ ہی کسی دیگر ذریعہ سے ؛ تو ان کا یہ قول بھی ضعیف ہے۔ ایسے جو لوگ بدعت کا اظہار کرنے والوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں ؛ نہ ہی ان پر انکار کرتے ہیں ؛ اور نہ ہی قدرت ہونے کے باوجود اس کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں ؛اور انہیں اس سے بہتر گردانتے ہیں ؛ ان کا قول بھی ضعیف ہے۔اس انسان پر لازم آتا ہے کہ جس برائی کو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نا پسند کرتے؛ اگر یہ قدرت رکھتا ہے تو اس برائی کا انکار کرے۔ مگر یہ انسان تو ایسا کرنے کو جائز نہیں سمجھتا۔ اور ایسے ہی جو کوئی ان لوگوں کے نماز دوبارہ پڑھنے کو واجب کہتے ہیں جنہوں نے اہل بدعت یا فسق و فجور میں مبتلا لوگوں کے پیچھے نماز پڑھ لی ہو؛ تو ان کا قول بھی ضعیف ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ سلف صالحین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور دوسرے حضرات نے ان میں سے ہر ایک گروہ کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں ؛ جب یہ لوگ ان پر حاکم بن گئے تھے۔ [ابو معاویہ محمد بن حازم المتوفی ۱۹۵ یہ نابینا ہونے کے باوصف بہت بڑے فاضل تھے، یہ اعمش کے تلامذہ میں سے تھے۔]یہی وجہ ہے کہ اہل سنت کے ہاں طے شدہ اصول ہے : جو نمازیں حکمران پڑھائیں ؛ ان کے پیچھے پڑھ لی جائیں بھلے وہ کسی بھی حال میں ہوں ۔ جیسا کہ ان کے ساتھ حج اور جہاد کیا جاتا ہے ۔ [اعمش کا اصلی نام سلیمان بن مہران ہے، ان کی تاریخ وفات (۶۴۔۱۴۸) ہے، یہ بہت بڑے حافظ اور قاری تھے سفیان بن عیینہ اعمش کے بارے میں فرماتے ہیں : ’’یہ بہت بڑے حافظ قاری اور عالم تھے، صداقت بیانی کی وجہ سے ان کو المصحف کہا جاتا تھا۔‘]یہ مسائل کئی مقام پر تفصیل سے بیان ہوئے ہیں ۔ 

یہاں پر اتنا بیان کرنا مقصود ہے کہ اہل علم [علماء کرام ] کا اتفاق ہے کہ اہل قبلہ کے فرقوں میں رافضیوں سے بڑھ کر جھوٹا فرقہ کوئی بھی نہیں ۔‘‘جو شخص کتب جرح و تعدیل ؛ اور راویوں کے حالات زندگی کو بغور پڑھنے کا عادی ہے ؛ جیساکہ یحییٰ بن سعید القطان ‘ علی المدینی ؛ یحی بن معین‘ امام بخاری‘ ابو زرعہ ؛ ابو حاتم الرازی‘ امام نسائی ‘ ابو حاتم بن حبان ‘ ابو احمد بن عدی ‘ دار قطنی ؛ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی؛ یعقوب بن سفیان الفسوی؛ احمد بن عبد اللہ بن صالح العجلی ؛العقیلی ؛ محمد بن عبد اللہ بن عمار الموصلی ؛حاکم نیشاپوری ؛ حافظ عبد الغنی بن سعید المصری اور ان جیسے معروف اہل علم ‘مصنفین اور ماہرین تنقید نگار رحمہم اللہ ؛ اور اسناد کے احوال کے جانکار سبھی لوگ یہ کہتے ہیں کہ:

’’ اہل علم کے نزدیک لوگوں کے ہر طبقہ میں شیعہ زیادہ ترجھوٹ میں معروف ہوتے ہیں ۔‘‘[مغیرہ بن سعید کوفی مشہور رافضی اور کذاب تھا، اسے ۱۱۹ھ میں خالد بن عبداﷲ قَسری کے عہد امارت میں سولی دیا گیا تھا، یہ آیت: ﴿ اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ ﴾ کی تحریف کر کے اسے غلط معانی پہنایا کرتا تھا۔ یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کا عقیدہ رکھتا تھا۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے رفقاء کے سوا ابوبکر و عمر اور جملہ صحابہ کی تکفیر کرتا تھا۔ یہ ایک یہودی عورت سے کچھ پڑھا کرتا تھا، جب دریافت کیا گیا کہ تم کیا پڑھتے ہو؟ توکہنے لگا ’’ میں جادو سیکھتا ہوں ۔‘‘ ائمہ اہل بیت اس کی دروغ بیانی اور دین اسلام میں کفر والحاد کے ارتکاب کی بنا پر اس سے اظہار براء ت کیا کرتے تھے۔]

یہاں تک کہ امام بخاری رحمہ اللہ جیسے لوگوں نے پرانے شیعہ ‘جیسا کہ عاصم بن ضمرہ ‘ حارث الاعور؛ عبد اللہ  بن سلمہ رحمہم اللہ اور ان جیسے دیگر لوگوں سے ایک روایت بھی نقل نہیں کی؛حالانکہ یہ شیعہ فرقہ میں سب سے بہتر لوگ تھے۔ بلکہ یہ لوگ اہل بیت سے روایت کرتے ہیں جیسے کہ : حضرات حسن ‘ حسین ‘ رضی اللہ عنہمامحمدبن حنفیہ ؛ ان کے آزاد کردہ غلام عبیداللہ بن ابی رافع ۔اور ابن مسعود کے ساتھیوں سے بھی روایت کرتے ہیں ؛ جیسے کہ : عبیدہ السلمانی ؛ حارث بن قیس رحمہ اللہ اور ان جیسے دوسرے لوگ ۔ یہ لوگ نقل ِ روایات کے امام اورنقاد ہیں ‘اور لوگوں میں سب سے بڑھ کر خواہشات سے دور رہنے والے؛ اور لوگوں کے احوال سے خوب باخبراور حق بات کہنے والے ہیں جنہیں اللہ کے دین کے بارے میں کسی ملامت گر کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔

بدعات مختلف اقسام کی ہوتی ہیں ۔ خوارج دینی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں ‘وہ دین اسلام سے ایسے نکل جاتے ہیں ‘ جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جنگ کرنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ اور صحابہ کرام اور اہل اسلام علماء کرام رحمہم اللہ کا ان کے ساتھ جنگ کرنے پر اتفاق ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دس اسناد کے ساتھ صحیح احادیث ثابت ہیں ۔جنہیں امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے ۔ان میں سے تین روایات امام بخاری نے نقل کی ہیں ۔یہ ایسے لوگ نہیں ہیں جو جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہوں ‘ بلکہ یہ اپنی سچائی میں سب سے بڑھ کر معروف ہیں ۔ اس کی حدیہ ہے کہ ان کی نقل کردہ روایت کو اصح الحدیث کہاجاتا ہے۔ [خوارج کے نزدیک جھوٹ بولنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب اور ابدی جہنمی ہے، یہی وجہ ہے کہ خوارج ظالم ہونے کے باوجود جھوٹ نہ بولتے تھے]مگر یہ لوگ اپنی بدعت کی وجہ سے گمراہی اور جہالت کا شکار ہوگئے۔ ان کی بدعت زندیقیت یا الحاد کی وجہ سے نہیں تھی؛ بلکہ کتاب اللہ کے معانی و مفاہیم سے جہالت اورگمراہی کی وجہ سے تھی۔ 

صفحہ 4 از 7