شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید - ردِ…

شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 17

آپ کے بعد بھی ولی امر کی اطاعت ایسے ہی واجب ہے جیسے آپ کی حیات مبارک میں آپ کے متعین کردہ اولیاء الامر کی اطاعت واجب تھی۔آپ کی اطاعت تمام لوگوں کو یکساں طور پر شامل ہے۔ اگرچہ ان کے سننے ‘ سمجھنے اور فہم کے مراتب میں فرق ہے۔بعض لوگوں تک وہ احکام پہنچتے ہیں جو دوسروں تک نہیں پہنچے ہوتے اور کچھ لوگ آپ کی مجلس میں شرف سماعت سے باریاب ہوتے ہیں جو کہ کسی دوسرے انسان کو نہیں مل پاتااور کچھ لوگ اس حدیث کو ایسے سمجھ لیتے ہیں جیسے دوسرے نہیں سمجھ سکتے ۔

پس جو کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق حکم جاری کرے تو اس کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔حقیقت میں یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے ‘اس انسان کی نہیں ۔جب لوگوں پر کوئی ایسا حکمران ہو ‘ جو صاحب شان وشوکت ہو‘اور احکام نافذ کرنے کی قدرت رکھتا ہو‘ اوروہ [احکام شریعت کے مطابق] حکم یا آرڈر جاری کرے ؛ تو اس کے ساتھ مل جانا چاہیے ؛ اور پھر جائز نہیں ہوتا کہ اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو حاکم بنایا جائے۔ پھر یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ کوئی انسان اس جیسا اورنہ ہو۔بلکہ کوئی ایسا انسان ہوسکتا ہے جو دوسرے کی بہ نسبت آپ کے زیادہ قریب ہو۔

خلافت نبوت کا سب سے زیادہ حق دار وہ انسان ہے جو آپ کے اوامر و نواہی کوجاری کرنے کے زیادہ قریب تر ہو۔ اورلوگ حکام کی اطاعت غالب طورپر اس وقت تک نہیں کرتے جب تک کوئی قوت والا حکمران ان پر بات ماننے کو واجب نہ کردے۔جیسا کہ خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارک میں بہت سارے لوگوں نے ظاہری طور پر آپ کی اطاعت اس وقت تک نہیں کی جب تک کہ آپ کو انصار و مدد گار میسر نہیں آگئے؛ جو آپ کی بات منوانے کے لیے جنگ و قتال تک کرتے تھے۔دین سارے کاسارا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہے۔ اوراللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہی دین ہے۔پس جو کوئی رسول کی اطاعت کرتا ہے گویاکہ اس نے اللہ کی اطاعت کی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعدبھی مسلمانوں کا دین اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے۔اور حاکم وقت کی ایسے امور میں اطاعت کرنا جن کاحکم شریعت میں موجود ہو‘حقیقت میں یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے۔ [ایسے میں ]حاکم وقت کا حکم در اصل اللہ کا حکم ہوتا ہے ؛ جس کا اسے حکم ہوتا ہے کہ وہ لوگوں میں یہ حکم جاری کرے۔حکمران کا حکم ماننا [جب وہ احکام شریعت کے مطابق ہوتو]حقیقت میں اللہ کا حکم ماننا ہے۔ائمہ اور امت کے وہ اعمال جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور جن کے کرنے پر وہ راضی ہوتا ہے ‘حقیقت میں وہ تما م اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے کام ہیں ۔اسی لیے دین کی اصل بنیاد ’’ لا إلہ إلا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ‘‘کی گواہی کا اقرار ہے۔

اگریہ کہا جائے کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم امام تھے ‘اور آپ کی امامت رسالت سے خارج چیز تھی۔ یا آپ کی امامت میں کچھ ایسی شرائط تھیں جو رسالت میں نہیں تھیں ؛ یاآپ کی امامت ایسی تھی جس میں رسالت سے ہٹ کر اطاعت واجب تھی۔ یہ تمام باتیں باطل [اور دروغ گوئی ]ہیں ۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر قابل اطاعت بات آپ کی رسالت میں شامل ہے۔ہر وہ بات جس میں آپ کی اطاعت کی جاتی ہے ‘اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ واجب الاطاعت رسول ہیں ۔اور اگر یہ بات مان لی جائے کہ بالفرض آپ صرف امام ہیں ؛ تو آپ کی اطاعت اس وقت تک نہ کی جاسکتی جب تک آپ کی اطاعت کسی دوسرے رسول کی اطاعت کے زمرے میں نہ آتی۔اس لیے کہ اطاعت حقیقت میں اللہ اور اس کے رسول کی ہے ‘اور پھر ان لوگوں کی جن کی اطاعت کرنے کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ آپ کی امامت کی وجہ سے آپ کی اطاعت کی گئی ؛ اور یہ اطاعت مسئلہ رسالت میں شامل تھی۔ تو پھر اس بات کی کوئی تاثیر باقی نہیں رہتی۔ اس لیے کہ صرف رسالت کا ہونا آپ کی اطاعت کے واجب ہونے کے لیے کافی ہے برعکس امام کے ۔ بیشک امام اس وقت امام بنتا ہے جب اس کے اعوان و انصارو مددگار ہوں جو اس کے حکم کو نافذ کریں ۔اگر ایسا نہ ہو تو وہ بھی کسی عام اہل علم اور اہل دین انسان کی طرح ہوگا۔

اگر یہ کہا جائے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ طیبہ میں انصار و مدد گار میسر آگئے تو آپ رسالت کے ساتھ ساتھ عادل امام بھی بن گئے۔

تو اس کے جواب میں کہا جائے گا : بلکہ آپ ایسے رسول ہوگئے جنہیں مددگار و انصار میسر آئے جو آپ کے احکام کو نافذ کرتے ‘ اور آپ کے مخالفین سے جہاد کرتے ۔ اور[یہ عہد کیا کہ] جب تک ایک بھی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والا انسان رؤئے زمین پر موجود ہے ‘ وہ ایسا کرتے رہیں گے ‘ آپ کے احکام کو نافذ کرتے رہیں گے‘ اور اس کی مخالفت کرنے والوں سے جہاد کرتے رہیں گے۔ اس میں کوئی حاکمیت یا امامت والی ایسی بات نہیں تھی جس کے ہونے سے رسالت کے باب میں کوئی خاص فائدہ ہو۔ اس لیے کہ یہ تمام امور خود رسالت میں شامل ہیں ۔لیکن ان انصار کی وجہ سے آپ کوکمال قدرت حاصل ہوگئی۔ اور آپ پر اوامر نازل ہوئے ‘ جہاد واجب ہوا جو کہ اس قدرت سے پہلے واجب نہیں تھا۔ پس یہ احکام علم اور عدم علم ؛ قدرت اور عاجزی میں اختلاف کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں ؛جیسا کہ محتاج اور مالدار ‘ مریض اور صحت مند ہونے کی بنا پر مختلف ہوتے ہیں ۔مؤمن ان تمام امور میں اللہ تعالیٰ کا اطاعت گزار ہوتا ہے؛ اور تمام امور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اطاعت گزار ہوتا ہے ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ‘ آپ جس بات کا حکم دیتے ہیں ‘اور جس بات سے منع کرتے ہیں ‘ان تمام باتوں میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے ہوتے ہیں ۔

[شبہ]:اگر امامیہ فرقہ کے لوگ کہیں کہ: رسالت کے برعکس امامت از روئے عقل واجب ہوتی ہے ۔اس لیے یہ اہم ترین مسائل میں سے ہے ۔ 

صفحہ 4 از 17