شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید - ردِ…

شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 17

’’ اب سر منڈوالو ‘ کوئی حرج نہیں ۔ ‘‘ [البخاری ۲؍۱۷۳۔ مسلم ۲؍۹۴۷]

جن لوگوں کے ساتھ اس کے بعد بھی اس طرح کا معاملہ پیش آجائے ان کے لیے یہی حکم ہے ۔

ایسے ہی جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ماہواری شروع ہوگئی توآپ نے حکم دیا تھا :

’’ ایسے ہی کرتی جاؤ جیسے باقی حاجی کررہے ہیں ‘صرف بیت اللہ کا طواف نہ کرنا ۔‘‘[البخاري ۲؍۱۵۹۔]

اس طرح کی مثالیں بہت زیادہ ہیں ۔ بخلاف امام کے؛ جب اس کی اطاعت کی جائے۔

اور اس کے بعد اس کے خلفاء کا معاملہ بھی امر و نہی کی تنفیذ میں کچھ ایسے ہی ہوتا ہے جیسے اس امام کی زندگی میں ہوتا ہے۔ پس ہر حکم دینے والا جب کسی ایسی بات کا حکم دیتا ہے جس میں اس کی اطاعت کرنی واجب ہو‘ تو حقیقت میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم نافذ کررہا ہوتا ہے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کوتمام لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا اوران پر آپ کی اطاعت فرض کردی۔ اس وجہ سے نہیں کہ آپ حکمران ہیں اور آپ کے انصار و مدد گارہیں ۔ اور نہ ہی یہ وجہ ہے کہ کسی دوسرے نے آپ کی امامت کا عہد لیا ہے ؛ اس طرح کی دیگر کوئی بات بھی نہیں ۔اور آپ کی اطاعت ان امور پر بھی موقوف نہیں جن پر خلیفہ معہود کی اطاعت موقوف ہوتی ہے۔بلکہ اگر آپ کے ساتھ ایک آدمی بھی نہ ہو؛ اور تمام لوگ آپ کوجھٹلاتے رہیں ‘ تب بھی آپ کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے[اس لیے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ]۔مکہ میں ہجرت سے قبل جب آپ کے اعوان و انصار نہیں تھے ‘تب بھی آپ کی اطاعت واجب تھی۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَاْئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِیْبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْئًا وَ سَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ ﴾ [آل عمران]

’’اور نہیں ہیں محمد مگر ایک رسول، بیشک آپ سے پہلے بھی کئی رسول گزر چکے ہیں تو کیا اگر آپ فوت ہو جائیں ، یا قتل کر دیے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے اور جو اپنی ایڑیوں پر پھر جائے تو وہ اللہ کو ہرگز کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گا اور اللہ شکر کرنے والوں کو جلد جزا دے گا۔‘‘

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان کردیا ہے کہ [اگر بالفرض ] آپ کو قتل کردیا جائے ‘یا طبعی وفات ہوجائے ؛ تب بھی اس سے رسالت کے حکم میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔جس طرح ائمہ کی موت سے یا قتل کردیے جانے سے امامت کی اطاعت ختم ہوجاتی ہے۔اورنبی ہونے کے لیے یہ شرط بھی نہیں ہے کہ نبی ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہے اور اس پر کبھی موت نہ آئے۔اس لیے کہ آپ رب نہیں ہیں ‘بلکہ بیشک آپ رسول ہیں ‘اورآپ سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رسالت کا حق ادا کیا‘ اللہ تعالیٰ کی امانت لوگوں تک پہنچا دی ؛ اور امت کے لیے خیر خواہی کی؛ اور اللہ کی راہ میں ایسے جہاد کیا جیسے جہاد کرنے کا حق ہے۔اورپھر اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی بندگی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آگئی۔پس آپ کی اطاعت جیسے آپ کی زندگی میں واجب تھی ‘ایسے ہی موت کے بعد بھی واجب ہے ‘بلکہ زیادہ تاکیدی ہوجاتی ہے ۔ اس لیے کہ دین مکمل ہوگیا‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت سے احکام شریعت میں استقرار و ٹھہراؤ آگیا ۔اب اس میں کسی چیز کے منسوخ [یاتبدیل ] ہونے کا امکان باقی نہیں رہا ۔اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے بعد قرآن مجید جمع کیا گیا ۔

جب کوئی اعتراض کرنے والا یہ بات کہے کہ: ’’ بیشک آپ اپنی حیات مبارکہ میں خود امام تھے‘اور آپ کے بعد دوسرے لوگ امام بن گئے۔اگر ایسا کہنے سے مقصود یہ ہو کہ یہ امام بھی ایسے ہی واجب الاطاعت ہے جیسے رسول کی اطاعت کی جاتی ہے ؛ تو ایسا کہنا سراسر باطل ہے۔اگر اس سے مقصود یہ ہے کہ امام آپ کے بعد خلیفہ بنا تھا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امر و نہی کونافذ کرے ؛ تو ایسا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی ہوتا رہا ہے ۔ اس لیے کہ جب بھی آپ مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تو اپنے پیچھے کسی کونگران چھوڑ کر جاتے ۔

اگر یہ کہا جائے کہ آپ نے اپنی زندگی کے برعکس موت کے بعد حکم دے کر کسی کو متعین نہیں کیا تھا۔

تو اس سے کہا جائے گا کہ :’’ امیر کے واجب الاطاعت ہونے کے لیے اس کا نام لے کر متعین کیا جانا ضروری نہیں ۔ بلکہ جس تک کہ اس کے اوامر و نواہی پہنچیں ان پر اطاعت لازمی ہوتی ہے۔ جیسا کہ جو انسان خود کلام سماعت کررہا ہو‘ اس پراطاعت واجب ہوتی ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:

’’ حاضرین کو چاہیے کہ وہ غائب لوگوں تک بات پہنچادیں ۔ بیشتر اوقات جس تک بات پہنچائی جاتی ہے ‘ وہ بات پہنچانے والے سے بڑھ کر یاد رکھنے والا ہوتا ہے ۔‘‘[رواہ البخاری۲؍۱۷۶۔]

اگر یہ کہا جائے کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات مبارک میں متعین معاملات میں فیصلے کیا کرتے تھے‘ جیسا کہ کسی شخص کو کچھ عطاء کرنا ‘کسی خاص شخص پر حد لگانا ؛ خاص لشکر کو روانہ کرنا۔

تو اس سے کہا جائے گا کہ : یہ بالکل درست ہے ۔اور اس طرح کے مسائل میں آپ کی اطاعت قیامت تک کے لیے واجب ہے؛ برخلاف ائمہ کے۔لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایسے مسائل پر استدلال مخفی رہتا ہے۔ جیسا کہ آپ کی مجلس سے غائبین پر علم مخفی رہتاہے ۔ پس جو انسان آپ کی مجلس میں موجود ہو ‘وہ غائب کی بہ نسبت آپ کے قول کو زیادہ جانتا اور سمجھتا ہے۔ اگرچہ غائبین میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو براہ راست سننے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں ۔لوگوں میں ایسا فرق آپ کے امر و نہی کو سمجھنے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ اس پران کی اطاعت کے واجب ہونے میں کوئی فرق نہیں ۔

صفحہ 3 از 17