مختارثقفی: شیعہ کتب سے اصل حقائق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مختارثقفی: شیعہ کتب سے اصل حقائق

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 3

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى الْقَارِئُ أَبُو عُمَرَ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا السُّدِّيُّ، عَنْ رِفَاعَةَ الْفِتْيَانِيِّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ، فَأَلْقَى لِي وِسَادَةً، وَقَالَ: لَوْلَا أَنَّ أَخِي جِبْرِيلَ قَامَ عَنْ هَذِهِ لَأَلْقَيْتُهَا لَكَ. قَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ أَخِي عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَمَّنَ مُؤْمِنًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ، فَأَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِيءٌ "

ترجمہ: رفاعہ بن شداد فرماتے ہیں: میں مختار کے پاس گیا تو اس نے مجھے تکیہ دیا اور کہا کہ اگر میرا بھائی جبریل علیہ السلام اس سے نہ اٹھتا تو میں اسے تیرے لیے پھینک دیتا۔ تو میں نے کہا: میرا ارادہ ہوا کہ اسے قتل کر دوں۔ (کیونکہ اس نے حضرت جبریل علیہ السلام سے رفاقت کا جھوٹ بولا) پھر مجھے ایک حدیث یاد آ گئی جو میرے بھائی عمرو بن الحمق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے کہا: "جس مؤمن نے کسی مؤمن کو اس کے خون کی امان دی اور اسے قتل کردیا تو میں اس کے قتل سے بری ہوں"

(مسند أحمد ط الرسالة: جلد 36، صفحہ 278،279 رقم: 21947 دیکھیے، مسند الانصار)

شعیب الارناؤط نے اسے مسند احمد کی تحقیق میں حسن کہا اور البدایہ والنہایہ کی تحقیق میں صحیح کہا۔

(البدایہ والنہایہ: جلد 9، صفحہ 45، حاشیہ 5)

(جامع ترمذی 2220 )

کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں

باب: قبیلہ بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک ہلاک کرنے والا ہو گا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرً، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‌‌‌‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‌‌‌‏    فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ  ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‌‌‌‏ يُقَالُ الْكَذَّابُ:‌‌‌‏ الْمُخْتَارُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ‌‌‌‌‌‏وَالْمُبِيرُ:‌‌‌‏ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ،‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ہلاک کرنے والا ہو گا“۔ 

امام ترمذیؒ کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کذاب اور جھوٹے سے مراد مختار بن ابی عبید ثقفی اور ہلاک کرنے والا سے مراد حجاج بن یوسف ہے۱؎۔

(سنن ابن ماجہ 2688 )

کتاب:دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل

باب:کسی کو امان دینے کے بعد قتل کرنا کیسا ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ‌‌‌‌‌‏حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ الْقِتْبَانِيِّ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ لَوْلَا كَلِمَةٌ سَمِعْتُهَا مِنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ لَمَشَيْتُ فِيمَا بَيْنَ رَأْسِ الْمُخْتَارِ وَجَسَدِهِ، ‌‌‌‌‌‏سَمِعْتُهُ يَقُولُ:‌‌‌‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‌‌‌‏  مَنْ أَمِنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ، ‌‌‌‌‌‏فَإِنَّهُ يَحْمِلُ لِوَاءَ غَدْرٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ 

ترجمہ: اگر وہ حدیث نہ ہوتی جو میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنی ہے تو میں مختار ثقفی کے سر اور جسم کے درمیان چلتا، میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جس نے کسی کو جان کی امان دی، پھر اس کو قتل کر دیا تو قیامت کے دن دغا بازی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو گا۔

(مسند احمد 11080)

کتاب: سنہ (1) ہجری کے اہم واقعات

باب: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  کے ترکہ اور میراث کا بیان

 (11080) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ رُفَیْعٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَشَدَّادُ بْنُ مَعْقِلٍ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا تَرَکَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم    إِلَّا مَا بَیْنَ ہٰذَیْنِ اللَّوْحَیْنِ، وَدَخَلْنَا عَلٰی مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ فَقَالَ: مِثْلَ ذٰلِکَ، قَالَ: وَکَانَ الْمُخْتَارُ یَقُولُ: الْوَحْیُ۔ (مسند احمد: 1909)

ترجمہ: عبدالعزیز بن رُفیع سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور شداد بن معقل ہم دونوں سیدنا ابن عباس  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  کی خدمت میں گئے، انہوں نے کہا: رسول اللہ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  صرف یہ چیز چھوڑ کر گئے ہیں جو ان دو گتوں کے درمیان ہے۔ ( یعنی قرآن کریم) اور ہم محمد بن علی کی خدمت میں گئے تو انہوں نے بھی ایسے ہی کہا، عبدالعزیز نے کہا کہ مختار بن ثقفی کہا کرتا تھا کہ اس کی طرف وحی نازل ہوتی ہے۔

مختار بن عبید ثقفی شیعوں کے ملحد فرقے کیسانیہ کا بانی تھا جن کا ماننا تھا کہ امام معصوم اور گناہوں سے پاک ہوتا ہے۔ اس فرقے کے لوگ برخلاف اثنا عشریہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے بعد جناب محمد بن علی الحنفیہ رضی اللہ عنہ کو امام معصوم مانتے تھے اور ان کے متعلق رجعت کا عقیدہ رکھتے تھے ۔ اس کے علاوہ اس فرقے کے بنیادی عقائد میں بداء کا عقیدہ بھی شامل ہے یعنی اللہ جھوٹ بھی بول سکتا ہے اور نئے حالات کے پیش نظر قضائے الہٰی بدلتی رہتی ہے ۔

علامہ شہرستانی رحمۃاللہ علیہ لکھتے ہیں کہ مختار بن عبید ثقفی نے بداء کا عقیدہ اس لئے اختیار کیا تھا کہ وہ خود پر نازل ہونے والی وحی کے زیر اثر یا امام کے پیغام کی وجہ سے اپنے متبعین کے سامنے ہونے والے واقعات کا دعویٰ کرتا ہے اور اگر وہ واقعات اسی طور سے ظہور پذیر ہو جاتے ہیں تو وہ انہیں اپنے دعویٰ کی دلیل قرار دیتا ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو کہتا تھا کہ اللہ نے اپنا ارادہ بدل لیا ۔ (المحلل و النحل) ۔


صفحہ 3 از 3