شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید - ردِ…

شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 10 از 17

شیعہ: اس امر کا اثبات تو انہی مقدمات پر مبنی ہے جو آپ نے ذکر کیے ہیں ۔

شیخ الاسلام: مگر مقصود چیز تو وہی ہے جو ہم سے متعلق ہو؛ اگر امر و نہی ہم سے وابستہ نہ ہو تو ہمیں اس سے کیا سروکار ہے؟ جب ان مقدمات کا تذکرہ کسی فائدہ سے خالی ہے؛اس سے ہمیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا‘ اور نہ ہی کوئی مہربانی حاصل ہوئی سوائے تکلیف مالا یطاق کے۔ تو معلوم ہوا کہ امام منتظر پر ایمان لانا جہالت کی کرشمہ سازی ہے، اور اس کا لطف و عنایت ایزدی اور مصلحت سے کوئی تعلق نہیں ۔ اگر وہ بات درست اور موجب سعادت ہے جو امامیہ اپنے اکابر سے نقل کرتے چلے آئے ہیں ، تو امام منتظر کی کوئی ضرورت نہیں ۔اور اگر یہ نقل باطل ہے تو شیعہ بھی اپنے اس امام منتظر سے کچھ فائدہ حاصل نہیں کرسکے۔ نہ ہی انہیں حق کے اثبات میں اس امام منتظر سے کوئی فائدہ ہوا اور نہ ہی باطل کی نفی کرنے میں ؛ نہ ہی امر بالمعروف اور نہ ہی نہی عن المنکر میں ۔ اور نہ ہی امامیہ میں سے کسی ایک کے لیے امامت سے مطلوب ومقصود مصلحت ؛ لطف اور منفعت حاصل ہوسکے۔

وہ جاہل لوگ جو اپنے معاملات کو مجہولات سے معلق کررکھتے ہیں ‘جیسا کہ غائب لوگ ؛جیسے قطب ‘ ابدال ‘ غوث اور خضر وغیرہ اس طرح کے دیگر لوگ۔ یہ لوگ بھی اپنی جہالت و گمراہی کے باوجود ایسی باتیں ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں جن سے نہ ہی کوئی مصلحت حاصل ہوئی ‘ نہ کوئی مہربانی؛ اورنہ ہی کوئی دین یا دنیا کا فائدہ ۔ لیکن اس کے باوجود یہ لوگ جہالت و گمراہی میں رافضیوں سے کم تر ہیں ۔

حضرت خضر موجود تھے۔ ان کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کیا ہے۔ ان کے قصے میں بڑی عبرتیں اوردرس اور فوائدہیں ۔ کبھی ان میں سے کوئی کسی نیک انسان کو دیکھتا ہے تو وہ گمان کرتا ہے کہ یہ خضر ہیں ۔ پس اب ان کو دیکھنے سے اور ان کے وعظ سے اسے کوئی فائدہ ہوگا۔ اگرچہ یہ اپنے اس عقیدہ میں غلط ہے۔

حقیقت میں اس نے جنات میں سے کسی جن کو دیکھا ہوتا ہے؛ اوروہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ یہ خضر تھے۔اورجن انسان سے ایسی ہی باتیں بھی کرلیتا ہے جس کے متعلق اس کا خیال ہوتا ہے کہ وہ اس کی یہ باتیں مان لے گا ۔اور بعض دفعہ وہ انسان اپنے وہم و خیال سے باتیں گھڑ لیتا ہے۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہر زمانے میں ایک خضر ہوتا ہے اور بعض لوگ ہر ولی کو خضر کہتے ہیں ۔ یہود و نصاری نے بعض جگہیں مقرر کرر کھی ہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ یہاں پر خضر کو دیکھتے ہیں ۔خضر کومختلف صورتوں میں دیکھا جاسکتا ہے ۔کبھی اس کی صورت خوفناک بھی ہوسکتی ہے۔ اس لیے کہ یہ جو دعوی کرتا ہے کہ وہ خضر ہے [یا پھر وہ شیطان ہوتا ہے۔ وہ جس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے ‘ اس کے سامنے آجاتاہے]۔ اس بارے میں قصے بہت زیادہ ہیں جن کے بیان کرنے کا یہ موقع نہیں ۔ بہر حال یہ لوگ شیعہ کی جملہ اقسام سے درجہا بہتر ہیں ‘ اس لیے کہ شیعہ ایسے امام کا انتظار کررہے ہیں جس کے بارے میں ان کے پاس کوئی مستند نقل ہی موجود نہیں ۔

[ان کی روایات کے مطابق ] جب یہ امام غار میں داخل ہوا تو اس وقت وہ ابھی سن ِ بلوغ کو نہیں پہنچا تھا۔پس رافضی ان لوگوں سے کئی گنا بڑھ کر جھوٹی روایات کو قبول کرتے ہیں مگر کتاب و سنت سے منہ موڑتے ہیں [ان پر عمل نہیں کرتے]۔ رافضی بہترین مسلمانوں پر قدح کرتے ہیں ‘ اور ان سے دشمنی رکھتے ہیں ۔رافضی امامت کی مصلحت کے متعلق لوگوں میں سب سے بڑھ کر گمراہ ہیں ۔ ان کے اس عقیدہ کی وجہ سے ان سے بہت سارے دین کے اہم ترین اور اشرف ترین مقاصد فوت ہوچکے ہیں ۔

عمل صالح اور معرفت امام ....؟:

چوتھی وجہ :ان سے کہا جائے گا کہ : تمہارا یہ کہنا کہ ’’ اسی [عقیدہ امامت کی]وجہ سے کرامت کے مراتب کا حصول ممکن ہے ۔یہ محض باطل کلام ہے ۔ صرف امام وقت کو پہچاننے یا دیکھنے سے کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی جب تک اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت نہ کی جائے ۔ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت سے امام کی معرفت بڑھ کر نہیں ہے۔ پس جو کوئی جانتا ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ‘ مگر وہ آپ پر ایمان نہ لائے ‘ اور آپ کے احکام کی پیروی نہ کرے ‘ اسے کوئی کرامت حاصل نہیں ہوسکتی۔ اور جو کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ‘ مگر آپ کی نافرمانی کرے ؛ فرائض کو ضائع کرتا، ظلم و تعدی کا ارتکاب کرتا اور حدود شرعیہ سے تجاوز کرتا ہو؛ توایسا انسان سزا کا مستحق ہوتا ہے ۔ اس پر امامیہ اور دیگر تمام مسلمان گروہوں کا اتفاق ہے۔ توپھر یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے جو کوئی امام کی معرفت حاصل کرے ‘ اور اللہ تعالیٰ کے فرائض کا ضائع کرنے والا ‘ اور حدود الٰہی کا پامال کرنے والا ہو [تو اسے کوئی کرامت یا بزرگی کیسے حاصل ہوسکتی ہے ؟]۔

بہت سارے شیعہ کا قول ہے :

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت ایک ایسی نیکی ہے[دیکھئے: اختصار تحفہ اثنا عشریہ : ۲۰۴۔] جس کی موجودگی میں بدی سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔‘‘

اگر حب علی رضی اللہ عنہ کے ہوتے ہوئے گناہوں سے کوئی ضرر لاحق نہیں ہوتا تو امام معصوم کی قطعاً ضرورت نہیں ۔اس لیے کہ تکلیف میں یہ مہربانی ہے۔ اگرحضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت ہی تمام گناہوں کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے تو پھر کسی اور چیز کی کوئی ضرورت نہیں ‘خواہ امام موجود ہو یا نہ ہو۔

امامت ارکان ایمان میں شامل نہیں :

پانچویں وجہ :.... شیعہ کا یہ قول کہ امامت ارکان ایمان میں سے ہے؛ جس کی بنیاد پرجنت میں رہنے کا استحقاق حاصل ہوسکتا ہے۔‘‘

[جواب]:.... تو ان سے کہا جائے گا کہ:امامت کو ارکان ایمان میں شمار کرنا اہل جہالت و بہتان تراشوں کاکام ہے۔ہم اس بارے میں ان شاء اللہ آگے اپنے موقع پر تفصیل سے بیان کریں گے۔ 

اللہ تعالیٰ نے مؤمنین اور ان کے احوال بیان فرمائے ہیں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کی تفسیر کی؛ اور اس کی شاخیں بیان کیں ‘مگر امامت کا کہیں ذکر تک نہیں فرمایا۔صحیح روایات میں حضرت جبریل علیہ السلام والی حدیث بھی ہے ؛ جب آپ ایک اعرابی کی صورت میں آئے اور اسلام ؛ ایمان اور احسان کے بارے میں سوال کیا ‘ تو آپ نے فرمایا:

صفحہ 10 از 17