مسئلہ امامت میں مختلف مذاہب - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسئلہ امامت میں مختلف مذاہب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

جواب : اگراس عقیدہ سے کہ: ’’ اللہ تعالیٰ نے ائمہ معصومین کو اس لیے پیدا کیا ہے ‘‘ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں قوت اور قدرت دی ہے کہ وہ لوگوں کے سیاسی امور نبھائیں تاکہ ان کی سیاست سے لوگوں کو فائدہ حاصل ہو۔ یہ ایک کھلا ہوا جھوٹ ہے۔اس لیے کہ شیعہ اس بات کا عقیدہ نہیں رکھتے۔بلکہ بقول شیعہ ائمہ معصومین مجبور و مظلوم اور حد درجہ بے بس ہیں ۔ انہیں کوئی قدرت و اختیار حاصل نہیں ۔شیعہ اس بات کے معترف ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ائمہ معصومین کو ( تصرفات و اختیارات) کا مالک نہیں بنایا،اور نہ ہی انہیں حکومت سے نوازا۔ان ائمہ کو کوئی ایسی حکومت و ولایت بھی حاصل نہیں تھی جیسے ان کے دوسرے مؤمن بھائیوں کو حاصل ہوئی تھی۔ اور نہ ہی کفار و فجار جیسی حکومت و سلطنت ملی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء میں سے کئی ایک کو حکومت سے نوازا تھا۔ جیسا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں فرمان الٰہی ہے: 

﴿ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ عَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآئُ﴾ [البقرۃ ۲۵۱]

’’ اور داؤد نے جالوت کو قتل کیا ‘ اور اللہ تعالیٰ نے اسے ملک اور حکمت سے نوازا ‘ اور جس چیز کے متعلق چاہا تعلیم دی ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کافرمان ہے :

﴿اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ فَقَدْ اٰتَیْنَآ اٰلَ اِبْرٰہِیْمَ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ اٰتَیْنٰہُمْ مُّلْکًا عَظِیْمًا﴾ (النساء:۵۴)

’’یا وہ لوگوں سے اس پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انھیں اپنے فضل سے دیا ہے، تو ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور ہم نے انھیں بہت بڑی سلطنت عطا فرمائی۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وقال الملِکُ ائتونِی بِہِ﴾ [یوسف 54]

’’ بادشاہ نے کہا : اسے میرے پاس لے آؤ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَ کَانَ وَرَآئَ ہُمْ مَّلِکٌ یَّاْخُذُ کُلَّ سَفِیْنَۃٍ غَصْبًا﴾ (الکہف ۷۹)

’’ اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی چھین کر لے لیتا تھا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰھٖمَ فِیْ رَبِّہٖٓ اَنْ اٰتٰہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ ﴾ [البقرۃ ۲۵۸]

’’کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا، اس لیے کہ اللہ نے اسے حکومت دی تھی۔‘‘

تو اللہ تعالیٰ نے بعض کفار کو بھی بادشاہی نصیب کی تھی جیسا کہ بعض انبیائے کرام علیہم السلام کو اس نعمت سے نوازا گیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد ان ائمہ میں سے کسی ایک کو اللہ تعالیٰ نے حکومت نہ ایسے عطا کی تھی جیسے انبیاء کرام علیہم السلام اوردوسرے نیک لوگوں کو دی تھی۔اور نہ ہی ایسے عطا فرمائی جیسے دوسرے بادشاہوں کو عطا کی تھی۔تو پھر یہ قول باطل ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان ائمہ کو اس لیے مقرر فرمایا تھا کہ یہ لوگوں کے سیاسی امور کو نبھائیں ۔

اگریہ کہا جائے کہ:’’ تقرر ائمہ کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں پر ان کی اطاعت ضروری قرار دی جائے۔ جو ان کا اطاعت شعار ہوتا ہے وہ اسے ہدایت سے بہرہ اندوز کرتے ہیں ‘مگر لوگ ان کی نافرمانی کرتے تھے۔‘‘

اس کے جواب میں کہا جائے گاکہ :’’تو پھر اس سے عالم ارضی میں کوئی عنایت اور رحمت حاصل نہیں ہوئی؛ بلکہ الٹاان کی معصیت اور تکذیب حاصل ہوئی ہے‘‘۔

باقی رہا امام منتظرکا مسئلہ ! تو اس امام پر ایمان رکھنے والے بھی اس سے کوئی نفع اندوز نہیں ہوئے اور نہ ہی انہیں کوئی لطف و مہربانی حاصل ہوئی۔حالانکہ وہ اس سے محبت ودوستی رکھتے ہیں ۔تو معلوم ہوا کہ اس عقیدہ سے نہ ہی کوئی لطف و مہربانی حاصل ہوئی اور نہ ہی کوئی فائدہ ؛ نہ اس امام کے ماننے والے کے لیے اور نہ انکار کرنے والے کے لیے۔‘‘

اس سے ان کے عقیدہ کا بطلان ثابت ہوگیاکہ کائنات میں لطف و مہربانی اور رحمت امام معصوم کی وجہ سے حاصل ہوتے ہیں ۔اور یہ بات ضرورت کے تحت معلوم ہے کہ اس امام کی وجہ سے کائنات میں کوئی لطف و مہربانی حاصل نہ ہوسکی ؛ نہ ہی اس امام پر ایمان رکھنے والوں کو کچھ ملا اور نہ ہی اس کا انکار کرنے والوں کا کوئی نقصان ہوا۔ بخلاف اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول کے ؛ کہ جب کوئی قوم کسی رسول کو جھٹلاتی ہے[توانہیں نقصان ہوتا ہے] ۔ بیشک رسولوں سے ان لوگوں کو فائدہ حاصل ہوتا ہے جو ان پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی اطاعت کرتے ہیں ۔ تواس لحاظ سے نبی کاوجوداس پر ایمان لانے والوں اور اطاعت گزاروں کے حق میں رحمت ہوا کرتا تھا۔ جب کہ نافرمان حد سے گزرا ہوا سرکش ہوتا ہے[اسے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ]۔

جب کہ اس امام سے نہ ہی کسی مؤمن کو کوئی فائدہ حاصل ہوا اورنہ ہی کسی کافر کو۔

جہاں تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ باقی [بارہ ائمہ]ائمہ اثنا عشر کا تعلق ہے ان سے لوگ اسی طرح مستفید ہوتے رہے جیسے ان جیسے دیگر علماء و فضلاء کی تعلیم و علم ‘بیان حدیث؛ اور افتاء سے ۔البتہ اولی الامر ذوسلطان سے جو منفعت مطلوب ہوتی ہے وہ ان ائمہ میں سے کسی ایک سے بھی حاصل نہ ہو سکی۔ اس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ابن المطہر نے جس عنایت ربانی کا ذکر کیا ہے، وہ دجل و فریب کی کرشمہ سازی ہے اور بس۔


صفحہ 3 از 3