شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید - ردِ…

شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 14 از 17

’’جو شخص اپنے امیر کی کوئی ایسی بات دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو اس پر صبر کرے، کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھر الگ ہوتا ہے، اور اسی حالت میں مرجاتا ہے، تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوتی ہے۔ ‘‘[صحیح بخاری کتاب الفتن ۔ باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ’’ سترون بعدی اموراً تنکرونھا‘‘ (ح:۷۰۵۴) صحیح مسلم ۔ کتاب الامارۃ۔ باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین(ح:۱۸۴۹)۔]

وفِی لفظِ: من رأی مِن أمِیرِہِ شیئا یکرہہ، فلیصبِر علیہِ فِإن من خرج مِن السلطانِ شِبرا مات مِیتۃ جاہِلِیۃ۔[الحدِیث بِرِوایتیہِ ۔ مع اختِلاف یسِیر فِی الألفاظِ۔عنِ ابنِ عباس فِی: البخاری 9؍47 ِکتاب الفِتنِ، باب قولِ النبِیِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سترون بعدِی أمورا تنکِرونہا؛ مسلِم 3؍1477 ۔ الکِتاب والباب السابِقان؛سنن الدارِمِیِ 2؍241۔کتاب السِیرِ، باب فِی لزومِ الطاعۃِ والجماعۃ؛ المسند ط. المعارِفِ 4؍164۔]

مالک ہے؛ مگر جب تک اس کو خاص متعین انسان کے مالک ہونے کا علم نہ ہو‘ تو وہ اس وقت تک اس کے مالک کو پہچاننے والا نہیں ہوسکتا ۔بلکہ یہی انسان اس کا عارف ہے ‘ کیونکہ اس پر احکام نسب و ملکیت مرتب ہوتے ہیں ۔

جب کہ امام منتظر کا معاملہ یکسر مختلف ہے۔ اس کے کسی ایسے حال کی معرفت نہیں ہوسکی جس سے امامت میں فائدہ ہوتا۔ بیشک امام کی معرفت جس سے انسان جہالت سے معرفت کی طرف نکلتاہے ‘اور اس کے نتیجہ میں جماعت کی شیرازہ بندی اور اطاعت ممکن ہوتی ہے۔بخلاف اس چیز کے جس پر اہل جاہلیت تھے۔ اس لیے کہ ان کا کوئی امام نہیں تھا جس کے جھنڈے کے نیچے یہ لوگ جمع ہوتے۔اورنہ ہی ان کی شیرازہ بندی کے لیے کوئی جماعت تھی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ‘اور آپ کے ذریعہ سے ان لوگوں کو اطاعت گزاری اور جماعت بندی کی طرف ہدایت دی ۔جب کہ اس منتظر کی معرفت سے نہ ہی اطاعت گزاری حاصل ہوئی اور نہ ہی جماعت بندی۔ اور ایسی کوئی معرفت حاصل نہ ہوسکی جس سے لوگ جاہلیت سے معرفت کی طرف نکلتے۔ بلکہ اس امام کی طرف منسوب لوگ باقی تمام لوگوں میں سب سے بڑھ کر جاہل اور اہل جاہلیت سے زیادہ مشابہت رکھنے والے ہیں ۔

حکمران کی اطاعت نیکی کے امور میں :

نویں وجہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صرف ان ائمہ وسلاطین کی اطاعت کا حکم دیاہے جو موجود ہوں ، حکومت و سلطنت سے بہرہ ور ہوں اور لوگ انہیں عام طور سے جانتے ہوں ۔ مزید برآں ان کی اطاعت صرف معروف میں ضروری ہے منکر میں نہیں ۔ہمیں کسی مجہول اور معدوم کی اطاعت کا حکم ہر گز نہیں دیااور نہ ہی کسی ایسے کی اطاعت کا حکم دیا جس کا نہ کوئی بس چلتا ہو اور نہ ہی اسے اصل میں کوئی حکومت یا قدرت حاصل ہو۔جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آپس میں محبت کرنے اور اجتماعیت قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور تفرقہ بازی اور اختلاف سے منع کیا ہے۔ائمہ کی اطاعت کا حکم مطلق طور پر نہیں دیا ؛ بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے نافرمانی میں نہیں ۔ 

اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہمیں اللہ کی اطاعت میں جن ائمہ کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے ‘ وہ معصوم نہیں ہیں ۔ صحیح مسلم میں حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ؛ فرماتے ہیں : میں نے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے:

’’تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن کو تم چاہتے ہو اور جو تمہیں چاہتے ہوں تم ان کے حق میں دعا کرتے ہو اور وہ تمہارے حق میں دعا کرتے ہوں ۔ تمہارے بد ترین حکام وہ ہیں جن سے تم بغض رکھتے ہو اوروہ تم سے بغض رکھتے ہوں ، جن پر تم لعنت بھیجتے ہو اور جو تم پر لعنت بھیجتے ہوں ۔‘‘ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان کی بیعت توڑ نہ ڈالیں ؟ فرمایا: ’’جب تک وہ نماز کی پابندی کریں تم ایسا نہیں کر سکتے۔‘‘ آپ نے دو مرتبہ یہ الفاظ دہرائے:’’ جس پر کسی شخص کو حاکم بنا دیا گیا ہو اور وہ اسے کوئی برا کام کرتے دیکھے تو اسے نفرت و حقارت کی نگاہ سے دیکھے مگر اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے۔‘‘[صحیح مسلم۔ کتاب الامارۃ باب خیار الائمۃ و شرارھم(حدیث:۱۸۵۵]

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’عنقریب ایسے حکمران ہوں گے جن کے خلاف شریعت اعمال کو تم پہچان لوگے اور بعض اعمال نہ پہچان سکو گے۔ پس جس نے ان کے اعمال بد کو پہچان لیا وہ بری ہوگیا جو نہ پہچان سکا وہ محفوظ رہا لیکن جو ان امور پر خوش ہوا اور تابعداری کی وہ ہلاک ہوگیا ۔صحابہ نے عرض کیا:’’ ہم ان سے جنگ نہ کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ نہیں جب تک وہ نماز ادا کرتے رہیں ۔‘‘[شیعہ کے گیارہ امام خود غیر معصوم ہونے کے معترف تھے، لوگوں نے ائمہ سے سن کر وہ دعائیں ذکر کی ہیں جن میں بارگاہ ایزدی سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کیا کرتے تھے اگر وہ معصوم اور گناہوں سے پاک ہوتے تو مغفرت طلب کرنے کی ضرورت لاحق نہ ہوتی، بارہواں امام بقول شیعہ نو عمری ہی میں تہ خانہ میں داخل ہو گیا نہ انہیں کسی نے دیکھا اور نہ ان سے کوئی دعا سن کر یاد رکھی، عصر حاضر تک کسی شخص نے ان کی آواز تک نہیں سنی۔ ]

یہ بات واضح ہے کہ ائمہ سے مراد امراء اورحکمران ہیں ۔ان میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی کئی ایک بری اور مکروہ باتیں بھی ہوتی ہیں ۔لیکن کسی کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ ان کی اطاعت سے دست کیش ہوجائے ۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کرے۔ اور یہ کہ ان حکمرانوں میں اچھے بھی لوگ ہوتے ہیں اور برے بھی ۔ ان میں ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے لوگ محبت رکھتے ہیں ‘ اور ان کے لیے دعا کرتے ہیں ؛ اور وہ لوگوں سے محبت رکھتے اور ان کے لیے دعا کرتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ حاکم ایسے بھی ہوتے ہیں ‘جو لوگوں سے بغض رکھتے اور ان کے لیے بد دعا کرتے ہیں ‘ اور لوگ بھی ان سے بغض رکھتے ہیں ‘ اور ان پر بد دعا کرتے ہیں ۔

صحیحین میں ہے :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

صفحہ 14 از 17