شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید - ردِ…

شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 12 از 17

’’الٓمٓ۔ اس کتاب کے سچ ہونے میں کوئی شک نہیں پرہیزگاروں کو راہ دکھانے والی ہے۔جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں ؛اور ہمارے دیئے ہوئے مال سے خرچ کرتے ہیں ۔ اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیااور وہ آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں ۔یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں ۔‘‘

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت یافتہ اور کامیاب قرار دیا ہے ؛مگر امامت کا ذکر تک نہیں کیا ۔ [مذکورہ بالا آیات کے علاوہ متعدد آیات اس ضمن میں وارد ہوئی ہیں مگر کسی میں بھی امامت کے رکن ایمان ہونے کا ذکر نہیں کیا گیا۔]

اور ہم یہ بھی یقینی طور پر جانتے ہیں کہ دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں جب لوگ مسلمان ہوجاتے ہیں تو ان کے ایمان کو امامت کی معرفت پر موقوف نہیں رکھا جاتا ۔ اور نہ ہی امامت کے بارے میں کچھ ذکر تک فرمایا۔اور جو چیز ارکان ایمان میں سے تھی اس کا بیان کرنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لازمی تھا تاکہ اہل ایمان کا ایمان درست ہو۔ جب یہ بات یقینی طور پر معلوم ہوگئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کے لیے کوئی ایسی شرط نہیں رکھتے تھے ‘ تو یہ بات بھی پتہ چل گئی کہ ایمان کے لیے امامت کی شرط رکھنا اہل بہتان [جھوٹے لوگوں ] کا قول ہے ۔

اگر یہ کہا جائے کہ: مسئلہ امامت اس نص کے عموم میں داخل ہے ‘ یا اس کا تعلق ایسے مسائل سے ہے جن کے بغیریہ واجب پورا نہیں ہوتا۔یا پھر کسی دوسری نص سے یہ ثابت ہے ۔

تو اس سے کہا جائے گا : ’’اگر ان تمام مسائل کی صحت ثابت بھی ہوجائے تو اس کی زیادہ سے زیادہ اہمیت یہ ہوگی کہ ان کا شمار دین کے فروعی مسائل میں ہوگا۔ اس کا شمار ارکان ایمان میں نہیں ہوسکتا ۔ اس لیے کہ ایمان کا رکن تو وہ ہوگا جس کے بغیر ایمان مکمل نہ ہوتا ہو‘ جیسے کہ شہادتین کا اقرار۔ کوئی انسان اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تو وہ اس بات کی گواہی نہ دیدے کہ : ’’ لا إلہ إلا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ‘‘ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ‘ اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔‘‘ 

فرض کرلیجیے کہ امامت ایمان کے ارکان میں سے ایک رکن تھی ؛ جس کے بغیر کسی انسان کا ایمان پورا نہیں ہوسکتا؛ تو اس سے واجب ہوتاتھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امت سے عذر کو ختم کرنے کے لیے اس کو کھول کر بیان کرتے ؛ جیسا کہ شہادتین کو ‘ اور ایمان بالملائکہ ‘ کتابوں پر ایمان ‘ رسولوں پر ایمان اور آخرت کے دن پر ایمان کو بیان کیا ہے ۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں ہزاروں لوگ فوج درفوج اسلام میں داخل ہوئے ؛ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک کیساتھ بھی ایمان کے لیے امامت کی شرط نہیں لگائی ‘ نہ ہی مطلق طور پر اور نہ ہی مقید طور پر ۔

چھٹی وجہ:شیعہ مصنف نے یہ روایت پیش کی ہے:وہ کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’مَنْ مَّاتَ وَلَمْ یَعْرِفْ إمام زمانہ مات میتۃ الجاہلیۃ‘‘ .... ’’ جس کی موت اس حالت میں آئی کہ وہ امام زمانہ کو نہ پہچانتا ہو‘ تو جاہلیت کی موت مرے گا ۔‘‘

جواب: ہم شیعہ سے پوچھتے ہیں کہ یہ روایت کس نے بیان کی ؟ اس کی اسناد کہاں ہے؟ اور پھر یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ ایسی حدیث سے استدلال کیا جائے جس کی سندہی ثابت نہ ہو۔ یہ تو اس وقت ہوتا ہے جب حدیث کی روایت میں کوئی مجہول الحال راوی نہ ہو۔ تو پھر اس وقت کیا کہہ سکتے ہیں جب وہ حدیث ان الفاظ سے کسی طرح بھی معروف ہی نہ ہو۔ اللہ کی قسم !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ یوں نہیں فرمائے ۔

البتہ مشہور و معروف حدیث صحیح مسلم میں حضرت نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ واقعہ حرہ کے زمانہ میں یزید بن معاویہ کے دور میں عبداللہ[عبداﷲ بن مطیع مدینہ منورہ میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا داعی اور یزید کے برخلاف بغاوت کا اولیں محرک تھا، یہ پہلا شخص تھا، جس نے حاکم وقت یزید بن معاویہ کے خلاف جھوٹ کا طوفان کھڑا کیا، عوام بھی ان اکاذیب کی تصدیق کرنے لگے اور اس طرح مدینہ میں فتنہ پروری کا آغاز ہوا، محمد بن علی بن ابی طالب نے اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’میں یزید کی صحبت میں رہا ہوں ، میں نے اسے نماز کا پابند نیکی کا پابند اور متبع سنت پایا لوگ اس سے فقہی مسائل دریافت کرتے تھے۔‘‘ (البدایہ والنہایہ: ۸؍ ۲۳۳، نیز العواصم من القواصم: ۲۲۳) ] بن مطیع کے یہاں آئے تو انہوں نے خدام سے تکیہ لانے کے لیے کہا ۔حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ میں آپ کے یہاں بیٹھنے کے لیے نہیں بلکہ ایک حدیث سنانے کے لیے آیا ہوں جوکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: 

’’جس نے اطاعت ِامام سے ہاتھ کھینچ لیا وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی، اور جس کی موت اس حال میں آئے کہ اس کی گردن میں کسی کی بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘[صحیح مسلم، کتاب الامارۃ۔ باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین (ح: ۱۸۵۱) ]

ترک بیعت:

صفحہ 12 از 17