Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

آیئے اب عبرت کی نگاہوں سے فتح مدائن کا مطالعہ کریں

  علی محمد الصلابی

 اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ تائید و مدد الہٰی

انس بن حلیس سے روایت ہے کہ جب ہم ’’بہرسیر‘‘ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے تو فارسی حکومت کا ایک ایلچی ہمارے پاس آیا اور کہا کہ شاہ فارس کا کہنا ہے کہ کیا آپ لوگ اس شرط پر ہم سے مصالحت کے لیے راضی ہیں کہ دریائے دجلہ کے اس پار (یعنی مشرق میں) جو علاقے ہیں وہ ہم لے لیں اور اس پار (یعنی مغرب میں جہاں مسلم فوج تھی) جو علاقے ہیں بشمول پہاڑ وغیرہ وہ آپ لوگ لے لو؟ کیا اتنے سارے علاقوں پر قبضہ ہونے کے بعد بھی ابھی تم آسودہ نہیں ہو؟ ایلچی کی بات سن کر ابو مفزز اسود بن قطبہ لوگوں کو پیچھے کرتے ہوئے آگے بڑھے اور جلال میں کیا کچھ کہہ گئے انہیں یاد نہ رہا اور ہم لوگ بھی یاد نہ کر سکے۔ ایلچی واپس لوٹ گیا، پھر ہم نے دیکھا کہ جلد ہی فارسی (اس کا حکمران طبقہ و عوام) لوگ (مشرقی) مدائن کی طرف کوچ کر رہے ہیں، ہم نے پوچھا: اے ابو مفزز تم نے اس سے کیا کہا تھا۔ ابو مفزز نے کہا: اللہ کی قسم! جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا مجھے نہیں معلوم کہ میں نے کیا کہا تھا۔ تاہم مجھے کافی اطمینان ہے اور امید ہے کہ جو کچھ کہا ہو گا وہ خیر ہو گا۔ پھر لوگ باری باری ابو مفزز سے پوچھنے آتے، جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے یہ خبر سنی تو وہ بھی ہمارے پاس آئے اور کہا: اے ابومفزز! تم نے اس (ایلچی) سے کیا کہا تھا؟ آپؓ نے کہا: اللہ کی قسم! وہ سب بھگوڑے ہیں اور حضرت سعدؓ سے بھی وہی کہا جو ہم سے کہا تھا۔ اس کے بعد حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ندا لگوائی، سب اکٹھے ہوئے اور متحد ہو کر فارسیوں پر حملہ کیا اور ہماری منجنیقیں ان پر پتھروں کی بارش کر رہی تھیں۔ شہر میں کوئی متنفس نظر نہ آیا اور نہ کوئی مزاحم ہوا، صرف ایک آدمی ملا اس نے امان طلب کیا اور ہم نے اسے امان دے دی، اس نے کہا: اگر کوئی بچ رہا ہو تو اسے بھی گرفتار کرنے سے کیا مانع ہے؟ وہ کہنا چاہتا تھا کہ اب کوئی نہیں بچا۔ پھر جواں ہمت مجاہدین قلعہ کی طرف بڑھے اور ہم نے اس کا صدر دروازہ کھول دیا، ہمیں وہاں نہ کوئی سامان ملا اورنہ کوئی آدمی، صرف چند قیدی نکلتے ہوئے ملے۔ ہم نے ان قیدیوں سے اور جس کو امان دی تھی، اس سے پوچھا: حکومت فارس کے ارکان کیوں بھاگ گئے؟ تو انہوں نے بتایا کہ بادشاہ نے مصالحت کی خاطر تم لوگوں کے پاس اپنا ایلچی بھیجا تھا، لیکن جب تم لوگوں نے اسے جواب دیا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اب کوئی صلح ممکن نہیں اور کوثی (کوثی ایک بستی کا نام ہے، وہاں کی ترنجبین اعلیٰ درجہ کی مانی جاتی تھی۔ مترجم) کی ترنجبین (نارنگی) کے ساتھ افریذین کا شہد کھا کر ہی واپس جائیں گے، تو بادشاہ نے کہا: ہائے بربادی! اب میں سمجھتا ہوں کہ ان کی زبانوں سے گویا فرشتے بول رہے ہیں، وہ ہم پر حملہ کریں گے اور عربوں کی طرف سے جواب دیں گے۔ اللہ کی قسم! اگر ایسی بات نہیں ہے تو اس آدمی کی زبان پر الہٰی القا ہوا ہے تاکہ ہم اپنے اگلے اقدام سے پلٹ جائیں، اس لیے چلو مدائن کے مدینہ قصویٰ (دور والے شہر) شہر میں بھاگ چلو۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 455)