شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید - ردِ…

شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 17

دوسری بات :لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں جن کا خیال ہے کہ ان لوگوں کے وجود پر ایمان رکھنے سے انسان کا ایمان ؛ خیر و بھلائی اور اللہ تعالیٰ کی محبت بڑھتے ہیں ۔ زہاد زیادہ سے زیادہ یہ بات کہتے ہیں کہ:’’ ان کی تصدیق کرنے والاان کے منکر سے زیادہ افضل و اشرف اور کامل ہے۔یہ قول ہر لحاظ سے رافضیوں کے قول کے مشابہ نہیں ہے۔ بلکہ بعض وجوہات کی بنا پر یہ اقوال آپس میں مشابہت رکھتے ہیں ۔اس لیے کہ انہوں نے کمال ِدین کو اس تصدیق پر موقوف کردیا ہے۔ پس اس وقت کہا جائے گا کہ مسلمان علماء اور ان کے ائمہ کا اس قول کے باطل ہونے پر اتفاق ہے۔اس لیے کہ واجبات اور مستحبات کا علم ‘ اور واجبات و مستحبات کا بجا لانا ان کی تصدیق پر موقوف نہیں ہے۔ بعض اہل زہد و عابدین اور عوام الناس کا یہ خیال کرنا کہ دین کی کوئی بھی چیز واجب یا مستحب ان لوگوں کی تصدیق پر موقوف ہے ؛ تو یہ ان لوگوں کی جہالت اور گمراہی پر مبنی قول ہے ‘ اس پرکتاب و سنت کے جاننے والے اہل علم کا اتفاق ہے ۔ اور دین میں یہ بات اضطراری طور پر معلوم اور ایک بد یہی امر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تصدیق کو مشروع قرار نہیں دیا، اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء اسلام میں سے کوئی ایک اس تصدیق کو امور دین میں سے سمجھتا تھا۔اور ایسے ہی : غوث ؛ قطب ؛ اوتاد ؛ نجباء وغیرہ کے یہ تمام الفاظ کسی ایک نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی معروف سند کے ساتھ نقل نہیں کیے؛ اور نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ اپنی زبان مبارک پر لائے ہیں ؛ اور نہ ہی صحابہ کرام نے۔ لیکن لفظ ابدال بعض سلف سے منقول ہے۔اور اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ضعیف روایت نقل کی گئی ہے ؛ جس پر ہم کئی ایک جگہ پر تفصیلی کلام کر چکے ہیں ۔ [یہ حدیث مسند أحمد میں وارد ہوئی ہے: ۲؍۱۷۱؛ تحقیق أحمد شاکر۔سلطان العلماء العز بن عبدالسلام السلمی المتوفی (۵۷۷۔ ۶۶۰) لکھتے ہیں کہ ابدال، غوث، قطب اور نجباء کے ناموں کی دین میں کوئی اصل نہیں اور یہ کسی حدیث صحیح و ضعیف میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں ۔]

بعض صوفیاء کا شرک فی ربوبیت :

تیسری بات: یہ بات کہنے والوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں ‘ جن کا کسی بشر کی طرف منسوب کرنا ہر گزجائز نہیں ۔ مثلاً: بعض لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ قطب و غوث ہدایت و نصرت اور رزق میں اہل زمین کی امداد کرتے ہیں اور یہ چیزیں انکے توسط کے بغیر کسی کو حاصل نہیں ہوتیں ۔یہ دعوی باطل ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے ۔ اورایساکہنے والا شخص گمراہ ہے اور اس کا قول اس باب میں نصاریٰ کے قول سے ملتا جلتا ہے۔جیسے کہ ان میں سے بعض لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان اولیاء میں سے کوئی ایک اللہ تعالیٰ کے ہر ولی کو جانتا ہے ‘ جو موجود ہے یا جو ولی ہونے والاہے؛ اس ولی کے نام ‘ اس کے باپ کے نام اور اللہ کے ہاں اس کے مقام و مرتبہ سے بھی واقف کار ہے ۔اوراس طرح کی دیگر کئی باطل باتیں ایسے لوگوں کے عقیدہ میں شامل ہیں ۔جو اس امر کو متضمن ہیں کہ بعض بشر بعض خصائص میں اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں ۔ مثال کے طور اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز کا جاننے والا ہے۔ اور ہر ایک چیز پر قادر ہے ۔ اس طرح کا دعوی بعض لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے شیوخ کے بارے میں کرتے ہیں کہ ان کا علم اللہکے علم و قدرت پر حاوی ہے اور وہ اسی قسم کے علم و قدرت سے بہرہ ور ہیں جیسے ذات الٰہی۔پس وہ ہر اس چیز کو جانتے ہیں جسے اللہ جانتا ہے ‘اور ہر اس چیز پر قدرت رکھتے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ قدرت رکھتا ہے ۔ اس طرح کے عقائد و اقوال بالکل نصاری اور غالی شیعہ کے اقوال کی جنس سے ہیں ۔ اور ان عقائد و اقوال کے باطل ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے ۔

اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جوایسی کرامات ‘ مکاشفات اور اجابت دعاء کے قصے اور ان کی طرف ایسی چیزیں منسوب کرتے ہیں جن کا کسی نبی یا نیک مسلمان کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ۔ یہ لوگ ایسی باتیں کسی معدوم کی طرف منسوب کرنے میں اگرچہ خطاء کار ہیں ؛ لیکن ان کی خطاء اس شخص کی غلطی کی طرح ہے جو یہ گمان رکھتا ہو کہ فلاں شہر میں اولیاء اللہ ہیں ‘ حالانکہ وہاں کوئی بھی نہ ہو۔ یا پھر وہ انسان جو کہ بعض لوگوں کے متعلق گمان رکھتا ہوکہ وہ اولیاء اللہ ہیں ‘ مگر وہ اولیاء اللہ نہ ہوں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح کے اعتقادات و خیالات گمراہی ؛ جہالت اور خطا ہیں جن میں بہت سارے لوگ مبتلا ہیں ۔ لیکن امامیہ کی خطاء اور گمراہی ان سب سے بڑھ کر اور قبیح ہے۔

الیاس اور خضر کی وفات:

چوتھی بات:محققین علماء کرام رحمہم اللہ کا زاویہ نگاہ یہ ہے کہ حضرت خضر و الیاس علیہماالسلام فوت ہو چکے ہیں ۔[سنت اﷲ یہی چلی آتی ہے کہ انبیاء علیہم السلام یا غیر انبیاء سب وقت مقرر پر فوت ہوجاتے ہیں ، جو شخص دین اسلام کی طرف ایسی نص منسوب کرے جو اس کے خلاف ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اسے منظر عام پر لائے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحیح حدیث میں ایسی کوئی نص موجود نہیں ہے۔]

نیز یہ کہ اللہ عزو جل اور مخلوق کے پیدا کرنے ‘ان کو روزی اور ہدایت دینے اور ان کی نصرت کرنے میں کسی مخلوق کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔مرسلین کا واسطہ فقط تبلیغ رسالت کا ہے۔ اور کسی انسان کو مرسلین کی اطاعت کے بغیر کبھی کوئی سعادت حاصل نہیں ہوسکتی۔جب کہ مخلوق کے لیے رزق رسانی ؛ ہدایت ‘ نصرت اور پیدائش پر اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو کوئی قدرت حاصل نہیں ۔ یہ امور انبیاء کرام کی حیات و موت پر منحصر نہیں ۔ بلکہ مخلوق کی پیدائش اور ان کے لیے رزق رسانی حقیقت میں رسولوں کے وجود پر بھی منحصر نہیں ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کبھی ملائکہ کے واسطہ سے کچھ پیدا کرتے ہیں ‘اور کبھی اس میں کوئی انسان سبب بنتا ہے ۔جیساکہ مخلوق میں یہ اسباب عوام الناس میں معروف ہیں ۔

صفحہ 7 از 17