شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید - ردِ…

شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 15 از 17

’’ بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء علیہم السلام کرتے تھے۔ جب کوئی نبی وفات پا جاتا تو اس کا خلیفہ ونائب نبی ہوتا تھا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اور عنقریب میرے بعد خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔‘‘

صحابہ نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جس کے ہاتھ پر پہلے بیعت کرلو اسے پورا کرو اور حکام کا حق ان کو ادا کروبے شک اللہ ان سے ان کی رعایا کے بارے میں سوال کرنے والا ہے۔‘‘[صحیح مسلم امارت اور خلافت کا بیان : (ح:271)؛پہلے خلیفہ کی بیعت کو پورا کرنے کے وجوب کے بیان میں ۔]

آپ نے خبر دی ہے کہ آپ کے بعد حکمران ہوں گے اور بہت زیادہ ہوں گے۔اور پھر یہ حکم بھی دیا کہ ان کی بیعت کے ساتھ اول در اول کی بنیاد پر وفاداری برتی جائے۔اور ان کے حقوق ادا کئے جائیں ۔

صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ عنقریب میرے بعد حقوق تلف کئے جائیں گے اور ایسے امور پیش آئیں گے جنہیں تم ناپسند کرتے ہو۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم پر کسی کا جو حق ہو وہ ادا کر دو اور اپنے حقوق تم اللہ سے مانگتے رہو۔‘‘ [نفس الکتاب والباب في صحیح مسلم]

وفِی لفظِ:(( ستکون إثرۃ، وأمور تنکِرونہا۔قالوا: یا رسول اللہِ! فما تأمرنا؟ قال: تؤدُّون الحق الذِی علیکم، وتسلون اللہ الذِی لکم۔))

’’ عنقریب میرے بعد حقوق تلف کئے جائیں گے اورنا پسندیدہ امور پیش آئیں گے۔

عرض کیا: یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟

فرمایا:’’ تم پر کسی کا جو حق ہو وہ ادا کر دو اور اپنے حقوق تم اللہ سے مانگتے رہو۔‘‘[صحیح مسلم؛امارت اور خلافت کا بیان : ح:271غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کا وجوب.... کے بیان میں ]

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

’’ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنگی اور آسانی میں پسند و ناپسند میں اور اس بات پر کہ ہم پر کسی کو ترجیح دی جائے؛اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی۔ اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم حکام سے حکومت کے معاملات میں جھگڑا نہ کریں گے۔ اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم جہاں بھی ہوں گے حق بات ہی کہیں گے اللہ کے معاملہ میں ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ رکھیں گے۔‘‘[صحیح مسلم؛امارت اور خلافت کا بیان : ح:271غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کا وجوب۔ ]

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’مسلمان مرد پر حاکم کی بات سننا اور اطاعت کرنا لازم ہے خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند ہو سوائے اس کے کہ اسے کسی گناہ کا حکم دیا جائے؛ پس اگر اسے معصیت ونا فرمانی کا حکم دیا جائے تو نہ اس کی بات سننا لازم ہے اور نہ اطاعت۔‘‘

[اس ضمن میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں جن سے یہ حقیقت واشگاف ہوتی ہے کہ ائمہ معصوم نہیں ]۔

اگر وہ یہ کہے کہ: ’’دین کے اہم ترین مطالب اور اشرف ترین مسائل ‘‘ کہنے سے میری مراد وہ مسائل تھے جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس امت کا اختلاف واقع ہواہے۔ان میں سے ایک یہ مسئلہ مسئلہ امامت ہے۔ تو اس سے کہا جائے گا یہ نہ ہی الفاظ فصیح ہیں ‘ اور نہ ہی معنی صحیح ہے۔اس لیے کہ جو کچھ تم نے ذکر کیا ہے ‘ وہ اس معنی پر دلالت نہیں کرتا۔ بلکہ الفاظ کے مفہوم کا تقاضا ہے کہ یہ مسئلہ مطلق طور پر دین کے اہم ترین مطالب اور مسلمانوں کے اشرف ترین مسائل میں سے ہے۔اگر یہ مان لیا جائے کہ فرض کریں :تمہاری کی مرادیہی تھی ؛ تو اس لحاظ سے بھی اس کا معنی باطل ہوا۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس سے اشرف اور اہم ترین مسائل میں مسلمانوں کا اختلاف واقع ہوا ہے۔اگر مان لیا جائے کہ یہی مطلب اشرف مطالب میں سے ہے؛ تو پھر جو کچھ تم نے پہلے بیان کیا ہے ‘ وہ باطل ترین مذاہب اور فاسد تر مطالب میں سے ہے۔اس لیے کہ مسئلہ امامت میں اختلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور سے پہلے پیش نہیں آیا۔

خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے دور میں یہ اختلاف پیدا نہیں ہوا تھا۔سوائے جو کچھ سقیفہ کے دن سامنے آیا۔اس دن لوگ اس وقت تک وہاں سے اٹھے نہیں جب تک ان کا اس مسئلہ پر آپس میں اتفاق نہیں ہوگیا۔ ایسی باتوں کو نزاع شمار نہیں کیا جاتا۔ اور اگر مان لیا جائے کہ اس مسئلہ میں نزاع و اختلاف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پیدا ہوگیا تھا؛ تو ہر وہ مسئلہ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد اختلاف پیدا ہوگیا ہو‘ وہ ان دیگر مسائل سے افضل و اہم تر نہیں ہوسکتا جن میں اختلاف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے لمبے زمانے کے بعد پیدا ہوا ہو۔

اگر ایسا ہوتا تو یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ توحید و صفات کے مسائل ‘ اثبات و تنزیہ ‘ قدر و تعدیل ‘اسماء و تجویز ؛ تحسین‘ تقبیح کے مسائل امامت کے مسائل سے بڑھ کر اہم تراو راشرف تر ہیں ۔ ایسے ہی مسائل احکام و اسماء ؛ وعد و وعید ؛ شفاعت اور خلود فی النار کے مسائل امامت کے مسائل سے زیادہ اہم ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ عقائد کے بارے میں جتنے لوگوں نے کتابیں لکھی ہیں انہوں نے مسئلہ امامت کو آخر میں ذکر کیا ہے ۔ یہاں تک کہ خود امامیہ فرقہ کے لوگ مسئلہ امامت سے پہلے توحید ‘ عدل اور نبوت کے مسائل ذکر کرتے ہیں ۔ ایسے ہی معتزلہ کے ہاں پانچ اصول ہیں : توحید ؛ عدل ؛ منزلہ بین منزلتین ؛ وعید کا انفاذ اور پانچواں مسئلہ ہے : امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ؛ امامت کے مسائل اسی مسئلہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔

صفحہ 15 از 17