فصل:....قضاء و قدر پر رافضی کا کلام - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....قضاء و قدر پر رافضی کا کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

فصل:....قضاء و قدر پر رافضی کا کلام 

[اعتراض ]: شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’اکثر اہل سنت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بذات خود افعال قبیحہ اور کفر کا مرتکب ہوتا ہے، اور یہ سب کچھ اس کی قضا و قدر کے مطابق وقوع پذیر ہوتا ہے۔بندے کا اس میں کچھ دخل نہیں اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ کافر معاصی کا مرتکب ہوتا رہے اور وہ کافر سے اطاعت نہیں چاہتا۔اوریہ کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی مصلحت کے لیے کوئی بھی کام نہیں کرتا۔اور اللہ تعالیٰ کافر سے معاصی ہی چاہتا ہے؛اور اس سے وہ اطاعت گزاری نہیں چاہتا۔ اس سے کئی برائیاں لازم آتی ہیں ۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب ]: ہم جواباًکہتے ہیں ....اولاً : [ اور قبل ازیں اس پر روشنی ڈال چکے ہیں ]....کہ تقدیر اور عدل و جور کے مسائل کا امامت و خلافت کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں ؛نہ ہی یہ مسائل آپس میں لازم و ملزوم ہیں ۔ مگر شیعہ مصنف بایں ہمہ وہی مسائل دہرائے جا رہا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ حضرت صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما کی خلافت کا اقرار کرنے والے بعض لوگ تقدیرمیں وہی عقیدہ رکھتے ہیں جو کہ اس کتاب کے مصنف کا عقیدہ ہے۔ اس کے برعکس بعض روافض تقدیر کے قائل ہیں ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ دونوں مسئلے ایک دوسرے سے یکسر جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں اور یہ باہم لازم و ملزوم نہیں ہیں ۔

یہ حقیقت اپنی جگہ پر واضح ہے کہ مسئلہ تقدیر اور صفات الٰہی کے اثبات میں اہل بیت سے ان گنت روایات منقول ہیں ، مگر متاخرین شیعہ نے تشیع کے عقائد کے ساتھ ساتھ جہمیہ اور قدریہ کے افکار ومعتقدات کا ضمیمہ بھی لگا لیا ہے، اور وہ صرف شیعہ عقائد ہی کے حامل نہیں رہے، یہ شیعہ مصنف بھی اسی زمرہ میں داخل ہے۔اس سے پہلے امامیہ فرقے کے اس عقیدہ کا بیان گزر چکا ہے کہ: کیا اللہ تعالیٰ افعال العباد کا خالق ہے یا نہیں ؟ اس میں ان کے دو قول ہیں ؛ ایسے ہی زیدیہ کے بھی دو قول ہیں ۔

اشعری نے کہا ہے: زیدیہ خلقِ افعالی میں دو فرقے بن گئے ہیں ۔ ایک فرقہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ بندے کے افعال کا خالق اللہ ہے۔ رب تعالیٰ نے ان کو عدم سے وجود بخشا ہے۔ تب پھر یہ اس کے لیے حادث ہیں ۔ جبکہ دوسرا ان کو اللہ کی مخلوق نہیں مانتا۔ بلکہ بندہ ان کا خالق اور کا سب ہے۔

میں کہتا ہوں کہ: اکثر متقدمین شیعہ تقدیر کو ثابت مانتے تھے۔ اس کا انکار متاخرین شیعہ میں ظاہر ہوا ہے۔ جیسے صفات کا انکار؛ کہ متقدمین شیعہ میں سے اکثر صفات کے اثبات کے قائل تھے، اور اہلِ بیت سے صفات اور قدر کے بارے میں اس قدر روایات ہیں جو شمار سے باہر ہیں ۔

رہے قدری ہونے کے باوجود خلفائے ثلاثہ کی امامت کے قائل تو وہ معتزلہ اور غیر معتزلہ میں بہت زیادہ ہیں ۔ اکثر قدریہ خلفائے ثلاثہ کی امامت کے قائل ہیں ۔ متقدمین قدریہ میں سے اس کا منکر کوئی نہیں ۔ یہ انکار تب ظہور میں آیا جب کچھ لوگ رافضی قدری اور جہمی بنے تو انہوں نے بدعتوں کے اصول کو جمع کیا۔ جیسے کہ اس کتاب کا مصنف۔زیدیہ خلفائے ثلاثہ کے اقرار ہیں ۔ حالانکہ یہ شیعہ میں سے ہیں ۔ ان میں قدریہ اور غیر قدریہ اور غیر قدریہ دونوں ہیں ۔ یہ زیدیہ امامہ سے بہتر ہیں ، اور امامیہ کے زیادہ مشابہ جارودیہ ہیں ۔ جو ابو الجارود [یہ زیادہ بن ابی زیاد منذر ہمدانی خراسانی العبدی ہے۔ کنیت ابو نجم تھی۔ کبھی نہدی اور ثقفی بھی کہلاتا تھا۔ ۱۵۰ھ سے ۱۶۰ھ کے درمیان وفات پائی۔ یہ زیدیہ میں سے جارؤدیہ فرقہ کا بانی تھا۔ شہرستانی نے نقل کیا ہے کہ جعفر صادق نے اس کا نام سرحوب رکھا اور باقر نے اس کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ سرحوب اندھے شیطان کو کہتے ہیں جو سمندر میں رہتا ہے۔ نوبختی کے بقول ابن جارود نگاہ کا بھی اندھا تھا اور دل کا بھی اندھا تھا۔ جارودیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنابِ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کی نص ارشاد فرمائی ہے۔ لہٰذاحضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امام تھے اور لوگ انہیں چھوڑنے کی بناء پر کافر اور گمراہ ہو گئے تھے۔ ان کے نزدیک علی رضی اللہ عنہ کے بعد حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ امام ہیں ۔ پھر امامت اولاد حسین میں شوری ہے۔ غرض ان کے اور بھی متعدد گمراہانہ عقائد ہیں ۔ ان کی تفصیل کے لیے دیکھیں : فرق الشیعہ للنوبختی، ص: ۷۵ ۔ ۷۸۔ (۱۳۷۹؍۱۹۵۹۔ ط۔ حیدریہ النجف۔) ] کے پیروکار ہیں ۔ جن کا یہ عقیدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کی نام لیے بغیر وصف ذکر کر کے نص کہی ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جناب علی رضی اللہ عنہ امام تھے، اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کی اقتداء چھوڑ کر گمراہ اور کافر ہو گئے تھے۔ پھر حسن رضی اللہ عنہ امام ہیں اور پھر حسین رضی اللہ عنہ ۔ 

پھر ان میں سے کوئی اس بات کا قائل ہے کہ جناب علی رضی اللہ عنہ نے حسن رضی اللہ عنہ کی امامت پر نص کہی، انہوں نے حسین کی امامت پر پھر یہ امامت دونوں کی اولاد میں شوری تھی۔ سو ان میں سے جو بھی داعی الی اللہ نکلا اور وہ عالم و فاضل بھی ہے سو وہ امام ہے۔

صفحہ 1 از 5