Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فصل:....قضاء و قدر پر رافضی کا کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

فصل:....قضاء و قدر پر رافضی کا کلام 

[اعتراض ]: شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’اکثر اہل سنت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بذات خود افعال قبیحہ اور کفر کا مرتکب ہوتا ہے، اور یہ سب کچھ اس کی قضا و قدر کے مطابق وقوع پذیر ہوتا ہے۔بندے کا اس میں کچھ دخل نہیں اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ کافر معاصی کا مرتکب ہوتا رہے اور وہ کافر سے اطاعت نہیں چاہتا۔اوریہ کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی مصلحت کے لیے کوئی بھی کام نہیں کرتا۔اور اللہ تعالیٰ کافر سے معاصی ہی چاہتا ہے؛اور اس سے وہ اطاعت گزاری نہیں چاہتا۔ اس سے کئی برائیاں لازم آتی ہیں ۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب ]: ہم جواباًکہتے ہیں ....اولاً : [ اور قبل ازیں اس پر روشنی ڈال چکے ہیں ]....کہ تقدیر اور عدل و جور کے مسائل کا امامت و خلافت کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں ؛نہ ہی یہ مسائل آپس میں لازم و ملزوم ہیں ۔ مگر شیعہ مصنف بایں ہمہ وہی مسائل دہرائے جا رہا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ حضرت صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما کی خلافت کا اقرار کرنے والے بعض لوگ تقدیرمیں وہی عقیدہ رکھتے ہیں جو کہ اس کتاب کے مصنف کا عقیدہ ہے۔ اس کے برعکس بعض روافض تقدیر کے قائل ہیں ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ دونوں مسئلے ایک دوسرے سے یکسر جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں اور یہ باہم لازم و ملزوم نہیں ہیں ۔

یہ حقیقت اپنی جگہ پر واضح ہے کہ مسئلہ تقدیر اور صفات الٰہی کے اثبات میں اہل بیت سے ان گنت روایات منقول ہیں ، مگر متاخرین شیعہ نے تشیع کے عقائد کے ساتھ ساتھ جہمیہ اور قدریہ کے افکار ومعتقدات کا ضمیمہ بھی لگا لیا ہے، اور وہ صرف شیعہ عقائد ہی کے حامل نہیں رہے، یہ شیعہ مصنف بھی اسی زمرہ میں داخل ہے۔اس سے پہلے امامیہ فرقے کے اس عقیدہ کا بیان گزر چکا ہے کہ: کیا اللہ تعالیٰ افعال العباد کا خالق ہے یا نہیں ؟ اس میں ان کے دو قول ہیں ؛ ایسے ہی زیدیہ کے بھی دو قول ہیں ۔

اشعری نے کہا ہے: زیدیہ خلقِ افعالی میں دو فرقے بن گئے ہیں ۔ ایک فرقہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ بندے کے افعال کا خالق اللہ ہے۔ رب تعالیٰ نے ان کو عدم سے وجود بخشا ہے۔ تب پھر یہ اس کے لیے حادث ہیں ۔ جبکہ دوسرا ان کو اللہ کی مخلوق نہیں مانتا۔ بلکہ بندہ ان کا خالق اور کا سب ہے۔

میں کہتا ہوں کہ: اکثر متقدمین شیعہ تقدیر کو ثابت مانتے تھے۔ اس کا انکار متاخرین شیعہ میں ظاہر ہوا ہے۔ جیسے صفات کا انکار؛ کہ متقدمین شیعہ میں سے اکثر صفات کے اثبات کے قائل تھے، اور اہلِ بیت سے صفات اور قدر کے بارے میں اس قدر روایات ہیں جو شمار سے باہر ہیں ۔

رہے قدری ہونے کے باوجود خلفائے ثلاثہ کی امامت کے قائل تو وہ معتزلہ اور غیر معتزلہ میں بہت زیادہ ہیں ۔ اکثر قدریہ خلفائے ثلاثہ کی امامت کے قائل ہیں ۔ متقدمین قدریہ میں سے اس کا منکر کوئی نہیں ۔ یہ انکار تب ظہور میں آیا جب کچھ لوگ رافضی قدری اور جہمی بنے تو انہوں نے بدعتوں کے اصول کو جمع کیا۔ جیسے کہ اس کتاب کا مصنف۔زیدیہ خلفائے ثلاثہ کے اقرار ہیں ۔ حالانکہ یہ شیعہ میں سے ہیں ۔ ان میں قدریہ اور غیر قدریہ اور غیر قدریہ دونوں ہیں ۔ یہ زیدیہ امامہ سے بہتر ہیں ، اور امامیہ کے زیادہ مشابہ جارودیہ ہیں ۔ جو ابو الجارود [یہ زیادہ بن ابی زیاد منذر ہمدانی خراسانی العبدی ہے۔ کنیت ابو نجم تھی۔ کبھی نہدی اور ثقفی بھی کہلاتا تھا۔ ۱۵۰ھ سے ۱۶۰ھ کے درمیان وفات پائی۔ یہ زیدیہ میں سے جارؤدیہ فرقہ کا بانی تھا۔ شہرستانی نے نقل کیا ہے کہ جعفر صادق نے اس کا نام سرحوب رکھا اور باقر نے اس کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ سرحوب اندھے شیطان کو کہتے ہیں جو سمندر میں رہتا ہے۔ نوبختی کے بقول ابن جارود نگاہ کا بھی اندھا تھا اور دل کا بھی اندھا تھا۔ جارودیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنابِ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کی نص ارشاد فرمائی ہے۔ لہٰذاحضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امام تھے اور لوگ انہیں چھوڑنے کی بناء پر کافر اور گمراہ ہو گئے تھے۔ ان کے نزدیک علی رضی اللہ عنہ کے بعد حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ امام ہیں ۔ پھر امامت اولاد حسین میں شوری ہے۔ غرض ان کے اور بھی متعدد گمراہانہ عقائد ہیں ۔ ان کی تفصیل کے لیے دیکھیں : فرق الشیعہ للنوبختی، ص: ۷۵ ۔ ۷۸۔ (۱۳۷۹؍۱۹۵۹۔ ط۔ حیدریہ النجف۔) ] کے پیروکار ہیں ۔ جن کا یہ عقیدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کی نام لیے بغیر وصف ذکر کر کے نص کہی ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جناب علی رضی اللہ عنہ امام تھے، اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کی اقتداء چھوڑ کر گمراہ اور کافر ہو گئے تھے۔ پھر حسن رضی اللہ عنہ امام ہیں اور پھر حسین رضی اللہ عنہ ۔ 

پھر ان میں سے کوئی اس بات کا قائل ہے کہ جناب علی رضی اللہ عنہ نے حسن رضی اللہ عنہ کی امامت پر نص کہی، انہوں نے حسین کی امامت پر پھر یہ امامت دونوں کی اولاد میں شوری تھی۔ سو ان میں سے جو بھی داعی الی اللہ نکلا اور وہ عالم و فاضل بھی ہے سو وہ امام ہے۔

زیدیہ کا دوسرا فرقہ سلیمانیہ ہے۔ یہ سلیمان بن جریر کے اصحاب ہیں ۔ جن کے نزدیک امامت یہ شوری ہے، اور یہ دو نیک مسلمانوں سے بھی قائم ہو سکتی ہے، اور بسا اوقات یہ مفضول میں بھی پائی جاتی ہے۔ چاہے فاضل ہر حال میں افضل ہی ہو، اور یہ حضرات شیخین ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے لیے امامت کو ثابت کرتے ہیں ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ امامت خطا تھی۔ البتہ تاویل کی وجہ سے صاحبِ امامت فاسق نہ تھا۔ [سلیمانیہ یا جریریہ: یہ سلیمان بن جریر العرقی کے اصحاب ہیں ۔ خلیفہ منصور کے زمانہ میں ظاہر ہوئے۔ ان کے عقائد اس سے بھی زیادہ ہیں جو امام ابن تیمیہ نے ذکر کیے ہیں ، سلیمان نے دورِ عثمانی میں ہونے والے واقعات کی بناء پر جنابِ عثمان رضی اللہ عنہ پر طعن کیا ہے اور ان واقعات کی آڑ میں معاذ اللہ انہیں کافر تک کہا ہے، اور اس نے جناب زبیر، جناب طلحہ رضی اللہ عنہما اور سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے جنابِ علی رضی اللہ عنہ سے قتال پر اقدام کی وجہ سے معاذ اللہ انہیں بھی کافر کہا ہے۔ پھر اس نے متعدد امور میں خود امامیہ رافضہ پر بھی طعن کیا ہے۔ ان کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیں : فرق الشیعہ للنوبختی، ص: ۳۰، ۸۵، ۸۷۔]

جبکہ دوسرے قول کے قائلین بتریہ ہیں ، یہ کُثَیّر النواء کے اصحاب ہیں ، ان کے بتریہ نام کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر کا لقب ابتر تھا۔ ان کے نزدیک جنابِ علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل الخلائق اور امامت کے سب سے زیادہ اہل تھے۔ البتہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی بیعت خطا نہ تھی۔ کیونکہ جنابِ علی رضی اللہ عنہ ان دونوں کی خاطر امامت ترک کر دی تھی۔ البتہ یہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے قتل کے بارے میں توقف کرتے ہیں ، اور انہیں کافر نہیں کہتے۔ جیسا کہ سلیمانیہ کہتے ہیں ۔ یہ شیعوں کا سب سے بہتر فرقہ ہے۔ انہیں صالحیہ بھی کہتے ہیں ۔ کیونکہ یہ حسن بن صالح بن حی الفقیہ کی طرف منسوب ہیں ۔ [بتریہ :....کثیّر النواء الابتر کے اصحاب جو مذہب میں صالحیہ کے ہم نواء ہیں ۔ ان دونوں کی تفصیل کے لیے دیکھیں : فرق الشیعہ للنوبختی، ص: ۳۴، ۳۵، ۷۷۔] اب ان زیدیہ میں سے کوئی تو قدر کے بارے میں اہلِ سنت کے قول پر ہے اور کوئی قدریہ کے قول پر ہے۔ 

بندوں کے افعال کا فاعل کون ہے؟

دوسری وجہ :....یہ کہا جائے گا کہ: شیعہ مصنف کا یہ قول کہ: ’’ اہل سنت کے نزدیک بندہ کفر و معاصی کے ارتکاب میں بے قصور ہے۔‘‘ قطعی طور سے بے بنیاد ہے۔ تقدیر کا عقیدہ رکھنے والے جمہور اہل سنت کا زاویہ نگاہ یہ ہے کہ بندہ اپنے افعال کا حقیقی فاعل ہے اور وہ قدرت و استطاعت سے بہرہ ور ہے، وہ طبعی اسباب کی تاثیر کا انکار نہیں کرتے۔ بلکہ عقلی و نقلی دلائل کی بنا پر اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہواؤں کے ذریعہ بادل کو پیدا کرتے پھر بادل سے پانی اتارتے اور پانی سے فصلیں پیدا کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ سبب اور مسبب دونوں کا خالق ہے۔اور وہ ہر گز یہ بھی نہیں کہتے کہ مخلوقات میں موجود طبائع اورقویٰ کی کوئی تاثیر نہیں ۔بلکہ وہ اس کا اقرار کرتے ہیں کہ اس کی لفظی اور معنوی تاثیر ہے۔ حتیٰ کا اثر کا لفظ کتاب اللہ میں بھی آیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے: ﴿وَ نَکْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَہُمْ ﴾ (یس ۱۲)

’’ اور ہم لکھ رہے ہیں جو عمل انھوں نے آگے بھیجے اور ان کے چھوڑے ہوئے نشان بھی۔‘‘

اگرچہ وہاں پر تاثیر کا معنی اس آیت میں وارد لفظ کی نسبت زیادہ عام ہے۔ مگر پھر بھی وہ یہ کہتے ہیں کہ: یہ تاثیر؛ مسببات میں اسباب کی تاثیر کے باب سے ہے۔

باوجودیکہ باری تعالیٰ خالق اسباب ہیں اس کے باوصف ایک اور سبب کا وجود ناگزیر ہے جو اس کا شریک ہو اور اس کے دوش بدوش ایک معارض کی بھی ضرورت ہے جو اسے روک دے اور اللہ کے پیدا کرنے کے باوجود اس کے اثر کو تکمیل پذیر نہ ہونے دے الایہ کہ اللہتعالیٰ دوسرے سبب کو پیدا کر کے موانع کا ازالہ کر دے۔

شیعہ مصنف نے جو قول نقل کیا ہے اس کے قائل قدرکو ثابت ماننے ہیں جیسے امام اشعری رحمہ اللہ اور ان کے ہم نوااور موافقت رکھنے والے فقہاء جو کہ امام مالک ؛ امام شافعی اور امام أحمد رحمہم اللہ کے اصحاب میں سے ہیں ۔ اشاعرہ مخلوقات میں قُوی و طبائع کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ:’’ اللہ تعالیٰ ان قوی کے ساتھ فعل کو انجام نہیں دیتے البتہ ان قوی کے ہوتے ہوئے وہ فعل انجام پذیر ہوتا ہے۔‘‘ اشاعرہ کہتے ہیں کہ بندے کی قوت افعال میں مؤثر نہیں ہے۔

امام اشعری رحمہ اللہ اس سے بڑھ کر یہ کہتے ہیں کہ بندہ اپنے فعل کا فاعل نہیں ، بلکہ اس کا فاعل حقیقی اللہ تعالیٰ ہے۔ البتہ بندہ اپنے فعل کا کا سب ہے،جمہور اہل سنت کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ بندہ اپنے افعال کا حقیقی فاعل ہے۔

افعال باری تعالیٰ میں حکمت :

رہا یہ مسئلہ کہ شیعہ مصنف نے جو غرض اور حکمت کی نفی کا عقیدہ نقل کیا ہے؛ کہ بیشک اللہ تعالیٰ بندوں کی مصلحت کے لیے کوئی کام نہیں کرتے۔ ہم اس سے پہلے یہ بیان کرچکے ہیں کہ یہ چند ایک لوگوں کا عقیدہ ہے؛ جن میں امام اشعری بھی شامل ہیں اوروہ گروہ بھی جو اس مسئلہ میں ان کی موافقت رکھتے ہیں ۔ مگر دوسرے مقام پر وہ اپنے اس عقیدہ کے خلاف کہتے ہیں ۔ جب کہ جمہور اہل سنت والجماعت اللہ تعالیٰ کے افعال میں حکمت و غرض کو ثابت مانتے ہیں ۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے افعال بندوں کے نفع اور ان کی مصلحت کے پیش نظر ہوتے ہیں ۔ لیکن ان کا عقیدہ ایسے بھی نہیں جیسے معتزلہ اور ان کے موافقین کا عقیدہ ہے ؛جو چیز اللہ تعالیٰ کے ہاں حسن ہو؛ وہ مخلوق میں بھی حسن ہی ہوگی اور جو کچھ اس کی مخلوق میں قبیح ہو وہ اس کے ہاں بھی قبیح ہوگی۔ ایسا کچھ بھی نہیں ۔جہاں تک لفظ غرض کا تعلق ہے؛ تو معتزلہ اور بعض اہل سنت کی طرف منسوب یہ کہتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ غرض کے لیے افعال بجا لاتا ہے؛ اور مراد حکمت ہوتی ہے۔ اور بہت سارے اہل سنت اس کے لیے حکمت کا لفظ ہی استعمال کرتے ہیں ؛ وہ اس کے لیے لفظ غرض کا اطلاق نہیں کرتے ۔

ارادہ کی دو قسمیں :

شیعہ مصنف کا یہ قول کہ ’’ اہل سنت کے نزدیک اللہ تعالیٰ کافر سے معاصی کا ارادہ کرتا ہے؛ اس سے اطاعت گزاری مطلوب نہیں ہوتی ‘‘اہل سنت کا صرف ایک گروہ یہ عقیدہ رکھتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جوقدریہ کے ہم خیال ہیں ؛اور جو ’’ ارادہ اور مشئیت اور رضا اور محبت ‘‘ کو صرف ایک ہی قسم قرار دیتے ہیں اور محبت و رضا اور غضب کو ارادہ کا مترادف تصور کرتے ہیں ۔امام اشعری کے دونوں اقوال میں سے مشہور تر قول یہی ہے، ان کے اکثر اصحاب و اتباع اور ان کی موافقت رکھنے والے فقہاء جو کہ امام مالک؛ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے ساتھیوں میں سے ہیں ؛ وہ بھی اسی کے قائل ہیں ۔

بخلاف ازیں تمام طوائف میں سے جمہور اہل سنت اور امام اشعری رحمہ اللہ کے بہت سارے ساتھی اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ ارادہ، محبت اور رضا میں فرق کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں :’’اللہ تعالیٰ معاصی کا ارادہ تو کرتا ہے۔‘‘ مگر انہیں چاہتا نہیں اور ان سے راضی بھی نہیں ہوتا، بلکہ ان پر ناراض ہوتا ہے؛ ان سے بغض رکھتا ہے اور ان سے منع کرتا ہے۔اس قول کے قائلین اللہ تعالیٰ کی مشیئت اور اس کی محبت کے مابین فرق کرتے ہیں ۔اور یہی تمام سلف صالحین کا قول ہے۔ ابو المعالی الجوینی نے ذکر کیا ہے کہ قدیم اہل سنت و الجماعت کا یہی عقیدہ تھا ۔ پھر ابو الحسن الأشعری نے اس کی مخالفت کی اور محبت اور ارادہ کو ایک ہی شمار کرنے لگا۔[مستجی زادہ نے اس پر یہ تبصرہ کیا ہے کہ : ’’میں نے امام الحرمین کے کلام میں دیکھا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ کو کفر پر راضی رہتے ہیں اور اس کو پسند کرتے ہیں ؛ اللہ تعالیٰ ایسی باتوں سے بہت بلند ہیں ؛ اللہ آپ کو معاف کرے؛ آپ کی آراء میں بہت بڑا اختلاف پایا جاتا تھا۔ چنانچہ آپ ایک جگہ پر عقیدہ کی کتاب میں ایک بات کہتے ہیں ؛ تو دوسری جگہ عقیدہ کی دوسری کتاب میں اس کے برعکس بات کہتے ہیں ۔ چنانچہ آپ نے ایک جگہ’’الارشاد ‘‘ میں لکھا ہے: ’’ جس چیز کو ہم اللہ کا دین سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ افعال انسان کے اختیار میں ہوتے ہیں ؛ بندے کی قدرت کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اس کی ایجاد ہیں ۔ جبکہ ’’الرسالہ النظامیہ ‘‘ میں دوسری جگہ پر لکھتے ہیں : ’’بندے کی قدرت اور فعل کا اس میں اثر ہوتا ہے ۔‘‘حتی کہ ’’المقاصد ‘‘ کے شارح نے ’’الارشاد ‘‘ میں وارد اس کلام سے دلیل لیتے ہوئے امام سے اس قسم کے کلام کے صادر ہونے کاانکار کیا ہے۔ شاید کہ اس شارح تک رسالہ نظامیہ نہ پہنچا ہو۔]

ان لوگوں کا کہنا ہے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ ہوگیا ؛ جو نہیں چاہا وہ نہیں ہوا۔ پس ہر وہ چیز جسے اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اسے یقیناً اس نے پیدا کردیا۔ جب کہ محبت کا تعلق اس کے امر سے ہے۔ پس جس چیز کے کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے؛ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔ اسی لیے فقہائے کرام کا اتفاق ہے کہ اگر قسم اٹھانے والا یوں کہے کہ: ’’اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میں فلاں کام کروں گا۔‘‘پھر وہ وہ کام نہ کرے ؛ تو اس سے اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی۔ اگرچہ وہ کام واجب یا مستحب ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن اس کے برعکس اگر یہ کہا کہ : اللہ تعالیٰ نے پسند کیا تو میں وہ کام کروں گا؛ اوروہ کام واجب یا مستحب ہو۔ تو پھر اس کے نہ کرنے پر اس کی قسم ٹوٹ جائے گی۔

محققین کا قول ہے کہ’’ارادہ کا لفظ قرآن کریم میں دو معنوں میں استعمال ہوا ہے:

۱۔ ارادہ خُلقیہ قدریہ کونیہ ۲۔ارادہ امریہ شرعیہ دینیہ‘‘

ارادہ کونیہ قدریہ جملہ حوادث کو شامل ہے جب کہ ارادہ دینیہ شرعیہ محبت و رضا پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ عام مسلمانوں کا کا عقیدہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ ہوگیا اور جو نہیں چاہا وہ نہیں ہوا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّہْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآئِ ﴾ (الانعام:۱۲۵) 

’’تو وہ شخص جسے اللہ ہدایت دیناچاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ تنگ، نہایت گھٹا ہوا کر دیتا ہے، گویا وہ مشکل سے آسمان میں چڑھ رہا ہے۔‘‘

دوسری جگہ حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق ارشاد فرمایا:

﴿وَ لَا یَنْفَعُکُمْ نُصْحِیْٓ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَکُمْ اِنْ کَانَ اللّٰہُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَکُمْ ہُوَ رَبُّکُمْ وَ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ﴾ (ھود ۳۳)

’’اور میری نصیحت تمھیں نفع نہ دے گی اگر میں چاہوں کہ تمھیں نصیحت کروں ، اگر اللہ یہ ارادہ رکھتا ہو کہ تمھیں گمراہ کرے، وہی تمھارا رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔‘‘

اس ارادہ کا تعلق اضلال و اغواء کے ساتھ ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی وہ مشیئت ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں تو ہوجاتی ہے۔اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

﴿وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ ﴾ (البقرۃ:۲۵۳)

’’لیکن اللہ تعالیٰ جو کچھ چاہتے ہیں وہ کرتے ہیں ۔‘‘

یعنی جس چیز کو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں پیدا کر دیتے ہیں ؛ اس کے لیے حکم نہیں دیتے۔

کبھی ارادہ سے محبت[پسند] مراد لی جاتی ہے۔ جیسا کہ فحاشی کا کام کرنے والے سے کہا جاتا ہے کہ : یہ ایسا کام ہے جس کا ارادہ اللہ تعالیٰ نہیں کرتے؛ مراد یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کام کو پسند نہیں کرتے۔ اور کبھی اس سے مشیئت بمعنی چاہت کے ہوتی ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا ارادہ نہیں کیا تھا۔

ارادہ شرعیہ دینیہ کی مثال مندرجہ ذیل آیات ہیں ۔ قرآن کریم میں فرمایا:

﴿یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ ﴾ (البقرۃ: ۱۸۵)

’’اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانی چاہتے ہیں ؛ وہ تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتے ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمْ وَ یَہْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْکُمْ وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌo وَ اللّٰہُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْکُمْ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّہَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًاo یُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْکُمْ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا﴾ (النساء:۲۶۔۲۸)

’’اللہ چاہتا ہے کہ تمھارے لیے کھول کر بیان کرے اور تمھیں ان لوگوں کے طریقوں کی ہدایت دے جو تم سے پہلے تھے اور تم پر مہربانی فرمائے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔اور اللہ چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی فرمائے اور جو لوگ خواہشات کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم (سیدھے راستے سے) ہٹ جاؤ، بہت بڑا ہٹ جانا۔اللہ چاہتا ہے کہ تم سے (بوجھ) ہلکا کرے اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ مَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰکِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَہِّرَکُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ

(المائدہ:۶)

’’ اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی کرے اور لیکن وہ چاہتا ہے کہ تمھیں پاک کرے اور تاکہ وہ اپنی نعمت تم پر پوری کرے، ۔‘‘

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

﴿ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا﴾(الاحزاب:۳۳)

’’اے نبی کے گھر والو! اللہ تعالیٰ تم سے ناپاکی کو دور کرنا چاہتے ہیں ؛ اور تمہیں بالکل پاک کردے۔‘‘

ظاہر ہے کہ ان آیات میں ارادہ کے وہ معنی نہیں جو سابقہ آیات میں ہیں ۔ان آیات میں مذکورہ ارادہ وہ نہیں جس کی مراد واجب ہو۔ جیسا کہ ارشاد ہے:

﴿فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّہْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ﴾ (الانعام: ۱۲۵) 

’’تو وہ شخص جسے اللہ چاہتا ہے کہ اسے ہدایت دے، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔‘‘

مسلمانوں کا یہ قول کہ، جو اللہ نے چاہا وہ ہوا اور جو نہ چاہا وہ نہ ہوا۔ بلکہ یہ لوگوں کے برائی کے مرتکب کو اس قول میں مذکور ہے: ’’یہ وہ کام کرتا ہے جو اللہ نہیں چاہتا۔‘‘ یعنی یہ کام اللہ کو پسند اور محبوب نہیں اور نہ اس نے ایسی بات کا امر کیا ہے۔ارادہ کی اس تقسیم کو متعدد اہلِ سنت نے ذکر کیا ہے، اور یہ کہا ہے کہ محبت اور رضا و ارادہ نہیں جو جملہ مخلوقات کو شامل ہو۔ جیسا کہ امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد وغیرہم رحمہم اللہ کے اصحاب نے ذکر کیا ہے، جیسے ابوبکر عبدالعزیز وغیرہ، اگرچہ ایک جماعت محبت اور ضا کو ارادہ قرار دیتی ہے لیکن پہلا قول صحیح ترہے۔

دوسرے یہ فرق بھی واضح ہے کہ ارادہ کرنے والے کا کسی کام کو کرنے کا ارادہ کرنا اور بات ہے اور اس کا کسی دوسرے سے یہ ارادہ کرنا کہ وہ اسے کرے، اور بات ہے، اور امریہ ارادۂ ثابتہ کو مستلزم نہیں ، بہ نسبت پہلی قسم کے ارادہ کے۔ رب تعالیٰ جب اپنے بندوں کو کسی کام کے کرنے کا امر فرماتا ہے تو وہ اس بات کا ارادہ کرتا ہے کہ وہ مامور کی ماموریہ پر اعانت کرے گا، اور بسا اوقات وہ حکم دینے کے باوجود اس اعانت کا ارادہ نہیں کرتا۔

اللہ کے امر کے بارے میں نزاع کی بابت قولِ فیصل کی تحقیق یوں ہے کہ: کیا یہ امر اللہ کے ارادہ کو مستلزم ہے یا نہیں ؟ پس جب معتزلہ کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ بات ناگزیر ہے کہ جس بات کا وہ امر دیتا ہے، اسے چاہتا ہے اور اس کا ارادہ کرتا ہے او ریہ کہ اس نے منع اسی بات سے کیا ہے جس کے وجود کو اس نے نہیں چاہتا اور نہ اس کا ارادہ کیا ہے۔ اب قدر کو ثابت کرنے والے بیشتر متاخرین نے، جو اصولِ فقہ وغیرہ میں ابوالحسن کے پیروکار اور امام مالک و شافعی و احمد کے اصحاب میں سے ہیں ، ان لوگوں کو یہ جواب دیا ہے کہ بے شک اللہ ایسی بات کا بھی حکم دیتا ہے جو وہ چاہتا نہیں ۔ جیسے کفر، فسق اور عصیان۔

ان کی دلیل یہ ہے کہ اگر کوئی ’’ان شاء اللہ‘‘ کہہ کر کسی واجب کے ضرور کرنے کی قسم اٹھائے تو نہ کرنے پر وہ حانث [قسم توڑنے والا]نہ ہوگا۔ اور دوسری دلیل یہ ہے کہ رب تعالیٰ نے جنابِ ابراہیم علیہ السلام کو بیٹا ذبح کرنے کا حکم دیا تو ضرور تھا۔ لیکن اس کو ان سے چاہا نہ تھا۔ بلکہ کر گزرنے سے قبل ہی اسے منسوخ کر دیا تھا۔ اسی طرح معراج کی رات میں پچاس نمازوں کا امر کا معاملہ ہے۔

اس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ ایسی بات کا بھی امر کرتا ہے جس کے پیدا کرنے کو اس نے نہیں چاہا۔ البتہ وہ صرف اسی بات کا امر کرتا ہے جو اسے محبوب اور پسند ہو اور چاہتا ہو کہ بندہ وہ کرے۔ اس معنی میں کہ وہ اسے پسند کرتا ہے، اور کفر رہا اور فسق و عصیان تو رب تعالیٰ اسے چاہتا نہیں اور نہ اسے پیدا کر کے بندے کی اس پر اعانت کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے اگر کسی نے ان شاء اللہ کہہ کر کسی واجب کی قسم اٹھائی پھر اس نہ کیا تو وہ حانث ہوگا۔ چاہے وہ کوئی واجب ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن اگر اس نے ’’اگر اللہ نے پسند کیا‘‘ کہہ کر قسم اٹھائی تو نہ کرنے کی صورت میں حانث ہوگا۔ یہی حکم: ’’اگر اللہ نے حکم دیا‘‘ کہہ کر قسم اٹھانے کا ہے۔

اگر یہ کہا: میں یہ ضرور کروں گا جب اللہ نے ارادہ کیا تو اس کا ارادہ سے مراد محبت ہے۔ جیسا کہ لوگ برائی کرنے والے سے یہ کہتے ہیں : ’’یہ ایسے کاموں میں لگا ہے جن کو اللہ نے نہیں چاہا۔‘‘ اور کبھی اس کی مراد مشیئت ہوتی ہے۔ جیسا کہ لوگ نہ ہونے والے کام کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ: ’’اس بات کا اللہ نے ارادہ نہیں کیا تھا۔‘‘ پس اگر تو اس کی مراد یہ تھی تو وہ حانث ہو گیا۔

رہا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بیٹے کو ذبح کر دینے کا امر تو وہ رب تعالیٰ کو محبوب بھی تھا اور نفس الامر میں رب تعالیٰ نے ان سے اس بات کا ارادہ بھی کیا تھا۔ وہ یوں کہ جنابِ ابراہیم علیہ السلام نے امتثالِ امر کا قصد کیا اور فرمانبرداری کا عزم کیا۔ پس رب تعالیٰ نے سیّدنا ابراہیم علیہ السلام کے امتحان اور آزمائش کے لیے یہ امر ظاہر فرمایا تھا۔ پس جب دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور جنابِ ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل زمین پر لٹا دیا تو رب تعالیٰ نے انہیں آواز دی کہ اے ابراہیم! تحقیق تو نے وہ خواب سچ کر دکھایا اور ہم نیکو کاروں کو یوں بھی بدلا دیا کرتے ہیں ، اور یہی بات پچاس نمازوں کے امر کے بارے میں بھی ہے۔