Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتح تستر

  علی محمد الصلابی

حضرت نعمان بن مقرن اور سہل بن عدی رضی اللہ عنہما اپنی اپنی فوج لے کر تستر پہنچے اور حضرت ابو سبرہ بن ابو رہم رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اپنی افواج کو اکٹھا کیا، ابو سبرہ نے امیرالمؤمنینؓ سے مزید فوج کا مطالبہ کیا۔ امیرالمؤمنینؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک فوج مدد کے لیے روانہ کی، اس طرح حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بصرہ کا گورنر ہونے کی وجہ سے بصری فوج کے سپہ سالار اور ابو سبرہ رضی اللہ عنہ پورے لشکر کے سپہ سالار تھے۔ مسلمانوں نے وہاں پہنچ کر تستر کا محاصرہ کیا اور یہ محاصرہ کئی مہینے جاری رہا۔ مختلف مواقع پر دشمن کی فوج پر تقریباً اسّی (80) حملے کیے گئے اور دعوت مبارزت دینے والے مسلم بہادر اپنی بہادری کے جوہر دکھاتے رہے، صرف مبارزت میں سو فارسیوں کو قتل کیا اور شہرت پائی۔ ان میں بصرہ کے براء بن مالک، مجزأۃ بن ثورہ، کعب بن سور، ابو تمیمہ اور کوفہ کے حبیب بن قرہ، ربعی بن عامر اور عامر بن عبداللہ اسود رضی اللہ عنہم قابل ذکر ہیں۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 11 صفحہ 202)

مسلمانوں اور دشمنوں کے درمیان جب جنگ اپنے آخری اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہی تھی تو مسلمانوں نے حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کو پکار کر کہا: اے براء اپنے رب کی قسم کھاؤ کہ وہ یقیناً ہمارے دشمنوں کو شکست دے گا۔ حضرت براء بن مالکؓ نے دست دعا دراز کیے اور کہا:

 اَللّٰہُمَّ اہْزِمْہُمْ لَنَا، وَاسْتَشْہِدْنِیْ۔

اے اللہ! دشمن کو ہمارے مقابلہ میں شکست دے دے اور مجھے شہادت نصیب فرما۔

مسلمانوں نے جنگ کی دھار تیز کر دی اور اپنے دشمنوں کو شکست فاش دی، دشمن بھاگ کر خندق میں کود پڑے، وہ بھی ان پر چڑھ دوڑے۔ اس طرح جب فارسی سخت مشکل میں گھر گئے اور مسلمانوں کی طرف سے حصار سخت ہوگیا تو دو مختلف سمتوں سے دو فارسیوں نے مسلمانوں سے رابطہ کر کے انہیں بتا دیا کہ شہر سے پانی نکلنے والے نالے سے اندر جا کر شہر فتح کیا جا سکتا ہے۔ حضرت نعمان بن مقرنؓ کو جب یہ خبر ملی تو آپؓ نے اپنے اہم ساتھیوں کو وہاں بھیجا اور کوفہ و بصرہ کے نامور بہادر اس جگہ رات میں ملے، پھر اسی راستے سے شہر کے اندر گھس گئے اور نعرئہ تکبیر بلند کیا، جو لوگ باہر کھڑے تھے انہوں نے بھی اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور اندر گھس کر دروازہ کو کھول دیا، جو فارسی دروازوں کے پاس تھے، معمولی مزاحمت کے بعد وہ بھی پیچھے ہٹ گئے۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 11 صفحہ 202)

اس معرکہ میں حضرت براء بن مالک اور مجزأۃ بن ثور رضی اللہ عنہما نے ہرمزان کے مارنے سے جام شہادت نوش کیا۔ اس وقت مسلمان معرکہ میں فتح پا چکے تھے اور ہرمزان جو فارسیوں کا سپہ سالار تھا بھاگ کر قلعے میں روپوش ہوگیا۔ جانبازوں کا وہی پہلا دستہ جو نالے کے راستے سے شروع شروع میں شہر میں داخل ہوا تھا، قلعہ کا چکر کاٹنے لگا اور ہرمزان تک پہنچ گیا۔ جب انہوں نے ہرمزان کو آنکھوں سے دیکھ لیا اور بالکل اس کے سامنے پہنچ گئے تو ہرمزان نے ان سے کہا: اب جو چاہو کر سکتے ہو، میں جس مشکل میں ہوں اور تم لوگ بھی جن پریشانیوں سے گزر رہے ہو اسے دیکھ رہے ہو۔ میرے ترکش میں سو تیر ہیں، جب تک میرے پاس ایک تیر بھی بچے گا، واللہ تم لوگ مجھ تک نہیں پہنچ سکتے اور نہ تمہارا کوئی تیر مجھے لگ سکتا ہے، اگر میں ہر تیر کے بدلے تم میں سے سو لوگوں کو مردہ یا زخمی کر کے گرفتار کیا جاؤں تو بہترین جنگی قیدی کہلاؤں گا۔ مسلم دستے نے کہا: پھر تو کیا چاہتا ہے؟ اس نے کہا: عمر کے حکم پر خود کو تمہارے حوالے کر دوں اور وہ میرے ساتھ جو چاہیں کریں۔ انہوں نے کہا: تمہاری درخواست منظور ہے۔ پھر اس نے اپنا ترکش پھینک دیا اور خود کو ان کے حوالے کر دیا، انہوں نے اسے گرفتار کیا، رسی سے باندھا اور چند لوگوں کی نگرانی میں امیرالمومنین عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا اور بقیہ لوگوں نے شہر میں موجود اموال و جائیداد کو مال غنیمت کے طور پر حاصل کیا اور خمس چھوڑ کر بقیہ مال آپس میں تقسیم کر لیا، ہر شہ سوار کو تین ہزار اور پیادہ پا مجاہد کو ایک ہزار درہم ملے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 63، 64)

اب ہم کچھ دیر یہاں رکتے ہیں اور غزوہ تستر سے مستنبط ہونے والے دروس و عبر پر گفتگو کرتے ہیں: