شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید - ردِ…

شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 17 از 17

[اتنی طویل مدت میں کوئی امام کیوں نہ مقرر کیا گیا اور امامت کی مصلحت کو کیوں کر پیش نظر نہ رکھا گیا؟][مورخ ابن جریر طبری ۲۰۲ھ کے واقعات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حسب و نسب کا ایک جھوٹا دعویٰ دار حیلہ جوئی کر کے خلیفہ المقتدر عباسی کے دربار میں حاضر ہوا اور یہ دعویٰ کیا کہ وہ محمد بن حسن بن علی بن موسیٰ بن جعفر ہے، خلیفہ نے بنی ہاشم کے مشائخ کو بلایا؛ان کا سردار ان دنوں احمد بن عبدالصمد تھا جو ابن طومار کے نام سے مشہور تھا۔ ابن طومار نے کہا کہ حسن کی کوئی اولاد نہ تھی، پھر تم محمد بن حسن کیسے ہوگئے؟ بنی ہاشم چلا چلا کر کہنے لگے کہ اسے سخت سزا دے کر لوگوں میں اس کی تشہیر کی جائے۔ چنانچہ اسے ایک اونٹ پر سوار کر کے ذوالحجہ کی آٹھویں اور نویں تاریخ کو شہر کی دونوں جانب میں پھرا کر مغربی جانب ایک قید خانہ میں قید کر دیا گیا۔ طبری کے ذکر کردہ واقعہ میں قابل غور بات ابن طومار کا یہ قول ہے کہ حسن عسکری نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی۔ یہ قول ان لوگوں کے قول سے زیادہ مضبوط اور قوی ہے جن کا دعویٰ ہے کہ حسن عسکری کی لونڈی نرگس کے یہاں آپ کی زندگی میں یا بعد از موت ایک بچہ پیدا ہوا تھا۔ حسن عسکری کا بھائی جعفر بن علی بن موسیٰ باقی لوگوں کی نسبت آپ کا نہایت قریبی تعلق دار تھا۔ حسن عسکری کی وفات کے بعد اس نے سب ترکہ خود لے لیا تھا۔ اس لیے کہ دوسرا کوئی شخص ان کا وارث نہ تھا، جعفر بن علی نے ان کی لونڈی کو بھی روکے رکھا تھا اور اس وقت اجازت دی جب پتہ چل گیا کہ ان میں سے کوئی بھی حاملہ نہیں ۔ تاریخ کے اوراق ایسی شخصیت سے آشنا نہیں جسے حسن عسکری کی اولاد کہا جا سکے۔ گر وہی تعصب کی بنا پر یہ دعویٰ کرنا الگ بات ہے کہ وہ تاحال بقید حیات ہے۔کچھ بعید نہیں کہ اس (افسانے) کے آغاز کا حقیقت سے اتنا ہی تعلق ہو جتنا اس کے انجام کا ہے۔ ’’سبحانک یا واھب العقول‘‘]



صفحہ 17 از 17