مظلم ساباط میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی تشریف آوری اور آیت قرآنی کی تلاوت
علی محمد الصلابیمدائن کے مغربی علاقہ ’’بہر سیر‘‘ میں حضرت ہاشم رضی اللہ عنہ جب اپنی فوج کے ساتھ پہنچ گئے تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بھی ساباط میں اترے اور وہاں پہنچتے ہی یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:
وَاَنۡذِرِ النَّاسَ يَوۡمَ يَاۡتِيۡهِمُ الۡعَذَابُ فَيَـقُوۡلُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا رَبَّنَاۤ اَخِّرۡنَاۤ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ نُّجِبۡ دَعۡوَتَكَ وَنَـتَّبِعِ الرُّسُلَ اَوَلَمۡ تَكُوۡنُوۡۤااَقۡسَمۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ مَالَـكُمۡ مِّنۡ زَوَالٍ۞(سورۃ ابراهيم آیت 44)
ترجمہ: اور (اے پیغمبر) تم لوگوں کو اس دن سے خبردار کرو جب عذاب ان پر آن پڑے گا، تو اس وقت یہ ظالم کہیں گے کہ: اے ہمارے پروردگار! ہمیں تھوڑی سی مدت کے لیے اور مہلت دے دیجیے تاکہ ہم آپ کی دعوت قبول کر لیں، اور پیغمبروں کی پیرویں کریں۔ (اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ) ارے کیا تم لوگوں نے قسمیں کھا کھا کر پہلے یہ نہیں کہا تھا کہ تم پر کوئی زوال نہیں آسکتا؟
حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جگہ کی مناسبت سے اس آیت کی تلاوت کی تھی، دراصل وہاں پوران کسریٰ کے کچھ مخصوص فوجی دستے تھے جنہیں بوران کہا جاتا تھا، جو روزانہ قسمیں کھا کھا کر شاہ ایران کو یقین دلاتے تھے کہ جب تک ہم زندہ ہیں شاہ فارس کا زوال نہیں ہو سکتا۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 451، التاریخ الإسلامی: جلد 11 صفحہ 160)
زہرہ بن حویہؓ نے اپنی شہادت سے قبل ان تمام دستوں کو شکست دے کر انہیں تتر بتر کر دیا۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 11 صفحہ 160)
رات کی شدید تاریکی میں جب مسلمانوں کے قدم بہرسیر میں داخل ہو رہے تھے تو انہیں سفید موتی کی طرح چمک دار عمارت نظر آئی، یہ شاہان کسریٰ کا محل تھا، اسے دیکھ کر ضرار بن خطاب بول اٹھے: اللہ اکبر! کسریٰ کا اتنا سفید اور چمک دار محل، اللہ نے اور اس کے رسول نے ہم سے اسی کا وعدہ کیا تھا اور پھر یکے بعد دیگرے صبح تک تکبیر کی صدائیں بلند ہوتی رہیں۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 451)