فصل:....قضاء و قدر پر رافضی کا کلام - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....قضاء و قدر پر رافضی کا کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

شیعہ مصنف کا یہ قول کہ ’’ اہل سنت کے نزدیک اللہ تعالیٰ کافر سے معاصی کا ارادہ کرتا ہے؛ اس سے اطاعت گزاری مطلوب نہیں ہوتی ‘‘اہل سنت کا صرف ایک گروہ یہ عقیدہ رکھتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جوقدریہ کے ہم خیال ہیں ؛اور جو ’’ ارادہ اور مشئیت اور رضا اور محبت ‘‘ کو صرف ایک ہی قسم قرار دیتے ہیں اور محبت و رضا اور غضب کو ارادہ کا مترادف تصور کرتے ہیں ۔امام اشعری کے دونوں اقوال میں سے مشہور تر قول یہی ہے، ان کے اکثر اصحاب و اتباع اور ان کی موافقت رکھنے والے فقہاء جو کہ امام مالک؛ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے ساتھیوں میں سے ہیں ؛ وہ بھی اسی کے قائل ہیں ۔

بخلاف ازیں تمام طوائف میں سے جمہور اہل سنت اور امام اشعری رحمہ اللہ کے بہت سارے ساتھی اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ ارادہ، محبت اور رضا میں فرق کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں :’’اللہ تعالیٰ معاصی کا ارادہ تو کرتا ہے۔‘‘ مگر انہیں چاہتا نہیں اور ان سے راضی بھی نہیں ہوتا، بلکہ ان پر ناراض ہوتا ہے؛ ان سے بغض رکھتا ہے اور ان سے منع کرتا ہے۔اس قول کے قائلین اللہ تعالیٰ کی مشیئت اور اس کی محبت کے مابین فرق کرتے ہیں ۔اور یہی تمام سلف صالحین کا قول ہے۔ ابو المعالی الجوینی نے ذکر کیا ہے کہ قدیم اہل سنت و الجماعت کا یہی عقیدہ تھا ۔ پھر ابو الحسن الأشعری نے اس کی مخالفت کی اور محبت اور ارادہ کو ایک ہی شمار کرنے لگا۔[مستجی زادہ نے اس پر یہ تبصرہ کیا ہے کہ : ’’میں نے امام الحرمین کے کلام میں دیکھا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ کو کفر پر راضی رہتے ہیں اور اس کو پسند کرتے ہیں ؛ اللہ تعالیٰ ایسی باتوں سے بہت بلند ہیں ؛ اللہ آپ کو معاف کرے؛ آپ کی آراء میں بہت بڑا اختلاف پایا جاتا تھا۔ چنانچہ آپ ایک جگہ پر عقیدہ کی کتاب میں ایک بات کہتے ہیں ؛ تو دوسری جگہ عقیدہ کی دوسری کتاب میں اس کے برعکس بات کہتے ہیں ۔ چنانچہ آپ نے ایک جگہ’’الارشاد ‘‘ میں لکھا ہے: ’’ جس چیز کو ہم اللہ کا دین سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ افعال انسان کے اختیار میں ہوتے ہیں ؛ بندے کی قدرت کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اس کی ایجاد ہیں ۔ جبکہ ’’الرسالہ النظامیہ ‘‘ میں دوسری جگہ پر لکھتے ہیں : ’’بندے کی قدرت اور فعل کا اس میں اثر ہوتا ہے ۔‘‘حتی کہ ’’المقاصد ‘‘ کے شارح نے ’’الارشاد ‘‘ میں وارد اس کلام سے دلیل لیتے ہوئے امام سے اس قسم کے کلام کے صادر ہونے کاانکار کیا ہے۔ شاید کہ اس شارح تک رسالہ نظامیہ نہ پہنچا ہو۔]

ان لوگوں کا کہنا ہے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ ہوگیا ؛ جو نہیں چاہا وہ نہیں ہوا۔ پس ہر وہ چیز جسے اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اسے یقیناً اس نے پیدا کردیا۔ جب کہ محبت کا تعلق اس کے امر سے ہے۔ پس جس چیز کے کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے؛ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔ اسی لیے فقہائے کرام کا اتفاق ہے کہ اگر قسم اٹھانے والا یوں کہے کہ: ’’اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میں فلاں کام کروں گا۔‘‘پھر وہ وہ کام نہ کرے ؛ تو اس سے اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی۔ اگرچہ وہ کام واجب یا مستحب ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن اس کے برعکس اگر یہ کہا کہ : اللہ تعالیٰ نے پسند کیا تو میں وہ کام کروں گا؛ اوروہ کام واجب یا مستحب ہو۔ تو پھر اس کے نہ کرنے پر اس کی قسم ٹوٹ جائے گی۔

محققین کا قول ہے کہ’’ارادہ کا لفظ قرآن کریم میں دو معنوں میں استعمال ہوا ہے:

۱۔ ارادہ خُلقیہ قدریہ کونیہ ۲۔ارادہ امریہ شرعیہ دینیہ‘‘

ارادہ کونیہ قدریہ جملہ حوادث کو شامل ہے جب کہ ارادہ دینیہ شرعیہ محبت و رضا پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ عام مسلمانوں کا کا عقیدہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ ہوگیا اور جو نہیں چاہا وہ نہیں ہوا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّہْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآئِ ﴾ (الانعام:۱۲۵) 

’’تو وہ شخص جسے اللہ ہدایت دیناچاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ تنگ، نہایت گھٹا ہوا کر دیتا ہے، گویا وہ مشکل سے آسمان میں چڑھ رہا ہے۔‘‘

دوسری جگہ حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق ارشاد فرمایا:

﴿وَ لَا یَنْفَعُکُمْ نُصْحِیْٓ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَکُمْ اِنْ کَانَ اللّٰہُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَکُمْ ہُوَ رَبُّکُمْ وَ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ﴾ (ھود ۳۳)

’’اور میری نصیحت تمھیں نفع نہ دے گی اگر میں چاہوں کہ تمھیں نصیحت کروں ، اگر اللہ یہ ارادہ رکھتا ہو کہ تمھیں گمراہ کرے، وہی تمھارا رب ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔‘‘

اس ارادہ کا تعلق اضلال و اغواء کے ساتھ ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی وہ مشیئت ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں تو ہوجاتی ہے۔اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

﴿وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ ﴾ (البقرۃ:۲۵۳)

’’لیکن اللہ تعالیٰ جو کچھ چاہتے ہیں وہ کرتے ہیں ۔‘‘

یعنی جس چیز کو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں پیدا کر دیتے ہیں ؛ اس کے لیے حکم نہیں دیتے۔

کبھی ارادہ سے محبت[پسند] مراد لی جاتی ہے۔ جیسا کہ فحاشی کا کام کرنے والے سے کہا جاتا ہے کہ : یہ ایسا کام ہے جس کا ارادہ اللہ تعالیٰ نہیں کرتے؛ مراد یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کام کو پسند نہیں کرتے۔ اور کبھی اس سے مشیئت بمعنی چاہت کے ہوتی ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا ارادہ نہیں کیا تھا۔

ارادہ شرعیہ دینیہ کی مثال مندرجہ ذیل آیات ہیں ۔ قرآن کریم میں فرمایا:

﴿یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ ﴾ (البقرۃ: ۱۸۵)

’’اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانی چاہتے ہیں ؛ وہ تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتے ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

صفحہ 3 از 5