مسلمان دریا عبور کرتے ہیں
علی محمد الصلابیجب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ حضرت عاصمؓ اپنے فوجی دستہ کے ساتھ دریا پار کر چکے ہیں اور ساحل پر قبضہ کر لیا ہے تو بقیہ مجاہدین کو بھی دریا عبور کرنے کی اجازت دے دی اور کہا: جب دریا میں اترنا تو یہ پڑھتے رہنا:
نَسْتَعِیْنُ بِاللّٰہِ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْہِ، حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوِکِیْلُ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔
ترجمہ: ہم اللہ سے مدد کے طالب ہیں، اسی پر ہمیں کامل اعتماد ہے، اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہتر کارساز ہے۔ اللہ عظیم کے علاوہ کوئی قوت اور طاقت نفع ونقصان پہنچانے والی نہیں ہے۔
اجازت ملنے کے بعد بیشتر لشکر دریا کے تھپیڑوں پر سوار ہو کر جھاگ کو چیرتے اور باتیں کرتے ہوئے ایسے چل رہے تھے جیسے زمین پر چل رہے ہوں۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 11 صفحہ 169)
دریا میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی چل رہے تھے، اچانک ان کے گھوڑے انہیں لے کر تیرنے لگے، تو سیدنا سعدؓ کہنے لگے: حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوِکِیْلُ۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی ضرور مدد کرے گا، اپنے دین کو غلبہ دے گا اور اگر اسلامی لشکر میں نیکیوں سے بڑھ کر ظلم اور گناہ نہیں ہے تو وہ ضرور اپنے دشمن کو شکست دے گا۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 459 )
یہ سن کر حضرت سلمانؓ نے حضرت سعدؓ سے کہا: اسلام ابھی نیا ہے، اللہ نے اسلام کے پیروکاروں کے لیے جس طرح روئے زمین کو مسخر کر دیا ہے، اسی طرح دریا بھی ان کے لیے مسخر کیے جائیں گے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں سلمان کی جان ہے جس طرح لوگ اس دین میں فوج در فوج داخل ہوئے ہیں ایسے ہی فوج در فوج اس دین سے نکل جائیں گے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 459)
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ اسلام ابھی نیا ہے، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام ابھی زندہ ہے اور مسلمانوں کا ایمان قوی ہے، اسلام اور مسلمان اس دنیا میں قیامت تک رہیں گے، سچے اور کامل مومنوں کو اس سے عزت ملے گی، کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی کا یہی خلاصہ سمجھا ہے، وہ اسی کے لیے جیتے اور مرتے ہیں، اسی کی دعوت دیتے ہیں اور اسی کی طرف سے دفاع کرتے ہیں اور جب ایام طویل ہو جائیں گے، اس پر ایک لمبا عرصہ گزر جائے گا تو ایسی نسلیں جنم لیں گی جنہیں یہ دین و راثت میں ملے گا، وہ ان کا منتخب کیا ہوا مذہب نہ ہو گا اور اسی لیے ان کی تمام جدوجہد، کاوشوں اور عیش پرستی کا ماحصل اس دین کی سربلندی نہ ہوگی، بلکہ حصول دنیا اور عیش پرستی ہی ان کی زندگی کا خلاصہ ہوگی، ان کی زندگی میں دین کی ثانوی حیثیت ہوگی، اس وقت اس دین سے لوگ فوج در فوج نکل جائیں گے، جیسے کہ ابتدائے اسلام میں فوج در فوج اس میں داخل ہوئے تھے۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 11 صفحہ 170)
اس طرح تمام مسلمانوں نے صحیح سالم دریا عبور کیا، کسی کو کوئی مشکل پیش نہ آئی اور نہ کوئی دریا میں غائب ہوا۔ صرف ’’غرقد بارقی‘‘ دریا میں اپنے گھوڑے سے گر گئے، لیکن فوراً ہی حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ نے اپنے گھوڑے کی لگام ان کی طرف پھینک دی، جس کے سہارے حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ نے ان کو کھینچ کر دریا پار کروایا۔ بارقی ایک طاقتور آدمی تھے، جب دریا عبور کر لیا تو کہا: اے قعقاع! ہماری بہنیں تم جیسے بہادروں کو جننے سے بانجھ ہو گئیں ہیں۔ وہ رشتہ میں قعقاع رضی اللہ عنہ کے ماموں لگتے تھے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 459)
فارسیوں نے جب مسلمانوں کو دریا عبور کر کے ساحل پر پہنچتے دیکھا تو دہشت زدہ ہوگئے، یزدگرد حلوان کی طرف بھاگا اور مسلمان بلا کسی معارضہ و مزاحمت کے ایوان فارس میں داخل ہوئے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ قصر ابیض (کسریٰ کے شاہی محل) میں داخل ہوئے اور اسے جانماز بنایا اور اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی:
كَمۡ تَرَكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍ ۞ وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍ۞بوَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَ۞ كَذٰلِكَ وَاَوۡرَثۡنٰهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ۞(سورۃ الدخان آیت 25تا 28)
ترجمہ: کتنے باغات اور چشمے تھے جو یہ لوگ چھوڑ گئے۔ اور کتنے کھیت اور شاندار مکانات۔ اور عیش کے کتنے سامان جن میں وہ مزے کر رہے تھے
ان کا انجام اسی طرح ہوا، اور ہم نے ان سب چیزوں کا وارث ایک دوسری قوم کو بنادیا۔ سیدنا سعدؓ نے وہاں آٹھ رکعت نماز فتح پڑھی اور مدائن میں سب سے پہلے کتیبہ احوالعاصم بن عمرو تمیمی کی قیادت میں داخل ہوا اور پھر کتبہ خرساء قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کی قیادت میں داخل ہوا۔
(إتمام الوفاء: صفحہ 85)