شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید - ردِ…

شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 16 از 17

یہی وجہ تھی کہ جمہور امت نے مسئلہ امامت کے بغیر بھی اس مقصود امامت کی بہت بڑی خیر حاصل کی تھی جس کا پرچار رافضی کررہے ہیں ۔اس لیے کہ امامیہ ایسے صاحب زمان امام کا عقیدہ رکھتے ہیں جو کہ مفقود ہے؛ اس سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ اور وہ تقریباً دو سو ساٹھ ہجری میں سرداب سامراء میں داخل ہوگیا تھا۔اور اب تک چار سو پچاس [ہمارے دور میں بارہ سو] سال سے غائب ہے۔اس اتنی لمبی مدت کے دوران اس امام کی امامت سے شیعہ کو دین ودنیا کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکا۔بلکہ وہ کہتے ہیں کہ : ’’ ہمارے پاس اس امام کے علاوہ دوسرے لوگوں سے منقول علم ہے ۔‘‘

اگر یہ مسئلہ دین کے اہم ترین مسائل میں سے تھا اور وہ لوگ اس سے کچھ بھی فائدہ حاصل نہ کرسکے؛ تو اسکا مطلب یہ ہے کہ ان سے دین کا اہم ترین اور اشرف ترین حصہ چھوٹ گیا۔ تو اس صورت میں باقی مسائل عقیدہ توحید اور عدل بھی ان کے کچھ کام نہ آسکے۔اس لیے کہ بہ نسبت مقصود ِامامت کے ان میں نقص پایا جاتا ہے ۔ لہٰذا اس وجہ سے وہ عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔

شیعہ امامیہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ امامت کی ضرورت صرف شریعت کی فروعات میں ہوتی ہے اصول میں نہیں ۔ جب کہ اصول عقلیہ میں امام کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ دینی اصول و قواعد اہم و اشرف ہوتے ہیں ۔اس تمام کلام کے بعد امامت کے متعلق تمہارا عقیدہ راہ حق سے سب سے زیادہ دور ہے ۔اگر اس میں سوائے اس کے اور کچھ بھی نہ ہوتا کہ تم نے امامت کودین ودنیا میں مخلوق کی مصلحت کے لیے واجب قراردیا ہے۔اور تمہارے اس امام زمانہ کے ذریعہ ابھی تک کوئی مصلحت حاصل نہیں ہوئی؛ نہ ہی دین میں اور نہ ہی دنیا میں ۔ اب بتائیے اس شخص کی جد و جہد سے زیادہ بیکار کوشش کس کی ہوگی جو اطاعت ائمہ میں بڑی زحمت اٹھاتا، اکثر قیل و قال سے کام لیتا، مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہوتا، سابقین اولین [صحابہ و تابعین ]پر لعنت بھیجتا اور کفار و منافقین کا دست راست بنا رہتا ہے۔ بایں ہمہ وہ حیلہ گری سے بھی نہیں چوکتا، دشوار گزار راستوں پر گامزن ہوتا، جھوٹی شہادت سے تقویت حاصل کرتا اور اپنے پیروکاروں کو فریب دہی سے پھانستا رہتا ہے۔اور ایسی ایسی حرکات کا ارتکاب کرتا ہے جن کا یہاں پر ذکر کرنا طوالت اختیار کرجائے گا۔ [ردّشیعہ کا سلسلہ جاری ہے، یہ رد بلا دلیل نہیں بلکہ ان کے تاریخی دلائل وہ شواہد موجود ہیں ، علاوہ ازیں خود شیعہ کی تصنیفات میں ایسے حقائق کی کمی نہیں اگر عمر و وقت میں گنجائش ہو تو شیعی تصنیفات میں سے مواد لے کر ضخیم مجلدات تحریر کی جا سکتی ہیں ۔]اس کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ایک امام کا وجود از بس ضروری ہے جو احکام الٰہی سے آگاہ کرتا رہے۔اور وہ چیزیں بیان کرے جن سے اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل ہوتی ہو۔ 

پھر جب اس امام کے نام و نسب کا علم ہوگیا تو اس سے کوئی بھی مطلب کی بات حاصل نہ ہوسکی۔ اور نہ ہی اس کی تعلیمات اور رہنمائی کی باتوں میں سے کوئی بات اس کے ماننے والوں تک پہنچ سکی۔اور نہ ہی اس کے اوامر و نواہی کا پتہ چل سکا۔ اور نہ ہی امام سے کوئی مصلحت و منفعت حاصل ہوئی؛ بجز جان و مال کے نقصان کے۔اوراس کے کہ وہ انسان حسرت و ندامت کا شکار ہو، خطا کا مرتکب ہو ، دور دراز سفر میں مبتلا رہ کر دن رات امام غائب کا منتظر رہے۔ اور تہ خانہ میں داخل ہونے والے ایک امام کی وجہ سے امت محمدی سے بغض و عداوت کا سلوک روا رکھے۔ حالانکہ اس امام نے نہ کوئی کام کیا اور نہ اسکی زبان سے ایک لفظ صادر ہوا۔ مزید برآں اگر امام مذکور کا وجود یقینی ہوتا تو بھی شیعہ کو ان سے کوئی فائدہ نہ پہنچتا۔ امت کے دانش مند لوگ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ شیعہ کے یہاں افلاس کے سوا اور کچھ نہیں ۔ مزید برآں حسن بن علی عسکری کے یہاں سرے سے کوئی اولاد ہی نہ تھی اورنہ اس نے اپنے پیچھے کوئی وارث چھوڑا ہے ۔ جیسا کہ مورخ ابن جریر طبری اور عبدالباقی بن قانع وغیرہ اہل علم نسب دانوں نے ذکر کیا ہے۔

امام غائب کے عقیدہ کا ابطال:

شیعہ کہتے ہیں : امام زمان اپنے والد کی وفات کے بعد اس سرداب میں داخل ہوگیا تھا‘ اس وقت اس کی عمر دو سال یا پھر تین سال یا پھر پانچ سال تھی۔ [شیعہ کا عقیدہ ہے کہ امام منتظر دویا تین یا پانچ سال کی عمر میں تہ خانہ میں داخل ہوا] نظر بریں [اس وقت وہ امام بنص قرآنی ] یتیم ہو گا ؛جس کی تربیت اور مال کی حفاظت نص قرآنی کی بنا پر ضروری ہے یہاں تک کہ اس پر عقل مندی کے آثار نظر آنے لگیں ۔اور اس کا کوئی مستحق قرابت دار اسے گود پالے گا [اورتربیت و پرورش کا اہتمام کریگا]۔ جب اس کی عمر سات سال کی ہوجائے تو اسے طہارت اور نماز کی ادائیگی کا حکم دیا جائے گا۔ غور فرمائیے! جس نے ہنوز نہ وضوء کیا نہ نماز ادا کی؛ اور اگر وہ شاہداور موجود بھی ہوتا تو از روئے نص قرآنی وہ خود اور اس کا مال و اسباب اس کے کسی ولی کی نگہداشت میں ہوتے۔ (اور ولی کی اجازت کے بغیر اسے تصرفات کی اجازت نہ ہوتی) تو پھر ایسے شخص کا اہل ایمان کا امام ہونا کیوں کر جائز ہو سکے گا؟

[یہ تو اس صورت میں ہوتا جب امام موجود ہوتا ] اور پھر اس وقت کیا عالم ہوگیا جب امام اتنی لمبی مدت سے مفقود یا معدوم ہو۔ جب کسی عورت کا ولی زیادہ مدت کے لیے غائب ہوجائے تو قاضی یا موجود ولی اس کی شادی کراسکتا ہے تاکہ اس عورت کے معلوم اورموجود ولی کے لمبا عرصہ تک غائب رہنے کی وجہ سے مصلحت فوت نہ ہو۔ توپھر امامت کی مصلحت کیسے حاصل ہوسکتی ہے جب کہ امام اتنے لمبے عرصہ سے غائب اور مفقود ہو؟

صفحہ 16 از 17