شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید - ردِ…

شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 17

شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید

شیعہ مصنف ابن المطہر آغاز کتاب میں رقمطراز ہے:

’’یہ ایک مفید رسالہ اور لطیف مقالہ ہے، جو دین کے اشرف و اہم ترین مسائل پر مشتمل ہے اور وہ مسئلہ امامت ہے۔ اس لیے کہ اس کے فہم و ادراک سے عزو شرف کے دروازے کھلتے ہیں ۔ یہ ارکان ایمان میں سے ایک ہے اور اس کی وجہ سے جنت میں دائمی زندگی نصیب ہوتی ہے،اللہ تعالیٰ کے غضب سے نجات حاصل ہوگی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جو شخص امام زمانہ کو پہچانے بغیر مر جائے، وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘ میں نے سلطان اعظم، شاہ عرب و عجم،مولی النعم ‘صاحب خیرو کرم؛ شہنشاہ مکرم غیاث الملۃ والدین والحق ’’الجاتیو خدا بندہ‘‘ کی لائبریری کے لئے یہ کتاب تحریر کی ہے ،جس میں میں نے دلائل کا خلاصہ پیش کیا ہے‘اوراہم ترین مسائل کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔میں نے اس کا نام ’’ منہاج الکرامۃ في معرفۃ الإمامۃ ‘‘ رکھا ہے ۔ اور اسے چند فصلوں میں ترتیب دیاہے:

۱۔ فصل اول میں امامت کے مسئلہ میں جو مذاہب پائے جاتے تھے ؛ بیان کیے ہیں ۔

۲۔ فصل ثانی میں یہ بیان کیا کہ امامیہ کا مسئلہ واجب الاتباع ہے۔

۳۔ فصل ثالث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے دلائل بیان کیے ہیں ۔

۴۔ فصل رابع میں بارہ ائمہ پر روشنی ڈالی ہے۔

۵۔ فصل خامس میں خلافت ابوبکر و عمر کا بطلان ثابت کیا ہے۔ (العیاذ باللّٰہ)[انتہٰی کلام الرافضی]

جوابات :

مذکورہ بالا بیان پر کئی طریق سے گفتگو کی جا سکتی ہے:

سب سے پہلے : ان سے یہ کہا جائے گا کہ ابن المطہر کا یہ قول کہ مسئلہ امامت اہم المطالب اور مسلمانوں کے اشرف ترین مسائل میں سے ہے؛ شیعہ وسنی علماء کے اجماع کی روشنی میں بالاتفاق کذب ہے۔بلکہ ایسا کہنا کفر ہے۔اس لیے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان سے بڑھ کر کوئی اور مسئلہ اہم نہیں ۔ یہ بات دین اسلام میں لازمی طور پر سب کو معلوم ہے ۔ اس لیے کہ کوئی کافر اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک وہ ’’ لا إلہ إلا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ‘‘ کی گواہی نہ دیدے ۔ یہی وہ کلمہ ہے جس کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارسے قتال کیا تھا۔ جیساکہ صحاح اور دوسری کتابوں میں یہ روایت موجود ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

((أمرت أن أقاتل الناس حتی یشہدوا أن لا إلہ إلا اللہ أني رسول اللہ ؛ویقیموا الصلاۃ ویؤتوا الزکاۃ فإذا فعلوا ذلک عصموا منی دمائہم وأموالہم إلا بحقھا۔))[البخاری ۱؍۱۰؛ مسلم ۱؍۵۲۔]

,,مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں ، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ۔ جب وہ ایسا کرلیں تو وہ مجھ سے اپنی جان اور مال محفوظ کرلیں گے مگر اسلام کے حق کیساتھ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

﴿فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَ جَدْتُّمُوْہُمْ وَخُذُوْہُمْ َو احْصُرُوْہُمْ وَ اقْعُدُوْا لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَہُمْ﴾ [التوبہ ۵]

’’پس جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو اور انھیں پکڑو اور انھیں گھیرو اور ان کے لیے ہر گھات کی جگہ بیٹھو، پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب خیبر کی طرف بھیجاتو آپ سے یہی ارشاد فرمایاتھا۔ کفار کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی سیرت تھی ۔ جب بھی وہ اپنے کفر سے توبہ کرلیتے توان کے اموال و نفوس کوامن حاصل ہوجاتا۔کبھی بھی ان کے سامنے امامت کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ ﴾ [التوبہ ۱۱]

’’پس اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو دین میں تمھارے بھائی ہیں ۔‘‘

مذکورہ بالا آیت میں صرف توبہ کرلینے کی وجہ سے انہیں دینی بھائی قرار دیا گیاہے ۔

یہ بات تواتر سے ثابت ہے کہ کفار جب عہد نبوی میں مشرف بہ اسلام ہوا کرتے تھے تو ان پر اسلامی احکام جاری کر دیے جاتے تھے اور مسئلہ امامت کا ان کے سامنے ذکر تک نہ کیا جاتا۔اور نہ ہی کسی اہل علم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی بات نقل کی ہے ۔نہ ہی کوئی خاص منقول ہے اورنہ ہی عام منقول ۔بلکہ ہم یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب کوئی کافر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسلام قبول کرنا چاہتا توآپ اس کے سامنے مسئلہ امامت کا اظہار تک نہیں فرمایا کرتے تھے۔ نہ مطلق طور پر اورنہ ہی مقید طور پر۔ پھر یہ مسئلہ اہم المطالب کیوں کر ہوا؟

اگر ہم بالفرض تسلیم بھی کرلیں کہ امامت کی معرفت ضروری ہے ‘ تو پھر بھی جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں انتقال کر گئے ‘انہیں اس مسئلہ کی معرفت کی ضرورت نہیں تھی۔توپھر وہ مسئلہ تمام مسائل دین سے اہم ترین اور اشرف ترین مسائل میں سے کیونکر ہوسکتا ہے جس کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔کیاوہ لوگ جونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ظاہری و باطنی طور پر ایمان لائے‘اور پھر دین اسلام پر قائم رہے ‘اس میں نہ ہی کوئی تبدیلی کی ‘اور نہ ہی ارتداد کے مرتکب ہوئے؛ کیا وہ باتفاق مسلمین [شیعہ و سنہ ]تمام مخلوق سے بہترین لوگ نہیں تھے؟ ۔ورنہ وہ مسلمانوں سے کیسے افضل ہوسکتے ہیں جو دین کے اہم ترین اورافضل ترین مسائل سے لا بلد ہوں ؟

امامت کی اہمیت کا وہم اور اس پر رد:

اگر یہ کہا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات مبارک میں خود امام تھے۔ اور امام کی ضرورت آپ کی وفات کے بعد پیش آئی۔یہ مسئلہ کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارک میں اہم ترین مسائل میں سے نہیں رہا ۔ بلکہ آپ کی موت کے بعد دین کے اہم ترین مسائل میں سے ہوگیا۔

تواس کے جواب کہا جائے گا کہ :

صفحہ 1 از 17