Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتح رامہرمز

  علی محمد الصلابی

جلولاء میں ہزیمت اٹھانے کے بعد اہل فارس اپنے فرمانروا یزدگرد کے ابھارنے کی وجہ سے دوبارہ آمادہ قتال ہوئے اور ہرمزان کی قیادت میں رامہرمز میں سب اکٹھا ہوئے۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ان کے اس اجتماع کی خبر امیرالمومنین کو دے چکے تھے، اس لیے سیدنا سعدؓ کو دربار خلافت سے حکم ہوا کہ حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کی قیادت میں کوفہ کی ایک فوج دشمن سے مقابلہ کے لیے روانہ کریں اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ حضرت سہل بن عدی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بصرہ سے ایک فوج روانہ کریں اور جب دونوں افواج اکٹھی ہو جائیں تو ابو سبرہ بن ابی رہم رضی اللہ عنہ کو ان کا سپہ سالار بنا دیا جائے۔ اس کے بعد جو بھی فوجی کمک وہاں پہنچے سب انہی کے تابع ہوں گی، چنانچہ حضرت نعمان بن مقرنؓ کوفہ سے اپنی فوج لے کر ہرمزان کی طرف روانہ ہوئے، ان دنوں ہرمزان رامہرمز میں مقیم تھا جب ہرمزان کو حضرت نعمان بن مقرنؓ کی آمد کی خبر ملی تو حملے میں پہل کے لیے آگے بڑھا اور چاہا کہ نعمانؓ کے آنے سے پہلے ہی ان کا راستہ کاٹ دیا جائے۔ اسے اہل فارس کو مدد کی پوری توقع تھی اور وہ اس کی مدد کے لیے آگے آئے بھی، لیکن پہلا ہی امدادی دستہ منتشر نظر آیا۔ حضرت نعمانؓ اور ہرمزان کی افواج اربک میں بھڑ گئیں۔ پھر دونوں میں سخت جنگ ہوئی۔ آخر میں اللہ نے ہرمزان کو ہزیمت اور حضرت نعمانؓ کو فتح دی۔ وہ رامہرمز چھوڑ کر ’’تستر‘‘ بھاگ نکلا، ادھر سہل بن عدیؓ بھی اپنے ساتھ بصرہ کی فوج لے کر آ پہنچے، یہ لوگ ابھی اہواز کے بازار میں تھے کہ معرکہ میں فتح کی خبر انہیں مل گئی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ہرمزان ’’تستر‘‘ بھاگ گیا ہے۔ چنانچہ یہ لوگ یہیں سے تستر کی طرف چل پڑے اور حضرت نعمان رضی اللہ عنہ بھی اپنی فوج کے ساتھ اسی طرف بڑھے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 61، 62)