شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید - ردِ…

شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 11 از 17

’’اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دوکہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ۔اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ اور نماز قائم کرو، زکوٰۃ اداکرو، رمضان کے روزے رکھو، اور بیت اللہ کا حج کرو ۔‘‘

اور فرمایا: ’’ اور ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر پورا ایمان رکھو؛ اس کے فرشتوں ، کتابوں اور رسولوں پر ایمان رکھو اور اللہ تعالی کی ملاقات کا یقین رکھو؛ قیامت اور حشر کو پورے طور پر مانو اور اچھی اور بری تقدیر کے اللہ کی جانب سے ہونے پر ایمان رکھو‘‘ ۔

اس میں امامت کا ذکر تک نہیں فرمایا:

[ اس کے بعد پھر پوچھا کہ احسان کسے کہتے ہیں ؟] توآپ نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر یہ نہیں ہو سکتا تو اتنا ہی یقین رکھے کہ وہ تجھ کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ [رواہ مسلم ۱؍۳۶؛ البخاری ۱؍۱۵۔]

اس حدیث کے صحیح ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔ اسے قبولیت کا درجہ حاصل ہے ۔اہل علم کا اس کی صحتِ نقل پر اجماع ہے۔ امام بخاری و مسلم نے کئی اسناد کے ساتھ اسے روایت کیا ہے ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت پر ان کا اتفاق ہے۔اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت صرف صحیح مسلم میں ہے۔ اگر چہ شیعہ ان احادیث کی صحت کو تسلیم نہیں کرتے ‘[تو یہ ان کی پرانی روش ہے۔ منہاج الندامہ کے] مصنف نے اپنی کتاب میں ایسی احادیث بطور دلیل پیش کی ہیں جن کے موضوع [من گھڑت ] ہونے پر اہل علم کا اتفاق ہے ۔ [اور صحیح احادیث کوچھوڑ دیا ہے]۔

پھر یاتودونوں فرقوں [اہل سنت اور شیعہ ] کو چاہیے کہ ایسی دلیل کو بطور حجت پیش کیا جائے جس کی صحت ثابت ہو۔ یا پھر ایسی روایات کو بالکل ہی نہ پیش کیاجائے ۔ اگروہ [شیعہ] کسی روایت کو بالکل سرے سے ہی ترک کررہے ہیں تو پھر ہم بھی ایسا کرسکتے ہیں ۔ اور اگر وہ ایسی روایات نقل کریں گے‘ تو پھر روایت کے مقابلہ میں روایت لانا ضروری ہوجاتا ہے۔[ لیکن فرق یہ ہے شیعہ بے سرو پا روایت سے استدلال کرتے ہیں اور ہم ] ایسی روایت سے استدلال کرتے ہیں جن کی صحت ثابت ہو‘ اور روایت قابل حجت ہو۔

ہم ان باطل روایات پر جن کے ذریعہ شیعہ اہل سنت پر رد کرتے ہیں ‘ تفصیلی اور مدلل کلام اپنے مناسب موقع پر کریں گے ‘ اور ان روایات کا بھی ذکر کریں گے جنہیں اہل علم محدثین نے صحیح کہا ہے۔

اگربالفرض [بطور مناظرہ ]تسلیم کیاجائے کہ ہم [صحیح ]احادیث سے استدلال نہیں کرتے تو تب بھی قرآن کی آیات اس بارے میں کافی ہیں ۔ قرآن کریم میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں ، بلکہ ارشاد باری ہے:

﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ٭الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ ٭ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا لَہُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَ مَغْفِرَۃٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ﴾ (الانفال:۲۔۴)

’’(اصل) مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو انھیں ایمان میں بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پرہی بھروسا رکھتے ہیں ۔وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں اور اس رزق میں سے جو ہم نے انھیں دیاہے، خرچ کرتے ہیں ۔یہی لوگ سچے مومن ہیں ، انھی کے لیے ان کے رب کے پاس بہت سے درجے اور بڑی بخشش اور با عزت رزق ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے امامت کاذکر کیے بغیر ان لوگوں کے لیے ایمان کی گواہی دی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:

﴿ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ْثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُوْلٰئِکَ ہُمُ الصَّادِقُوْنَ﴾ (الحجرات:۱۵)

’’مومن تو وہ ہیں جو اللہ و رسول پر ایمان لائے پھر شک نہ کیا اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کیا یہی لوگ اپنے دعویٰ ایمان میں سچے ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے امامت کا ذکر کئے بغیر ان لوگوں کو سچا قراردیا ہے۔ نیز ارشاد ہوتا ہے:

﴿لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَ لٰکِنَّ الْبِرَّمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِکَۃِ وَ الْکِتٰبِ وَالنَّبِیّٖنَ وَ اٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَہْدِہِمْ اِذَا عٰہَدُوْا وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآئِ وَ الضَّرَّآئِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُوْنَ﴾ ( البقرہ ۱۷۷)

’’ نیکی یہی نہیں کہ تم اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف پھیر لو۔ بلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر، روز قیامت پر، فرشتوں پر، کتابوں پر اور نبیوں پر ایمان لائے۔ اور اللہ سے محبت کی خاطر اپنا مال رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، مسافروں ، سوال کرنے والوں کو اور غلامی سے نجات دلانے کے لیے دے۔ نماز قائم کرے اور زکو اۃدا کرے۔ نیز ( نیک لوگ وہ ہیں کہ)جب عہد کریں تو اسے پورا کریں اور بدحالی ، مصیبت اور جنگ کے دوران صبر کریں ۔ ایسے ہی لوگ راست باز ہیں اور یہی لوگ سچے متقی ہیں ۔‘‘

یہاں پر بھی کہیں امامت کا کوئی ذکر تک نہیں کیا گیا ۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿الٓمّٓoذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَoالَّذِیْنَ یَؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ oوَ الَّذِیْنَ یَؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَ بِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَo اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنْ رَّبِّہِمْ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴾ [البقرۃ]

صفحہ 11 از 17