فصل: رافضیوں کا جھوٹ اور علم سے تہی دامنی - ردِ رافضیت |…

فصل: رافضیوں کا جھوٹ اور علم سے تہی دامنی

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 7

جب منقولات اور عقلیات میں شیعہ کا اعتماد آج کل(یعنی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے دور میں ) معتزلہ کی تصانیف پر ہے۔ معتزلہ ان سے بڑھ کر عقلمند اور سچے ہوتے ہیں ۔ انکار تقدیر اور سلب صفات میں شیعہ معتزلہ کے ہم نوا ہیں ۔ بخلاف ازیں کوئی معتزلی حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت سے منکر نہیں ۔ بلکہ جمہور معتزلہ ان کی عزت و عظمت کے قائل ہیں ۔جب کہ تفضیل کے مسئلہ میں ان کے جمہور ائمہ متقدمین حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہماکی فضیلت کے قائل تھے۔ جب کہ متأخرین میں ایسے لوگ بھی ہوئے ہیں جو فضیلت کے بارے میں توقف کرتے تھے۔ اور بعض حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے قائل تھے۔ اس بنا پر ان کے اور زیدیہ کے درمیان ایک گونا تعلق قائم ہوگیا؛ اور یہ لوگ توحید ‘ عدل ‘ امامت اور تفضیل میں مشترک ہوگئے۔

قدیم معتزلی ائمہ جیسے : عمرو بن عبید[عمرو بن عبید بن باب أبو عثمان ؛ معتزلہ کا امام تھا۔۱۴۴ھ میں فوت ہوا۔ [المنیۃ و الأمل لابن المرتضی ص ۲۲۔ شذرات الذہب ۱؍۲۱۰۔تاریخ بغداد ۱۲؍۱۶۶۔مروج الذہب للمسعودی ۳؍۳۱۳۔ ]] ؛ واصل بن عطاء[واصل بن عطا الغزال حسن بصری رحمہ اللہ کا شاگرد تھا؛ پھر آپ سے علیحدگی اختیار کر لی؛ اور اس کے اتباع کاروں کو معتزلہ کہا جانے لگا۔ یہ معتزلہ کا بڑا سرغنہ شمار ہوتاہے۔ اس کی وفات ۱۳۱ھ میں ہوئی۔[الملل والنحل ۱؍۵۰۔الفرق بین الفرق ص ۷۰۔ شذرات الذہب ۱؍۱۸۲۔]]؛اور دوسرے لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عدالت کے بارے میں توقف کیا کرتے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو یہ کہا کرتے تھے : 

’’حضرت علی اور حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم کے دو گروہوں میں سے کوئی ایک فاسق ہے ۔ مگر اس فاسق کو متعین نہیں کرتے تھے۔اگر ان دو میں سے کوئی ایک گواہی دے ‘تو اس کے فسق و فجور کی وجہ سے ان دو میں کسی ایک کے فاسق ہونے کی وجہ سے اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ مگر اس فاسق کی تعین نہیں۔اور اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کسی دوسرے عادل انسان کے ساتھ مل کر گواہی دیں تو پھر ان کے ہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گواہی قبول کرنے کے بارے میں اختلاف ہے ۔ ‘‘

شیعہ متکلمین مثلاً ہشام[ہشام بن حکم مشہور زندیق ابو شاکر دیصانی کا غلام اور اس کا تربیت یافتہ تھا، ابو شاکر ہی سے اس نے الحاد و زندقہ اور تجسیم کی تعلیم پائی۔ جب ابو شاکر مر گیا تو یہ کسی اور ملحد استاد کی تلاش میں سر گرداں رہنے لگا، اتفاقاً اس کی ملاقات ایک جہمی العقیدہ شخص سے ہو گئی۔ ہشام تجسیم کا عقیدہ رکھتا تھا اس کے عین بر خلاف جہم نفی صفات کا قائل تھا۔ تاہم الحاد و زندقہ اور غلوفی البدعت میں دونوں ایک دوسرے کے ہم نوا تھے۔ برا مکہ مجوس کے آتشکدہ کے متولی چلے آتے تھے۔ جب انہیں ہشام کا پتہ چلا تو وہ اسے بے حد چاہنے لگے۔ روپیہ پیسہ سے اس کی مدد کی اور اس کی ذہانت کو اپنی اغراض کے لیے استعمال کرنے لگے۔ شاید برامکہ کی وجہ ہی سے ہشام شیعہ سے وابستہ ہو گیا۔ جس سے برا مکہ کا مقصد یہ تھا کہ اس طرح غالی شیعہ کو اس کا تعاون حاصل رہے گا۔ اور وہ نو عمر لوگوں کو تشیع کے جال میں پھنسا سکیں گے۔ علاوہ ازیں وہ اکابر شیعہ سے مل کر برا مکہ کے بڑے بڑے کام نکالے گا، شیعہ مذہب میں مختلف عنصر کے لوگ پائے جاتے تھے۔ ہشام کے عہد اقتدار ہی میں خلیفہ ہارون رشید اپنی خواب غفلت سے چونکا اور برا مکہ شعوبیہ اور زنا دقہ کو سزا دینے کے درپے ہوا۔ نتیجہ کے طور پر برا مکہ زوال پذیر ہو گئے۔ ان واقعات کے دوران ہشام کہیں چھپ گیا اور لوگوں سے مکمل علیحدگی اختیار کر لی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی موت ۱۹۹ ھ میں واقع ہوئی۔ ہشام کے عقاید کے لیے دیکھئے ۔ (مختصر تحفہ اثنا عشریہ ،ص:۶۳)] بن حکم، ہشام جوالیقی [ہشام بن سالم جوالیقی اس کا لقب علاف ہے، یہ کہا کرتا تھا کہ اﷲ کی ایک صورت ہے، اور اس نے جناب آدم علیہ السلام کو اپنی صورت کے مطابق پیدا کیا تھا، اس کا قول ہے کہ اﷲ تعالیٰ سر سے لے کر ناف تک کھوکھلا ہے اور ناف سے قدم تک ٹھوس ہے، جرح و تعدیل کے شیعہ علماء اسے ثقہ قرار دیتے ہیں ، یہ سابق الذکر ہشام بن حکم کا معاصر تھا]اوریونس بن عبدالرحمن قمی [یونس بن عبدالرحمن القمی علی بن یقطین کا موالی تھا، یہ ہشام بن عبدالملک کے عہد خلافت میں پیدا ہوا، امام موسیٰ رضا اور خلیفہ مامون کا معاصر تھا، اور فاسد عقائد رکھتا تھا، شیعہ روایت کرتے ہیں کہ محمد بن دادویہ نے موسیٰ رضا کو بلا کر یونس کے بارے میں دریافت کیا تھا، امام موسیٰ نے جواباً تحریر فرمایا: ’’ اﷲ اس پر اور اس کے اصحاب پر لعنت کرے اﷲ تعالیٰ اس سے اور اس کے اصحاب سے بیزار ہے۔‘‘ ایک مرتبہ امام موسیٰ رضا نے یونس کی تالیف کردہ کتاب زمین پر دے ماری اور فرمایا: ’’ یہ زانی اور زانیہ کے بیٹے کی تصنیف ہے، یہ زندیق کی کتاب ہے۔‘‘ جب امام موسیٰ رضا خلیفہ مامون کی دعوت پر خراسان تشریف لے گئے تو یونس نے ان کے بارے میں کہا: ’’اگر وہ اس معاملہ میں بخوشی یا ناخوشی داخل ہوگئے تو وہ باغی ہیں ۔‘‘ بایں ہمہ وہ شیعہ کے نزدیک ثقہ اور ان کے لیے سرمایہ افتخار ہے اور وہ اس کی بریت ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں ۔] اور ان جیسے دیگر لوگ صفات الٰہی کا اثبات میں اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ رکھتے تھے ۔ اور وہی بات کہتے تھے جو اہل سنت والجماعت کہتے ہیں ۔عقیدہ خلق قرآن کا انکار کرتے تھے اوریہ کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا۔اور ان کے علاوہ بھی اہل سنت والجماعت کے عقائد ان کے ہاں پائے جاتے تھے۔یہاں تک کہ بعض لوگ اپنے غلو کی وجہ سے بدعت کا شکار ہوگئے تھے اور تجسیم اور تبعیض اور تمثیل کا عقیدہ رکھتے تھے۔جیسا کہ مقالات نگاروں نے ان کے عقائد بیان کیے ہیں ۔ تیسری صدی ہجری کے آخر میں کچھ شیعہ لوگوں نے معتزلہ کے اقوال اختیار کیے۔جیساکہ کتاب ’’ الآراء و الدیانات ‘‘ کا مصنف ابن نوبختی؛اور اس جیسے دیگر لوگ ۔ ان کے بعد مفید ابن نعمان اور اس کے پیروکاران آئے۔

صفحہ 6 از 7