فصل:....قضاء و قدر پر رافضی کا کلام - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....قضاء و قدر پر رافضی کا کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

زیدیہ کا دوسرا فرقہ سلیمانیہ ہے۔ یہ سلیمان بن جریر کے اصحاب ہیں ۔ جن کے نزدیک امامت یہ شوری ہے، اور یہ دو نیک مسلمانوں سے بھی قائم ہو سکتی ہے، اور بسا اوقات یہ مفضول میں بھی پائی جاتی ہے۔ چاہے فاضل ہر حال میں افضل ہی ہو، اور یہ حضرات شیخین ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے لیے امامت کو ثابت کرتے ہیں ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ امامت خطا تھی۔ البتہ تاویل کی وجہ سے صاحبِ امامت فاسق نہ تھا۔ [سلیمانیہ یا جریریہ: یہ سلیمان بن جریر العرقی کے اصحاب ہیں ۔ خلیفہ منصور کے زمانہ میں ظاہر ہوئے۔ ان کے عقائد اس سے بھی زیادہ ہیں جو امام ابن تیمیہ نے ذکر کیے ہیں ، سلیمان نے دورِ عثمانی میں ہونے والے واقعات کی بناء پر جنابِ عثمان رضی اللہ عنہ پر طعن کیا ہے اور ان واقعات کی آڑ میں معاذ اللہ انہیں کافر تک کہا ہے، اور اس نے جناب زبیر، جناب طلحہ رضی اللہ عنہما اور سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے جنابِ علی رضی اللہ عنہ سے قتال پر اقدام کی وجہ سے معاذ اللہ انہیں بھی کافر کہا ہے۔ پھر اس نے متعدد امور میں خود امامیہ رافضہ پر بھی طعن کیا ہے۔ ان کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیں : فرق الشیعہ للنوبختی، ص: ۳۰، ۸۵، ۸۷۔]

جبکہ دوسرے قول کے قائلین بتریہ ہیں ، یہ کُثَیّر النواء کے اصحاب ہیں ، ان کے بتریہ نام کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر کا لقب ابتر تھا۔ ان کے نزدیک جنابِ علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل الخلائق اور امامت کے سب سے زیادہ اہل تھے۔ البتہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی بیعت خطا نہ تھی۔ کیونکہ جنابِ علی رضی اللہ عنہ ان دونوں کی خاطر امامت ترک کر دی تھی۔ البتہ یہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے قتل کے بارے میں توقف کرتے ہیں ، اور انہیں کافر نہیں کہتے۔ جیسا کہ سلیمانیہ کہتے ہیں ۔ یہ شیعوں کا سب سے بہتر فرقہ ہے۔ انہیں صالحیہ بھی کہتے ہیں ۔ کیونکہ یہ حسن بن صالح بن حی الفقیہ کی طرف منسوب ہیں ۔ [بتریہ :....کثیّر النواء الابتر کے اصحاب جو مذہب میں صالحیہ کے ہم نواء ہیں ۔ ان دونوں کی تفصیل کے لیے دیکھیں : فرق الشیعہ للنوبختی، ص: ۳۴، ۳۵، ۷۷۔] اب ان زیدیہ میں سے کوئی تو قدر کے بارے میں اہلِ سنت کے قول پر ہے اور کوئی قدریہ کے قول پر ہے۔ 

بندوں کے افعال کا فاعل کون ہے؟

دوسری وجہ :....یہ کہا جائے گا کہ: شیعہ مصنف کا یہ قول کہ: ’’ اہل سنت کے نزدیک بندہ کفر و معاصی کے ارتکاب میں بے قصور ہے۔‘‘ قطعی طور سے بے بنیاد ہے۔ تقدیر کا عقیدہ رکھنے والے جمہور اہل سنت کا زاویہ نگاہ یہ ہے کہ بندہ اپنے افعال کا حقیقی فاعل ہے اور وہ قدرت و استطاعت سے بہرہ ور ہے، وہ طبعی اسباب کی تاثیر کا انکار نہیں کرتے۔ بلکہ عقلی و نقلی دلائل کی بنا پر اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہواؤں کے ذریعہ بادل کو پیدا کرتے پھر بادل سے پانی اتارتے اور پانی سے فصلیں پیدا کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ سبب اور مسبب دونوں کا خالق ہے۔اور وہ ہر گز یہ بھی نہیں کہتے کہ مخلوقات میں موجود طبائع اورقویٰ کی کوئی تاثیر نہیں ۔بلکہ وہ اس کا اقرار کرتے ہیں کہ اس کی لفظی اور معنوی تاثیر ہے۔ حتیٰ کا اثر کا لفظ کتاب اللہ میں بھی آیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے: ﴿وَ نَکْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَہُمْ ﴾ (یس ۱۲)

’’ اور ہم لکھ رہے ہیں جو عمل انھوں نے آگے بھیجے اور ان کے چھوڑے ہوئے نشان بھی۔‘‘

اگرچہ وہاں پر تاثیر کا معنی اس آیت میں وارد لفظ کی نسبت زیادہ عام ہے۔ مگر پھر بھی وہ یہ کہتے ہیں کہ: یہ تاثیر؛ مسببات میں اسباب کی تاثیر کے باب سے ہے۔

باوجودیکہ باری تعالیٰ خالق اسباب ہیں اس کے باوصف ایک اور سبب کا وجود ناگزیر ہے جو اس کا شریک ہو اور اس کے دوش بدوش ایک معارض کی بھی ضرورت ہے جو اسے روک دے اور اللہ کے پیدا کرنے کے باوجود اس کے اثر کو تکمیل پذیر نہ ہونے دے الایہ کہ اللہتعالیٰ دوسرے سبب کو پیدا کر کے موانع کا ازالہ کر دے۔

شیعہ مصنف نے جو قول نقل کیا ہے اس کے قائل قدرکو ثابت ماننے ہیں جیسے امام اشعری رحمہ اللہ اور ان کے ہم نوااور موافقت رکھنے والے فقہاء جو کہ امام مالک ؛ امام شافعی اور امام أحمد رحمہم اللہ کے اصحاب میں سے ہیں ۔ اشاعرہ مخلوقات میں قُوی و طبائع کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ:’’ اللہ تعالیٰ ان قوی کے ساتھ فعل کو انجام نہیں دیتے البتہ ان قوی کے ہوتے ہوئے وہ فعل انجام پذیر ہوتا ہے۔‘‘ اشاعرہ کہتے ہیں کہ بندے کی قوت افعال میں مؤثر نہیں ہے۔

امام اشعری رحمہ اللہ اس سے بڑھ کر یہ کہتے ہیں کہ بندہ اپنے فعل کا فاعل نہیں ، بلکہ اس کا فاعل حقیقی اللہ تعالیٰ ہے۔ البتہ بندہ اپنے فعل کا کا سب ہے،جمہور اہل سنت کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ بندہ اپنے افعال کا حقیقی فاعل ہے۔

افعال باری تعالیٰ میں حکمت :

رہا یہ مسئلہ کہ شیعہ مصنف نے جو غرض اور حکمت کی نفی کا عقیدہ نقل کیا ہے؛ کہ بیشک اللہ تعالیٰ بندوں کی مصلحت کے لیے کوئی کام نہیں کرتے۔ ہم اس سے پہلے یہ بیان کرچکے ہیں کہ یہ چند ایک لوگوں کا عقیدہ ہے؛ جن میں امام اشعری بھی شامل ہیں اوروہ گروہ بھی جو اس مسئلہ میں ان کی موافقت رکھتے ہیں ۔ مگر دوسرے مقام پر وہ اپنے اس عقیدہ کے خلاف کہتے ہیں ۔ جب کہ جمہور اہل سنت والجماعت اللہ تعالیٰ کے افعال میں حکمت و غرض کو ثابت مانتے ہیں ۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے افعال بندوں کے نفع اور ان کی مصلحت کے پیش نظر ہوتے ہیں ۔ لیکن ان کا عقیدہ ایسے بھی نہیں جیسے معتزلہ اور ان کے موافقین کا عقیدہ ہے ؛جو چیز اللہ تعالیٰ کے ہاں حسن ہو؛ وہ مخلوق میں بھی حسن ہی ہوگی اور جو کچھ اس کی مخلوق میں قبیح ہو وہ اس کے ہاں بھی قبیح ہوگی۔ ایسا کچھ بھی نہیں ۔جہاں تک لفظ غرض کا تعلق ہے؛ تو معتزلہ اور بعض اہل سنت کی طرف منسوب یہ کہتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ غرض کے لیے افعال بجا لاتا ہے؛ اور مراد حکمت ہوتی ہے۔ اور بہت سارے اہل سنت اس کے لیے حکمت کا لفظ ہی استعمال کرتے ہیں ؛ وہ اس کے لیے لفظ غرض کا اطلاق نہیں کرتے ۔

ارادہ کی دو قسمیں :

صفحہ 2 از 5