شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید - ردِ…

شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 13 از 17

مذکورہ بالا حدیث حضرت عبداللہبن عمر رضی اللہ عنہ نے اس وقت عبد اللہ بن مطیع سے بیان کی جب لوگوں نے امیر وقت یزید بن معاویہ کی بیعت توڑدی تھی؛حالانکہ وہ ظالم تھا،اور پھر ان کی آپس میں جنگ بھی ہوئی۔اور یزید نے اہل حرہ کے ساتھ بہت برا سلوک کیا۔ حدیث ہذا سے وہی مسئلہ مستفاد ہوتا ہے جو اس طرح کی دیگر تمام احادیث سے مستفاد ہوتا ہے۔کہ جو شخص حکام وقت کا مطیع نہ ہو یا شمشیر بکف ان کے خلاف نبرد آزما ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔شیعہ کا معاملہ اس سے یکسر مختلف ہے، وہ جبرو اکراہ کے بغیر ہمیشہ امراء کی اطاعت سے منحرف رہتے ہیں ؛[شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ’’ سلاطین اسلام میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کوئی سلطان اچھا نہیں گزرا، جب آپ کے عہد خلافت کا تقابل بعد میں آنے والے سلاطین کے ادوار سے کیا جائے تو یہ حقیقت اجاگر ہوتی ہیکہ ر عایا کو جو امن و عافیت آپ کے زمانہ میں نصیب ہوئی وہ کسی بادشاہ کے دور میں حاصل نہ ہوسکی، اور جب خلافت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کاحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ سے مقابلہ کیا جائے تو خلافت راشدہ کی فضیلت نمایاں ہوتی ہے، عباسی خلافت کے زمانہ میں لوگ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے عہد خلافت کو مثالی عدل کا دور کہا کرتے تھے، مشہور محدث سلیمان بن مہران اعمش ان سے کہا کرتے تھے اگر تم امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا عہد خلافت پا لیتے تو پھر کیا ہوتا؟ یعنی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا عہد خلافت، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے بہتر تھا، لوگوں نے کہا کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بڑے حلیم وبر دبار تھے؟ فرمایا: ’’ نہیں اﷲ کی قسم!وہ عدل میں بھی بے نظیر تھے ‘‘ یزید کا عہد خلافت بھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ سے چنداں مختلف نہ تھا، اراکین سلطنت وہی تھے، جوحضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تھے، البتہ ہر حکومت کی ضروریات کا اندازہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، عبداﷲ بن مطیع نے محمد بن حنفیہ کے عین برعکس افتراء پردازی سے کام لیکر یزید کے خلاف جو اتہامات باندھے تھے ان کا نتیجہ اس فتنہ سامانی کی صورت میں ظہرو پذیر ہوا جس سے ڈرانے کیلئے حضرت ]اور حکمرانوں کی سب سے زیادہ مخالفت کرنے والے ہوتے ہیں ۔ہم ان لوگوں سے مطالبہ کرتے ہیں اس حدیث کی اگر ایک آدمی سے بھی نقل منقول ہو تو اس کی صحت ثابت کرو ۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایمان کا رکن اس جیسی حدیث سے ثابت کیا جائے جس کے نقل کرنے والے کو کوئی نہ جانتا ہو۔ اوراگر اس کا ناقل معلوم بھی ہوجائے تو پھر بھی اس سے غلطی اور جھوٹ کا امکان رہتا ہے ۔ کیا کسی معقول علمی طریقہ کے بغیر بھی ایمان کا کوئی رکن ثابت ہوسکتا ہے ۔

اس حدیث میں امامت پر دلیل نہیں :

ساتویں وجہ : ان سے کہا جائے گا : اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ یہ روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام پر مبنی ہے ۔ تو پھر بھی ان لوگوں کے لیے اس حدیث میں کوئی حجت نہیں ہے۔اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سارے امور کے متعلق یہ جملہ ارشاد فرمایاہے :’’من مات میتۃ الجاہلیۃ‘‘ ’’ تووہ جاہلیت کی موت مرے گا ۔‘‘ یہ ایسے امور کے متعلق ہے جو ایمان کا رکن نہیں اور جن کے ترک کرنے سے کوئی کافر نہیں ہوتا۔ صحیح مسلم میں حضرت جندب بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’من قتِل تحت رایۃ عِمِیّۃ یدعو عصبِیۃ، أو ینصر عصبِیۃ، فقِتلتہ جاہِلِیۃ۔‘‘[عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ ، عبد اﷲ بن مطیع کے پاس آئے تھے، عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ عبداﷲ بن مطیع نقض بیعت کا جو اقدام کر رہا ہے وہ ظلم ہے جس کا مرتکب جاہلیت کی موت مرتا ہے، ابن مطیع کے ظلم کا نتیجہ یہ ہوا کہ یزید بھی اسی قسم کے ظلم پر اتر آیا، اہل عرب کے نزدیک ظلم کے معنی یہ ہیں کہ ایک چیز کو اسکی اصلی جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دیا جائے۔ سیدھی راہ سے بھٹک جانے کو بھی ظلم کہتے ہیں ۔ ابن مطیع اور اس کے رفقاء کار کا ظلم وہ فتنہ سامانی ہے جس کا بیڑا انہوں نے واقعہ حرہ سے قبل اٹھایا اور یزید کا ظلم وہ افسوسناک نتائج ہیں جو اس سے رونما ہوئے۔ (منہاج السنۃ: ۳؍۱۸۵)۔ ٭ الحدِیث فِی: مسلِم3؍1478کتاب الِإمارۃِ، باب وجوبِ ملازمۃِ جماعۃِ(....وفِیہِ: فقِتلۃ جاہِلِیۃ. ورایۃ عِمِّیۃ: قال النووِی (شرح صحیح مسلم 12؍238))ہِی بِضمِ العینِ وکسرِہا لغتانِ مشہورتانِ. والمِیم مکسورۃ ومشددۃ والیاء مشددۃ أیضا. قالوا: ہِی الأمر الأعمی لا یستبِین وجہہ۔ کذا قالہ أحمد بن حنبل والجمہور. قال إِسحاق بن راہویہِ: ہذا کتقاتلِ القومِ لِلعصبِیۃِ]

یہ کلام تعصب کی بنا پر لڑنے والوں کو بھی شامل ہے ۔اور شیعہ بنا بر تعصب لڑنے والوں میں سر فہرست ہیں ۔البتہ طرف داری کے نقطہ خیال سے لڑنے والے مسلمانوں کی تکفیر نہیں کی جا سکتی۔ جیسا کہ کتاب و سنت اس پر دلالت کرتے ہیں ۔ تو پھر جس انسان کا جرم اس سے کم تر ہو ‘ اسے کیسے کافر قرار دیا جاسکتا ہے ؟ اگر وہ اطاعت امام سے نکل جائے اور جاہلیت کی موت مرے تو وہ کافر نہیں ہوگا۔[حضرت جندب بجلی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: ’’جو شخص عصبیت کی دعوت دیتا یا اس کا معاون ہو کر اندھا دھند لڑ رہا ہو اور وہ مارا جائے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔‘‘مسلم کتاب الامارۃ۔ باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین (ح: ۱۸۵۰)۔] حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:’’جو شخص اطاعت امام سے خروج اختیار کرے اور جماعت کو ترک کر کے مر جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘[صحیح مسلم۔ کتاب الامارۃ، باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین (حدیث: ۱۸۴۸)۔]

شیعہ عرصہ دراز سے اطاعت امام سے نکل چکے ہیں اور انہوں نے مسلمانوں کی جماعت کو ترک کر دیا ہے۔

بخاری و مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

صفحہ 13 از 17