شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید - ردِ…

شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 17

اب یہ کہنا کہ یہ امور بشری واسطہ کے بغیرحاصل نہیں ہوسکتے۔یا بشر میں سے کوئی ایک ان تمام امور پر قادر ہے ؛ یا اس طرح کی دیگر باتیں ۔ یہ سب چیزیں باطل ہیں ۔تو پھر رافضیوں سے کہا جائے گا کہ : جب [آپ لوگ]گمراہی پر کسی گمراہی و ضلالت سے استدلال کرتے ہیں تو پھر [اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یاد رکھنے کے قابل ہے کہ]:

﴿وَلَنْ یَّنفَعَکُمُ الْیَوْمَ اِِذْ ظَلَمْتُمْ اَنَّکُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِکُوْنَ﴾ [الزخرف ۳۹]

’’اور آج یہ بات تمھیں ہر گز نفع نہ دے گی، جب کہ تم نے ظلم کیا کہ بے شک تم (سب) عذاب میں شریک ہو ۔‘‘

مزید برآں یہ بات بھی معلوم ہے کہ مسلمانوں کے اشرف ترین مسائل اور اہم ترین مطالب کے لیے ضروری ہے کہ دوسرے مسائل کی بہ نسبت ان کاذکر قرآن مجید میں موجود ہو۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی دوسرے مسائل کی بہ نسبت ان مسائل کا بیان کرنا زیادہ ضروری تھا۔ قرآن اللہ تعالیٰ کی توحید ‘ اس کے اسماء و صفات ؛ ملائکہ ‘ کتب اور مرسلین ؛ یوم آخرت ‘ قصص ‘ أمر و نہی ؛ حدود وفرائض کے احکام سے بھرا ہوا ہے؛ بخلاف امامت کے۔ تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ قرآن میں اہم اور اشرف ترین مسائل کا بیان نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے سعادت کوایسے مسئلہ کے ساتھ معلق کردیا ہے جس میں امامت کا ذکر تک نہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّہَدَآئِ وَ الصّٰلِحِیْنَ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا﴾ [النساء ۶۹]

’’اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرتا ہے تو ایسے لوگ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء، صدیقین، شہیدوں اور صالحین کے ساتھ اور رفیق ہونے کے لحاظ سے یہ لوگ کتنے اچھے ہیں ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا وَ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ٭وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْہَا وَلَہٗ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ﴾[النساء ۱۳۔۱۴] 

’’ پس جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریگا (تو)اللہ اس کو ایسی جنت میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے۔اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اللہ کی حدود سے آگے نکل جائے اللہ اسے دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اسے رسوا کرنے والا عذاب ہوگا۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے کہ جوکوئی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے گا ‘وہ آخرت میں خوش بخت ٹھہرے گا۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے ‘ اور ان کی مقررکردہ حدود سے تجاوز کرے ‘ تو اسے عذاب دیا جائے گا۔سعادت مندوں اور اہل شقاوت کے درمیان یہ فرق ہے۔مگر امامت کا ذکر کہیں بھی نہیں ہے۔

اگر کوئی انسان یہ بات کہے کہ : ’’ امامت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں داخل ہے ۔‘‘

تو اس سے کہا جائے گا کہ : اس کی انتہاء یہ ہوسکتی ہے دوسرے بعض واجبات کی طرح ہو ‘ جیسے : نماز ‘ روزہ ‘ زکاۃ ‘ حج اور دوسرے واجبات ؛جو کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں داخل ہیں ۔توپھر صرف امامت کیوں کر دین کے اشرف ترین مسائل اور اہم ترین مطالب میں سے ہوسکتی ہے ؟

امامت اور رسالت برابر نہیں ہے:

[اشکال]:اگر کوئی یہ کہے کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت امام کی اطاعت کے بغیر ممکن نہیں ؛ اس لیے کہ امام ہی وہ ہستی ہے جو شریعت کی معرفت رکھتی ہے ۔‘‘ 

[جواب]:تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ : ’’ تمہارے مذہب کا یہی دعوی ہے ؛جس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ امامت کے مسئلہ پر قرآن میں کہیں بھی کوئی دلیل ایسے نہیں پائی جاتی جیسے باقی تمام اصول دین کے متعلق دلائل موجود ہیں ۔ اس سے پہلے ہم یہ بیان کر چکے ہیں کہ جس امام کے دعویدار یہ لوگ ہیں ‘اس امام سے کسی کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ اور مزید بیان آگے آئے گا کہ جو پیغام رسول لے کر آئے ہیں ‘ اس کی معرفت حاصل کرنے کے لیے کسی امام کی کوئی ضرورت نہیں ۔

امامیہ کے ہاں اصول دین:

امامیہ کے ہاں چار اصول ہیں : ۱۔ توحید ۲۔ عدل ۳۔ نبوت ۴۔ امامت۔

امامت آخری مرتبہ ہے ‘ جب کہ توحید ‘ عدل اورنبوت کا درجہ اس سے پہلے کا ہے۔ یہ لوگ توحید میں صفات الٰہیہ کی نفی کو داخل کرتے ہیں ۔اور یہ کہ قرآن مخلوق ہے ۔اور یہ کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں ہوگا۔اور عدل میں قدر کی تکذیب کو شمار کرتے ہیں ۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر نہیں ہے کہ وہ جسے چاہے ہدایت سے نواز دے۔ اور نہ ہی کسی کو گمراہ کرنے پر قادر ہے۔ اور کبھی اللہ تعالیٰ ایسی چیز کو چاہتے ہیں جو نہیں ہوسکتی۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر بھی نہیں ہے۔ اور نہ ہی ایسے ہے کہ جوکچھ اللہ تعالیٰ چاہے وہ ہوجائے۔ اور جو نہ چاہے وہ نہ ہو۔لیکن اس کے باوجود توحید ‘ عدل اور نبوت امامت پر مقدم ہیں ۔ تو پھر امامت کیسے اشرف ترین اور اہم ترین مسائل میں سے ہوسکتی ہے ؟

مزید برآں کہ امامت کو اس وجہ سے واجب قرار دیتے ہیں کہ اس سے واجبات کی ادائیگی میں مہربانی اور لطف ہوتا ہے۔ پس امامت ایسے ہی واجب ہوگی جیسے باقی وسائل واجب ہوتے ہیں ۔تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وسیلہ مقصود سے بڑھ کر اہم ترین اور اشرف ترین ہو؟

مسئلہ امامت میں رافضی تناقض:

صفحہ 8 از 17