دریائے دجلہ کو عبور کرنا اور فتح مدائن
علی محمد الصلابیسیدنا سعد رضی اللہ عنہ دریا عبور کرنے کے لیے سب سے آگے بڑھے اور کہا: ’’کون ہے جو آگے بڑھے اور دریا کے مشرقی ساحل کو ہمارے لیے محفوظ کر لے، اس کے پیچھے ہی دوسرے لوگ بھی اس سے جا ملیں گے؟ اس کا مقصد یہ کہ سب مل کر دشمن کے بھاگ نکلنے کا راستہ روک دیں۔ حضرت عاصم بن عمرو تمیمی جو طاقتور اور بہادر تھے، آگے بڑھے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے چھ سو (600) مجاہدین کو ان کے ساتھ کر دیا اور عاصم کو ان کا قائد بنا دیا، عاصم اپنی فوج کے ہمراہ دریائے دجلہ کے ساحل پر آکر رک گئے اور کہا: کون ہے جو میرے ساتھ اس دریا کو عبور کرے گا؟ کہ ہم مشرقی ساحل کو تمہارے دشمن سے محفوظ کر لیں اور تمہاری بھی حفاظت ہو جائے۔ چنانچہ ساٹھ (60) بہادر مجاہدین حضرت عاصمؓ کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوگئے اور دجلہ کی تیز و تاریک موجوں میں اپنے گھوڑوں کو دوڑایا، ان کے پیچھے ہی چھ سو مجاہدین کے فوجی دستہ نے بھی دھاوا بول دیا۔ اس طرح مسلمانوں کے پاس چھ سو مجاہدین کا ایک فدائی دستہ تیار ہوگیا۔ اس دستہ کا نام ’ ’کتیبۃ الاھوال‘‘ (خوف و خطر سے نمٹنے والا دستہ) تھا۔ عاصم نے انہی میں سے ساٹھ فوجیوں کو اپنے ساتھ بطور مقدمہ رکھا تھا۔ درحقیقت حضرت سعدؓ اور ان کے بعد عاصم کی طرف سے یہ ایک مضبوط منصوبہ سازی تھی کہ پہلی ہی مرتبہ اور ایک ساتھ بھاری فوج لے کر پر خطر حالات کا سامنا کرنا اچھا نہیں ہے، بلکہ ان حالات میں بہادر، مرد میدان اور اعلیٰ جنگی مہارت رکھنے والے افراد کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا زیادہ مناسب ہے، خواہ ان کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے کہ اگر ان مواقع پر عام افواج اور ادنیٰ جنگی صلاحیت کے حامل افراد کو لے کر پیش قدمی کی گئی اور عین لڑائی کے وقت ایسے لوگ پیچھے ہٹ گئے تو نتیجہ یہ ہو گا کہ پورے لشکر کو شکست کا منہ دیکھنا پڑے گا۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 11 صفحہ 168)
بہرحال عاصم نے ساٹھ فدائی مجاہدین کے ساتھ دریا میں اپنے گھوڑے دوڑا دیے اور اصم بنی ولاد تیمی، کلج ضبی، ابو مفزر اسود بن قطبہ، شرحبیل بن سمط کندی، حجل عجلی، مالک بن کعب ہمدانی اور بنو حارث بن کعب کے ایک غلام نے خاص طور پر بڑھ کر دریا کے مشرقی ساحل پر قبضہ کرنا چاہا۔ ادھر جب فارسیوں نے انہیں آگے بڑھتے دیکھتا تو مقابلہ کے لیے اپنے گھوڑوں کو تیار کیا اور آگے بڑھے۔ دریا کے مشرقی ساحل کے قریب دریا ہی میں دونوں میں مقابلہ شروع ہوگیا۔ عاصم نے اپنے دستہ کو للکارا اور کہا: نیزے مارو، نیزے چلاؤ، جلدی کرو اور آنکھوں کو نشانہ بناؤ۔ چنانچہ دونوں میں کچھ دیر مڈبھیڑ ہوئی اور پھر مسلمانوں نے ان پر خوب نشانے سادھے اور دشمن ساحل کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ مسلمان دشمن کے گھوڑوں پر نیزوں کی بارش کر رہے تھے، تاکہ وہ تیزی سے بھاگیں اور اپنے سواروں کے قابو میں نہ رہیں اور پھر ایسے ہی ہوا بھی۔ بالآخر مسلمانوں نے انہیں دوڑا دوڑا کر قتل کیا اور جو بچ گیا وہ ناکارہ ہو کر بچا۔ مقدمۃ الجیش کی ذمہ داری نبھانے والا دستہ ابھی اپنا کام کر ہی رہا تھا کہ تب تک پیچھے سے بقیہ فدائی مجاہدین بھی ساحل پر پہنچ گئے اور اس پر قبضہ کر لیا۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 456، 457)