شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید - ردِ…

شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 17

۱ول: اگر اس بات کوصحیح بھی تسلیم کرلیا جائے تب بھی یہ کہنا جائز نہیں کہ یہ مسئلہ مطلق طور پر دین کے اہم ترین مسائل میں سے ہے ۔بلکہ کبھی کبھار بعض اوقات میں ایسا ہوتا ہے ۔ باقی اوقات میں یہ نہ ہی دین کے اہم مطالب میں سے ہوتا ہے اورنہ ہی اشرف ترین مسائل میں سے ۔

دوم : یہ کہا جائے گا کہ: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ہر زمانے میں اور ہر جگہ پر امامت کی نسبت اہم ترین مسائل میں سے رہا ہے ۔پس امامت کا مسئلہ کسی طرح بھی اہم ترین مطلب اور اشرف ترین مسئلہ نہیں ہوسکتا۔

سوم : یہ کہا جائے گا کہ: اگر واقعی یہ اتنا اہم ترین مسئلہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب تھا کہ وہ باقی امت کے لیے اس مسئلہ کو بیان فرماتے ؛ جیسا کہ نماز ‘ روزہ ؛ زکاۃ اور حج کے امور کو بیان فرمایاہے۔ اور خاص کر اللہ تعالیٰ پر ایمان ‘ اس کی توحید اور آخرت پر ایمان کوبیان کیا ہے ۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ ان [رافضی] اصولوں کے مطابق امامت کا مسئلہ نہ ہی قرآن میں بیان ہوا ہے اور نہ ہی سنت میں ۔

اگر یہ کہا جائے کہ : امامت ہر زمانے میں اہم ترین مسئلہ رہی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبی بھی تھے اور امام بھی اور یہ بات ہر اس آدمی کومعلوم ہے جو آپ پر ایمان لایاہے کہ آپ اس وقت کے امام تھے ۔

ہم کہتے ہیں یہ عذر پیش کرنا کئی وجوہات کی بنا پر باطل ہے :

پہلی وجہ :کہنے والے کایہ کہنا کہ : امامت احکام دین کے اہم ترین مطالب میں سے ہے ؛یا تو اس سے مراد بارہ امام ہوں گے ‘ یا پھر ہر زمانے میں متعین امام ہوگا۔ اس طرح سے کہ ہمارے اس زمانے میں امام غائب مہدی منتظر پر ایمان رکھنا ضروری ہوگا۔ جب کہ خلافت راشدہ کے زمانہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے امام ہونے پر ایمان رکھنا ضروری رہا ہوگا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی اہم آپ کی امامت پر ایمان رکھناہوگا۔ یا پھر اس سے مطلق امامت پر ایمان ہوگا‘اس سے کوئی متعین شخص مراد نہیں ہوگا۔یا پھر اس سے کوئی چوتھا معنی مراد ہوگا۔

پہلا معنی: یہ بات اضطراری طور پر سب کومعلوم ہے کہ یہ مسئلہ نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان مشہور و معروف تھا اور نہ ہی تابعین کرام کے درمیان۔بلکہ شیعہ خود کہتے ہیں : ’’ ان[ائمہ ] میں سے ہر ایک اپنے سے پہلے امام کے متعین کرنے سے امام بنتا ہے۔ پس یہ بات باطل ہوگئی کہ یہ مسئلہ دین کے اہم ترین امور میں سے ہے۔

دوسرا معنی: اگر ایسا مان بھی لیا جائے تو اس سے مراد یہ ہوگی کہ ہر زمانے میں اس زمانے کے امام پر ایمان رکھا جائے۔ تو اس لحاظ سے سن ۲۶۰ ہجری سے لیکر آج تک امام مہدی منتظر محمد بن حسن عسکری ہوگا۔ اور امامت پر ایمان رکھنا ’’ لا إلہ إلا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ‘‘ کے اقرار؛ اللہ تعالیٰ ‘فرشتوں ‘ کتابوں اور رسولوں پر آخرت کے دن پر ایمان سے ؛اور نماز ‘ زکوٰۃ ‘روزہ ‘ حج اور دیگر ارکان اسلام پر ایمان اور دیگر تمام واجبات سے بڑھ کر اہم ہوگا۔ 

یہ بات سبھی کومعلوم ہے کہ مسلمانوں کے دین میں اس طرح کی باتیں کرنا بالکل فاسد ہیں ۔یہ امامیہ کا قول [مذہب ]بھی نہیں ۔اس لیے کہ ان کے ہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کی امامت کااہتمام مہدی منتظر کی امامت کے اہتمام سے بہت بڑھ کر ہے ۔ جیسا کہ اس کتاب کے مصنف نے اور اس جیسے دیگر شیعہ مشائخ نے نقل کیا ہے۔ امامیہ فرقہ کے پاس دین سے صرف یہ متاع باقی رہ گئی ہے کہ انہوں نے امام معدوم کو امام معصوم قرار دیا ہے؛ جو کہ نہ انہیں دین میں کوئی فائدہ دے سکتا ہے اور نہ ہی دنیا میں ۔پس انہیں اس امام کی امامت پر ایمان رکھنے سے نہ ہی کوئی دنیاوی فائدہ حاصل ہوا اور نہ ہی کوئی دینی [یا اخروی]فائدہ ۔

تیسرا معنی: اگر یہ کہیں کہ : ’’ اس سے مراد یہ ہے کہ مطلق طور پرامامت دین کے اہم ترین مطالب میں سے ہے ۔تو یہ کہنا بھی باطل ہے ۔اس لیے کہ یہ بات سبھی لازمی طور پر جانتے ہیں کہ دین کے دوسرے امور اس سے بڑھ کر اہم ہیں ۔اوراگر اس سے مقصود کوئی چوتھا معنی ہے توشیعہ مصنف کوچاہیے کہ اس کی وضاحت کرے ؛ تاکہ ہم اس پر بحث کرسکیں ۔

دوسری وجہ : یہ کہا جائے گا کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امام ہونے کی وجہ سے آپ کی اطاعت لوگوں پر فرض نہ تھی ؛ بلکہ لوگوں کی طرف آپ کے رسول ہونے کی وجہ سے اطاعت فرض تھی۔یہ بات آپ کے لیے زندگی میں اور وفات کے بعد ہر حال میں ثابت ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں آنے والے لوگوں پر بھی آپ کی اطاعت اسی طرح فرض ہے جس طرح آپ کے زمانے کے لوگوں پر فرض تھی۔ آپ کے اہل زمانہ میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو آپ کے پاس موجود ہوا کرتے تھے ‘ اور آپ کے امرو نہی کوسماعت کیا کرتے تھے ۔اورکچھ دوسرے لوگ تھے ‘جو آپ کی مجلس سے غائب ہوتے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شرکت کرنے والے لوگ ان تک شرعی احکام پہنچاتے۔تو ان پر بھی اطاعت کرنا واجب ہوتی۔ ایسے ہی بعد میں آنے والے لوگوں کا معاملہ ہے ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم عام ہے؛ اور ان تمام لوگوں کوشامل ہے چاہیے وہ آپ کی مجلس میں حاضر ہوں یا اس سے غائب ہوں ۔آپ کی زندگی میں اور اس کے بعد [جس تک بھی فرمان نبوت پہنچے ‘اس پر اس کا ماننا واجب ہو جاتاہے]۔ یہ خصوصیت امامت کو حاصل نہیں ۔یہاں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ خاص متعین لوگوں کو کچھ احکام دیے ؛ اور کچھ متعین لوگوں کے لیے چند امور بیان کیے ؛ مگر اس کے باوجود یہ احکام صرف ان لوگوں کے ساتھ ہی خاص نہیں ہوں گے؛ بلکہ ان جیسے دوسرے لوگوں کے لیے بھی یہ احکام ہوں گے۔جیساکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے ساتھ نماز پڑھنے والوں کو یہ حکم دینا کہ :

’’رکوع اور سجدہ میں مجھ پر سبقت نہ لے جاؤ ۔‘‘[مسلم ۱؍۳۲۰۔ ابن ماجۃ ۱؍۳۰۸۔]

یہ حکم ہر مقتدی کے لیے ہے جو بھی امام کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہوکہ رکوع اور سجدہ میں امام سے آگے نہ بڑھے۔

ایسے ہی [حج میں ]رمی سے پہلے سر منڈوانے والے کیلئے آپ نے فرمایا تھا : ’’اب رمی کرلو‘ اس میں کوئی حرج نہیں ۔‘‘

جس انسان نے حلق[سر منڈوانے] سے پہلے قربانی کردی تھی ‘ اس سے فرمایا:

صفحہ 2 از 17