شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید - ردِ…

شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 17

تیسری وجہ : ان سے کہا جائے گا کہ: اگرامامت اہم ترین مطالب دین اور اشرف ترین مسائل مسلمین میں سے ہے توپھر ان اہم مطالب اور اشرف مسائل سے لوگوں میں سب سے زیادہ دورخود رافضی ہیں ۔اس لیے کہ انہوں نے امامت کے مسئلہ میں ایسے حقیر اور گھٹیا قول گھڑلیے ہیں جو کہ عقل اور دین ہر لحاظ سے فاسد ہیں ۔ اس کا بیان ان شاء اللہ آگے آئے گاجب ہم ان کے دلائل پر رد کریں گے۔ بس یہاں پر اتنا سمجھ لیناکافی ہوگا کہ امامت سے ان کا مقصود یہ ہے کہ ان کابڑا معصوم ہو۔ اور ان کے دین و دنیا کے مسائل میں لطف و مہربانی[نرمی] ہو۔ اس لیے یہ ایک ایسے مجہول و معدوم کے لیے حیلے گھڑتے ہیں نہ جس کی ذات کا کوئی اتا پتا ہے ‘اورنہ ہی جس کاکوئی نام و نشان دیکھنے میں آیا ہے؛ نہ ہی اس کی کوئی خبر سنی گئی ہے ‘اورنہ ہی کوئی حس محسوس ہوئی ہے۔ تو اس بنا پر انہیں مقصود امامت میں سے کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔اور اگر کوئی ایسا نفع بخش امام بنالیاجائے جس سے بعض دنیاوی اور دینی مصلحتیں حاصل ہوجائیں ؛ وہ اس امام سے بہت بہتر اور بڑھ کر ہے جس سے امامت کی کوئی مصلحت حاصل نہ ہو۔ 

اسی لیے آپ امامیہ فرقہ کے لوگوں کو دیکھیں گے کہ وہ امامت کی مصلحتیں فوت ہوجانے کے سبب اپنے مقاصد کی بار آوری کے لیے کبھی کسی کافر کی اطاعت اختیار کرتے ہیں او رکبھی کسی ظالم کی۔ حالانکہ دوسری طرف وہ لوگوں کو امام معصوم کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے ہیں ؛ او رخود کفار اور ظالمین کی اطاعت اختیار کرتے ہیں ۔پس کیاان لوگوں سے بڑھ کر کوئی مقصود امامت اور خیرو کرامت سے دور ہوسکتا ہے جو اس مسلک ندامت پر چلنے والے ہوں ؟

اجمالی طور پر اللہ تعالیٰ نے بعض دینی اور دنیاوی مسائل کو حکمرانوں کے ساتھ معلق کردیا ہے؛ خواہ امامت اہم ترین امور میں سے ہو یا نہ ہو۔ جب کہ رافضی ان مصلحتوں کے حصول سے بہت دور ہیں ۔ ان سے ان کے قول کے مطابق بہت سے اہم ترین مطالب اور مسلمانوں کے اشرف ترین مسائل فوت ہوئے ہیں ۔

[شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ایک شیعہ کا مناظرہ]:

بعض اکابر فضلاء شیعہ نے مجھ سے تنہائی میں ملاقات کی اور دینی مسائل پر گفتگو کا تقاضا کیا۔میں نے شیعہ کے نظریات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہاکہ: اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو نیک کاموں کا حکم دیا اور منہیات سے روکا، لہٰذا ضروری تھا کہ وہ بندوں پر مہربان ہوتا؛ جس کی وجہ سے لوگ فعل واجب اور ترک قبیح کے قریب تر ہوتے۔اس لیے کہ جو کوئی کسی شخص کو کھانے کی دعوت دے ‘ اگر اس کی مراد کھانا کھلانا ہو تو وہ اسباب برؤئے کار لائے گا جو کھانے کے لیے ضروری ہیں ۔جیسے خندہ جبین سے استقبال کرنا ‘مناسب جگہ پر بٹھانا ؛ اور اس طرح کے دیگر امور ۔ اگر اس کا مقصود کھانا کھلانا نہ ہو تو اس کے چہرہ پر سلوٹیں پڑ جائیں گی ‘ اور وہ دروازہ بند کردے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔

انہوں نے یہ باتیں معتزلہ سے لی ہیں ۔ ان کے پرانے شیوخ کے اصولوں میں یہ باتیں شامل نہیں ہیں ۔

پھر کہا: ’’ امام بھی لوگوں پر عنایت الٰہی کی ایک علامت ہے۔ اس لیے کہ امام و اجبات کا حکم دے گا اور برے اعمال سے روکے گا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ شرعی اوامرو اعمال کی اطاعت کریں گئے۔ لہٰذا امام کا وجود از بس ناگزیر ہے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ وہ امام معصوم ہوتا کہ مقصد حاصل ہو سکے۔ ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد معصوم صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے[کسی اور کے لیے یہ دعوی نہیں کیا گیا]۔ لہٰذا آپ کا امام ہونا متعین ہوا اس پر اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سوا اور کوئی معصوم نہیں ۔[اور اس باب میں بڑی تفصیلی گفتگو کی]۔پھر کہتے ہیں : حضرت علی نے حسن رضی اللہ عنہ کو معصوم قرار دیا، حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو یہاں تک کہ نوبت امام منتظر محمد بن حسن صاحب غار تک پہنچی۔ شیعہ نے تقریر سن کر اعتراف کیا کہ ان کے مذہب کے بیان کے مطابق یہ بڑی اچھی تقریر ہے۔

[شیخ الاسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں ] : جب میں نے شیعہ[شیخ الاسلام نے شیعہ کے طرز استدلال کو اس لیے واضح کیا تاکہ اسے مناظرہ کی اساس قرار دیا جا سکے، یہ غلط ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے امام حسن رضی اللہ عنہ کے معصوم ہونے کی صراحت کر دی تھی۔ امام احمد اپنی مسند میں عبداﷲ بن سمع سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا وہ اپنی شہادت کا ذکر کر رہے تھے لوگوں نے کہا: ’’ہم پر خلیفہ مقرر کر دیجئے ‘‘ فرمایا :نہیں ، میں تمہیں اسی طرح چھوڑ جاؤں گا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں چھوڑا تھا، لوگوں نے کہا آپ اﷲ کے دربار میں حاضر ہو کر اسے کیا جواب دیں گے؟ فرمایا میں عرض کروں گا کہ بار خدایا تو نے جب تک چاہا مجھے زندہ رکھا پھر فوت کر لیا اور تو ان میں موجود تھا اگر تو چاہتا تو ان کی اصلاح کرتا اور اگر چاہتا بگاڑ دیتا۔‘‘مسند احمد(۱؍۱۳۰) طبقات ابن سعد(۳؍۲۴) مجمع الزوائد(۹؍۱۳۷) امام احمد نے اسی قسم کی روایت بطریق اسود بن عامر نقل کی ہے، دونوں روایات کی سند صحیح ہے، (العواصم من القواصم: ۱۹۹)]کے طرز استدلال کو بیان کیا اور شیعہ نے اسے سراہا تو میں نے اس سے مخاطب ہو کر کہا: میں اور آپ علم و حق اور ہدایت کے طالب ہیں ۔ شیعہ کا قول ہے کہ جو امام منتظر پر ایمان نہیں رکھتا وہ کافر ہے۔ بتائیے ! کیا آپ نے کبھی اسے دیکھا یا ایسے شخص کو دیکھا جس نے امام کو دیکھا ہو؟ یا اس کی کوئی خبر سنی یا اس کی گفتگو کا کچھ علم ہوا؟ یا جس چیز کا اس نے حکم دیا ہے‘ اور جس چیز سے منع کیا ہے وہ اس سے ایسے ہی ماخوذ ہے جیسے دوسرے ائمہ کا کلام ان سے ماخوذ ہے؟ شیعہ نے کہا: ’’ نہیں ۔‘‘

میں نے کہا :’’پھر ایسے ایمان کا کیا فائدہ اور اس کے ذریعہ ہم پر اللہ کی کون سی مہربانی ہوئی؟ مزید برآں اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے شخص کی اطاعت کا مکلف کیوں کر کرتا ہے جس کے امرو نہی سے ہم ناواقف ہیں ، اور اس کی پہچان کا کوئی طریقہ ممکن نہیں ۔ حالانکہ شیعہ تکلیف مالا یطاق کا شدید انکار کرتے ہیں ، کیا اس سے زیادہ تکلیف مالا یطاق بھی کوئی ہو سکتی ہے؟

صفحہ 9 از 17