مسئلہ امامت میں مختلف مذاہب - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسئلہ امامت میں مختلف مذاہب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

پہلی بات یہ ہے کہ اہل سنت اور شیعہ کے عقاید بیان کرتے ہوئے انکار تقدیر اور عدل کا ذکر بے سود ہے۔ اس لیے کہ فریقین [شیعہ اور اہل سنت ]کے بعض گروہ ان دونوں کے قائل ہیں ۔ مثلاً شیعہ کے بعض فرقے قدر کو تسلیم کرتے اور عدل وجور کا انکار کرتے ہیں ۔حضرات ابو بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کی خلافت کے قائلین میں سے بعض لوگ مثلاً معتزلہ عدل و جور کے قائل ہیں ۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اس عقیدہ کی اصل بنیاد معتزلہ کے مذہب سے چلی ہے۔ چنانچہ اکابر شیعہ مثلاً شیخ مفید، موسوی، طوسی اور کراجکی نے یہ عقیدہ معتزلہ سے اخذ کیاہے۔، قدیم شیعہ اس کے قائل نہ تھے۔ اس سے واضح ہوا کہ مسائل امامت بیان کرتے ہوئے تقدیر کا ذکر و بیان قطعی طور سے غیر متعلق ہے۔بلکہ بسااوقات مسئلہ امامت میں ایسے لوگ بھی ان کا ساتھ دیتے ہیں ؛ جو مسائل قدر میں ان سے اختلاف کرتے ہیں ۔ اور بسا اوقات مسائل قدر میں ہم آہنگ لوگ مسائل امامت میں اختلاف کرتے ہیں ۔ان مسائل کا مسئلہ امامت میں ذکر کرنا دیگر ان تمام مسائل کی طرح ہے جس میں کچھ مسلمان گروہوں نے ان کی مخالفت کی ہے [اور کچھ نے موافقت ]۔جیسا کہ فتنہ قبر؛ منکر نکیر ؛ حوض ؛ میزان ؛ شفاعت؛ اور اہل کبائر کا جہنم سے نکالاجانا؛ اور اس طرح کے دیگر وہ مسائل جن کا امامت سے کوئی تعلق ہی نہیں ۔بلکہ یہ بذات خود مستقل علیحدہ ایسے مسائل ہیں جس طرح کے کئی ایک دیگر علمی مسائل ہوتے ہیں ۔جیسے وہ اختلاف جن کے بارے میں موسوی اور دیگر مشائخ امامیہ نے کتابیں لکھی ہیں ۔اس سے واضح ہوا کا مسئلہ امامت میں ان مسائل کو داخل کرنا یا تو جہالت کا کرشمہ ہے ‘ یا پھر جان بوجھ کر اس جہالت کا مظاہرہ کیا گیا ہے ۔

دوسری بات : ان سے کہا جائے گا کہ جو کچھ اس نے امامیہ سے نقل کیا ہے ‘ وہ درست طور پر نقل نہیں کیا [بلکہ اس میں ڈنڈی ماری ہے ]اس لیے کہ امامیہ کے وہ اقوال جو اس نے نقل کیے ہیں ‘یہ تو حقیقت میں معتزلہ کے اقوال و عقائد ہیں جن میں متاخرین شیعہ نے ان کی موافقت کی ہے۔

شیعہ کے عقائد:

نیز امامیہ سے جو بیان نقل کیا ہے، وہ بھی تشنہ تکمیل ہے ان کے افکار و عقائد کا خلاصہ حسب ذیل ہے:شیعہ کہتے ہیں :

۱۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء‘ملائکہ اور حیوانات اور دیگر اشیاء کے افعال کو پیدا نہیں کیا بلکہ حوادث اس کی خلق و قدرت کے بغیر رونما ہوتے رہتے ہیں ۔

۲۔ اللہ تعالیٰ کسی گمراہ کو راہ راست پر نہیں لا سکتا اور نہ ہی ہدایت یافتہ کو گمراہ کرنے پر قادر ہے۔

۳۔ کوئی انسان ہدایت ربانی کا محتاج نہیں ،[ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز و اشگاف الفاظ میں بیان کر دی ہے، اس سے ہدایت یاب ہونا بندے کا اپنا کام ہے، اللہ کی مدد سے ہدایت نصیب نہیں ہوتی]۔

۴۔ ہدایت ربانی مومن و کافر سب کیلئے یکساں ہے۔اللہ تعالیٰ نے جس طرح مومنین کو دین کی نعمت سے بہرہ ور کیا ہے اسی طرح کفار کو بھی اس نعمت سے محروم نہیں کیا۔ جس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہدایت یافتہ بنایا اسی طرح ابو جہل کو بھی ہدایت سے نوازا۔یوں سمجھئے کہ ایک والد دو بیٹوں کو یکساں رقم دیتا ہے، ایک اسے اطاعت الٰہی میں صرف کرتا ہے اور دوسرا معصیت میں ۔ ان دونوں میں سے کسی ایک پر بھی باپ کی طرف سے انعام کے ہونے میں کوئی فرق نہیں ۔

۵۔ مشیت ایزدی ایسے امور میں متعلق ہوتی ہے، جو ظہور پذیر نہیں ہوتے اور بعض امور اس کی مشیت کے بغیر وجود میں آتے ہیں ۔اگر یہ کہا جائے کہ ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض ایسے لوگوں کو خاص کردیتا ہے جن کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ اگر انہیں اپنی مہربانی کے لیے خاص کیا تو وہ اس وجہ سے مزید ہدایت پائیں گے۔ ورنہ نہیں ۔

جواب: ان سے کہا جائے گا کہ : ’’ حقیقت میں یہ اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے جو تقدیر کو ثابت کرتے ہیں ۔ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں :’’ ہر وہ انسان جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت کے لیے خاص کردیا ہو ‘ وہ ہدایت پاکر رہے گا۔اور جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کیساتھ خاص نہیں کیا‘ وہ ہدایت نہیں پاسکتا۔تخصیص اور ہدایت اہل سنت والجماعت کے نزدیک آپس میں متلازم ہیں ۔‘‘ اگر یہ کہا جائے: بلکہ کبھی اللہ تعالیٰ کسی کو ایسے امور کے لیے خاص کرتا ہے جس سے ہدایت یافتہ ہونا واجب ہوتا ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰہُ فِیْہِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَہُمْ وَ لَوْ اَسْمَعَہُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ ہُمْ مُّعْرِضُوْنَ

[الانفال۲۳]

’’ اور اگر اللہ ان میں کوئی بھلائی جانتا تو انھیں ضرور سنوا دیتا اور اگر وہ انھیں سنوا دیتا تو بھی وہ منہ پھیر جاتے، اس حال میں کہ وہ بے رخی کرنے والے ہوتے۔‘‘

ان سے کہا جائے گا : ’’ یہ تخصیص حق ہے ۔مگر یہ دعوی کرنا کہ اس کے علاوہ کوئی اور تخصیص نہیں ہے ‘ غلط ہے؛ بلکہ ہر وہ چیز جو ہدایت پانے کے لیے لازمی ہے ؛ وہ ہدایت ہے ۔

اجمالی طور پر وہ[شیعہ ] ذات الٰہی کے لیے مشیت عامہ و قدرت تامہ کا اثبات نہیں کرتے، شیعہ کی رائے میں اللہ تعالیٰ کی صفت خلق جملہ حوادث کو شامل نہیں ، بعینہ معتزلہ بھی یہی کہتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اس میں شیعہ کے دو قول ہیں ۔

[امامت اور لطف ربانی ؟]

تیسری بات : باقی رہا شیعہ کا یہ عقیدہ کہ: ’’ اللہ تعالیٰ نے ائمہ معصومین کو اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ یہ عالم ارضی اس کی عنایات سے خالی نہ رہے۔‘‘

صفحہ 2 از 3