مسئلہ امامت میں مختلف مذاہب - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسئلہ امامت میں مختلف مذاہب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

فصل اوّل:

مسئلہ امامت میں مختلف مذاہب 

شیعہ مصنف ابن المطہر مسئلہ امامت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے:

’’پہلی فصل:.... مسئلہ امامت میں لوگوں کے مذاہب ۔

’’امامیہ کا زاویہ نگاہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عادل و حکیم ہیں [ظالم نہیں ]۔ وہ افعال قبیحہ کا ارتکاب نہیں کرتااور نہ ہی واجب میں خلل ڈالتا ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے افعال بنا بر حکمت صحیح غرض کے لیے واقع ہوتے ہیں ۔اوروہ ظلم نہیں کرتا۔اورنہ ہی کوئی بیکار کام کرتا ہے۔ وہ بندوں پر بڑا مہربان ہے اور وہی کام کرتا ہے جو ان کے لیے سود مند اور بہتر ہو ۔اور اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو بغیر سختی کے اختیار دیاہے۔اور اپنے انبیاء کرام و معصوم رسولوں کی زبانی انہیں ثواب دینے کا وعدہ کیا ہے اور عذاب سے انہیں ڈرایا ہے۔ ان انبیاء کرام علیہم السلام سے خطاء یا بھول یا گناہ کا سرزد ہونا جائز نہیں ۔ورنہ ان کے اقوال و افعال کا اعتبار نہ رہتا؛ اور ان کی بعثت کا فائدہ حاصل نہ ہوتا۔ ‘‘

سلسلہ تحریر کو جاری رکھتے ہوئے لکھتا ہے:

’’سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد امامت کا سلسلہ جاری کیا اور معصوم اولیاء مقرر کیے تاکہ لوگ غلطی ؛سہو و خطا سے مامون رہیں ۔ اوران اماموں کی اطاعت کرتے رہیں تاکہ یہ عالم ارضی لطف و عنایت ربانی سے خالی نہ رہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے سرفراز فرمایا تو آپ رسالت کی ذمہ داریوں کو نبھاتے رہے۔ اور اس امر کی تصریح کر دی کہ آپ کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوں گے۔ پھر حسب ذیل خلفاء علی الترتیب ظہور پذیر ہوں گے:

۱۔حسن بن علی ۲۔حسین بن علی ۳۔علی بن حسین

۴۔محمد (باقر) ۵۔جعفر (صادق) ۶۔موسیٰ بن جعفر

۷۔علی بن موسیٰ ۸۔محمد بن علی جواد ۹۔علی بن محمد ھادی

۱۰۔حسن بن علی عسکری ۱۱۔محمد بن حسن ۔

سالار انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم امامت کی وصیت کرنے کے بعد فوت ہوئے۔‘‘

بخلاف ازیں اہل سنت ان جملہ امور کے قائل نہیں ۔وہ اللہ کے لیے عدل و حکمت کا اثبات نہیں کرتے۔ ان کی رائے میں اللہ تعالیٰ افعال قبیحہ اور اخلال بالواجب کا مرتکب ہو سکتا ہے۔ اہل سنت کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے افعال معلل بالاغراض نہیں ، بلکہ حکمت و مصلحت سے یکسر خالی ہیں ۔ بقول ان کے اللہ تعالیٰ ظلم و عبث کا مرتکب ہوتا ہے، اور وہ کام نہیں کرتا جو بندوں کے لیے زیادہ مناسب ہوں ؛ بلکہ ایسے کام کرتا ہے جو حقیقت میں فساد ہیں ؛ اس لیے کہ وہ گناہ کے کام ہیں ۔ اورکفر و ظلم کی انواع و اقسام اور معاصی و کفریات بھی انجام دیتا ہے۔ کرۂ ارضی پر جس قدر فسادات رونما ہوتے ہیں وہ سب اس کی طرف منسوب ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان چیزوں سے بہت بلند ہے۔

بقول اہل سنت اطاعت کنندہ ثواب کا مستحق نہیں اور عاصی عذاب کا استحقاق نہیں رکھتا۔بلکہ بعض اوقات ساری عمر اس کی اطاعت کرنے والوں اور اس کے احکام بجالانے والوں کو بھی عذاب میں مبتلا کرتاہے؛ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اورساری زندگی ہر قسم کی نافرمانی کرنے والوں کو ثواب و جزاء دیتا ہے؛جیسے ابلیس و فرعون کو۔ انبیاء علیہم السلام معصوم نہیں بلکہ ان سے خطا اور فسق و کذب کا صدور ممکن ہے۔

اور بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے لیے امامت کی وصیت نہیں کی بلکہ بلاوصیت فوت ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بقول اہل سنت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ اول ہوئے۔ کیونکہ عمر رضی اللہ عنہ اور چار دیگر صحابہ یعنی ابو عبیدہ، سالم مولیٰ ابی حذیفہ، اسید بن حضیر اور بشیر بن سعد نے آپ کی بیعت کر لی تھی۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ ثانی مقرر کیا۔ بعد ازاں عمر رضی اللہ عنہ نے چھ اشخاص کو خلافت کیلئے منتخب کیا ان میں سے بعض نے عثمان رضی اللہ عنہ کو خلافت کے لیے چن لیا۔پھر لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی اور آپ خلیفہ قرار پائے۔[اس سے معلوم ہوا کہ کسی نے آپ کو خلیفہ مقرر نہیں کیا تھا،حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چھٹے روزحضرت علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ’’ لوگو! میں تمہاری اجازت سے یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ یہ (امامت و خلافت) تمہارا ذاتی معاملہ ہے اس میں کسی کو مداخلت کا حق حاصل نہیں بجز اس کے کہ تم کسی کو امیر مقرر کر دو، قبل ازیں اس ضمن میں ہمارے مابین اختلاف رونما ہو چکا ہے، اگر تمہیں (میرا خلیفہ ہونا) پسند ہے تو میں (مسند خلافت پر) بیٹھ جاؤں گا، ورنہ میں کسی پر اظہار ناراضگی نہیں کرتا، اس واقعہ کی تفصیلات تاریخ طبری (۵؍ ۱۵۶، ۱۵۷) پر ملاحظہ فرمائیے،حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد : ’’ کہ کسی کو مداخلت کا حق نہیں ۔‘‘ اس پوری عمارت کو منہدم کر دیتا ہے، جو شیعہ نے ۱۳ صدیوں سے آج تک تعمیر کر رکھی ہے، دیکھئے (العواصم من القواصم: ۱۴۲،۱۴۳)] اس کے بعد اہل سنت کے یہاں اختلاف پایا جاتا ہے، بعض حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی امامت کے قائل ہیں اور بعض معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ تسلیم کرتے ہیں ، اہل سنت کے نزدیک خلیفہ سفاح عباسی کے ظہور تک خلافت بنو امیہ میں ہی رہی۔پھر اس کے بعد خلافت اس کے بھائی منصور کے پاس چلی گئی۔ اور پھر اس کے بعد مستعصم تک خلافت کو بنی عباس میں تسلیم کرتے ہیں ۔ ‘‘[انتہی کلام الرافضی]

شیعہ مصنف کے اشکالات کا جواب:

شیعہ مصنف نے اہل سنت اور شیعہ کے جو افکار و معتقدات بیان کیے ہیں وہ تحریف و کذب سے خالی نہیں ، چنانچہ ہم اس پر روشی ڈالتے ہیں ۔

صفحہ 1 از 3