Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دریائے دجلہ عبور کرنے سے متعلق حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور ان کی فوج کا باہمی مشورہ

  علی محمد الصلابی

جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ کسریٰ شاہ فارس دریائے دجلہ کی تمام کشتیوں کو اپنے قبضہ میں لے کر مدائن کے دور دراز مشرقی علاقہ میں چلا گیا ہے تو آپ کو پریشانی لاحق ہوئی کہ دشمن دریا کے اس پار ہے اور عبور کرنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی، کیونکہ کشتیاں نہیں ہیں۔ لہٰذا اب کیا کیا جائے؟ آپؓ اس بات کا خطرہ محسوس کر رہے تھے کہ اگر دشمن بھاگ جائیں تو پھر ان کا خاتمہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ابھی حضرت سعدؓ فکر مند تھے کہ فارس کے چند باشندے جو مسلمانوں کی اطاعت قبول کر چکے تھے انہوں نے آپؓ کو ایک راستہ بتایا جہاں سے خطرات کے سائے میں دریا عبور کرنا ممکن تھا، لیکن آپ نے اسے ماننے سے انکار کر دیا اور ابھی تردد میں تھے کہ دریائے دجلہ میں طوفانی لہریں اٹھیں اس کا پانی سیاہ نظر آنے لگا اور موجوں کے تھپیڑوں سے جھاگ کی کثرت ہوگئی، یہ منظر دیکھ کر مسلم فوج سخت مشکل میں پڑ گئی۔ اسی دوران حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو اونگھ آگئی اور آپؓ نے ایک عمدہ خواب دیکھا کہ مسلمانوں کے گھوڑوں نے دریائے دجلہ عبور کر لیا ہے۔ چنانچہ حضرت سعدؓ نے خواب کی تعبیر میں دریا عبور کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا، لوگوں کو اکٹھا کیا، اللہ کی حمدوثنا بیان کی اور فرمایا: اے لوگو! تمہارے دشمن نے اس دریا کی آڑ میں تم سے پناہ لے رکھی ہے۔ موجودہ صورت حال میں تم ان سے چھٹکارا نہیں پا سکتے، حالانکہ وہ جب چاہیں تم سے بچ کر نکل سکتے ہیں اور اپنی کشتیوں میں بیٹھے بٹھائے تم سے جھڑپیں کر سکتے ہیں۔ تمہیں اپنے پیچھے سے دشمن کے کسی حملے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ تمہارے سابقہ مجاہدین نے پشت پر واقع دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا ہے، ان کی سرحدوں کی لکیریں کھینچ دی ہیں اور خود کو اس کام کے لیے قربان کر گئے ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ دنیا کے چنگل میں پھنسنے سے پہلے خلوص نیت کے ساتھ اپنے دشمن پر حملہ کرنے میں جلدی کرنی چاہیے، سنو! دشمنوں تک پہنچنے کے لیے میں نے دریا عبور کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے۔ سب نے بیک زبان کہا: ہمارے اور آپؓ کے لیے اللہ نے بھلائی ہی کا فیصلہ کیا ہے، آپؓ قدم بڑھائیں۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 11 صفحہ 165)

آیئے ہم تھوڑی دیر یہیں پر ٹھہریں اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے اس خطبہ سے ثابت ہونے والے دروس، فوائد اور عبرت و موعظت کی باتوں کا مطالعہ کریں

 اللہ تعالیٰ اپنے حق پرست مومن بندوں کے ساتھ ہوتا ہے، ان کی نصرت و تائید کرتا ہے، جن حیران کن حالات میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے خواب دیکھا تھا وہ یقیناً اللہ کی نصرت و غیبی تائید تھی تاکہ ان کا دل ثابت رہے اور درپیش مسئلہ کی طرف جس کا انجام نامعلوم ہے پیش قدمی کرے۔

اللہ تعالیٰ نظام دنیا کو اپنے مومن بندوں کے موافق کر دیتا ہے۔ آپ دیکھیں کہ اچانک دریا کی طغیانی بڑھ گئی اور بظاہر ایسا لگا کہ اس سے دشمن (فارسی فوج) کا فائدہ ہو گا، کیونکہ مسلمانوں کو دریا عبور کرنے کی ساری کوششیں ناکام نظر آنے لگی تھیں، لیکن اس کے برعکس دریا کی طغیانی سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچا، طغیانی دیکھ کر کفار مطمئن ہو چکے تھے کہ بھلا ان حالات میں مسلمان کیونکر حملہ کر سکتے ہیں، اس لیے انہوں نے نہ کوئی دفاعی تیاری کی اور نہ سامان فرار کا انتظام کیا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نیک آدمی کے اچھے خواب سے بہتر فال لیتے تھے اور کسی عمل کی انجام دہی کے لیے اسے باعث ترجیح سمجھتے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ پر حسن ظن تھا، وہ لوگ عمدہ خوابوں کو اللہ کی طرف سے نصرت و تائید کی ایک علامت سمجھتے تھے۔

 خلفائے راشدینؓ کے عہد میں مسلمان قائدین عموماً پختہ رائے اور اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک تھے، مفید مواقع کو غنیمت سمجھتے تھے، ان کی افواج باوجودیکہ ایمانی غیرت و قوت سے مالا مال ہوتی تھیں، پھر بھی وہ ان کے حوصلوں کو بلند کرتے اور صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرتے۔ ذرا غور کریں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ اپنی فوج کو اخلاص و تقویٰ کے ہتھیار سے مسلح ہو کر دریا عبور کرنے کا حکم دیتے ہیں، حالانکہ آپ اس کی ایمانی غیرت و قوت سے بہت حد تک مطمئن ہیں۔ چنانچہ آپ اللہ سے استعانت چاہتے ہوئے اور پھر ایمانی قوت کے اس بلند معیار و مرتبہ پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اقدامی کارروائی کرتے ہیں۔

 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ اپنے قائدین کی مکمل اطاعت کرتے تھے اور اسے شرعی فریضہ اور عمل صالح تصور کرتے تھے کہ جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ہوتی تھی۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 11 صفحہ 167)