Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امیرالمومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ہرمزان کے درمیان گفتگو

  علی محمد الصلابی

مسلمانوں کے سپہ سالار حضرت ابو سبرہ بن ابو رہم رضی اللہ عنہ نے ہرمزان کو ایک وفد کے ساتھ امیرالمومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔ جب وہ لوگ مدینہ پہنچے تو ہرمزان کو اس کی شاہی شکل وہیئت میں تیار کیا۔ اسے اس کا ریشمی لباس پہنایا جس میں سونا جڑا ہوا تھا۔ یاقوت و زمرد سے مرصع ’’اذین‘‘ تاج اس کے سر پر رکھا، تاکہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور سارے مسلمان اسے شاہی ہیئت میں دیکھ لیں۔ پھر اسے لے کر سیدنا فاروق اعظمؓ کے گھر پہنچے، آپ اپنے گھر پر نہ ملے، دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ مسجد میں کوفہ سے آئے ہوئے ایک وفد کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ وہ سب اسے لے کر مسجد پہنچے،

سیدنا عمرؓ وہاں بھی نہ ملے، جب واپس لوٹنے لگے تو راستے میں مدینہ کے چند بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھا، بچوں نے ان سے پوچھا: کس کی تلاش ہے؟ کیا آپ لوگ امیرالمؤمنین کو ڈھونڈ رہے ہیں؟ وہ تو مسجد کے دائیں حصہ میں اپنی برنس کو تکیہ بنائے سو رہے ہیں۔ دراصل آپ نے اہل کوفہ کے وفد کے استقبال میں برنس پہنی تھی اور ان کے ساتھ بیٹھے تھے، ان کی مجلس سے فارغ ہونے اور وفد کے چلے جانے کے بعد آپ نے برنس اتاری اور تکیہ کی جگہ رکھ کر سو گئے۔ وہ سب سیدنا عمرؓ کے پاس گئے اور آپؓ سے کچھ دور ہی بیٹھے، اس وقت مسجد میں آپ کے علاوہ کوئی آدمی بیدار یا سوتا ہوا نظر نہ آیا۔ آپؓ کے ہاتھ میں دُرّہ تھا۔ ہرمزان نے کہا: عمر کہاں ہیں؟ وفد نے بتایا کہ یہی عمر ہیں اور پھر لوگوں کو خاموش رہنے کی تلقین کرنے لگے۔ ہرمزان نے وفد سے بصد اہتمام و توجہ پوچھا کہ ان کے دربان اور محافظ کہاں ہیں؟ وفد نے کہا کہ ان کا کوئی دربان، محافظ، کاتب اور دیوان نہیں ہوتا۔ ہرمزان نے کہا: تب تو یہ نبی ہیں۔ وفد نے کہا: نبی نہیں ہیں لیکن نبی کی سنت پر عمل کرتے ہیں۔ آہستہ آہستہ لوگوں کی تعداد بڑھ گئی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ لوگوں کی آہٹ سے بیدار ہوئے اور اٹھ کر بیٹھ گئے، پھر ہرمزان پر نظر ڈالی اور کہا: کیا یہ ہرمزان ہے؟ وفد نے جواب دیا: ہاں۔ سیدنا عمرؓ نے اس پر اور اس کے لباس پر گہری نگاہ ڈالی اور کہا: جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اور اللہ سے مدد کا طالب ہوں، ہر قسم کی تعریف اللہ واحد کے لیے ہے جس نے اسے اور اس جیسے دوسرے ظالموں کو ذلیل کیا۔ اے مسلمانو! دین اسلام کو مضبوطی سے پکڑ لو اور سنت نبویﷺ پر عمل کرو۔ دنیا تمہیں متکبر نہ بنا دے کہ وہ محض ایک دھوکا ہے۔ وفد نے کہا: یہ اہواز کا بادشاہ ہے، اس سے بات کیجئے۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: نہیں، جب تک اس کے جسم کے لباس اور جواہرات سے مرصع تاج کو اتار نہیں دیا جاتا میں اس سے بات نہ کروں گا۔ چنانچہ اس کے جسم سے شاہی لباس اتار کر موٹا کپڑا پہنا دیا گیا۔

تب سیدنا عمر فاروقؓ اس سے مخاطب ہوئے اور کہا: اے ہرمزان! کیا تم نے غداری کا انجام اور حکم الہٰی دیکھ لیا؟ اس نے کہا: اے عمر! زمانہ جاہلیت میں اللہ نے ہمیں اور تمہیں چھوڑ رکھا تھا۔ جب ہم دونوں اللہ کو نہیں مانتے تھے تو ہم تم پر غالب آجاتے تھے اور اب جب اللہ تمہارے ساتھ ہوگیا تم ہم پر غالب آگئے۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں تم اپنے اتحاد کی وجہ سے فتح مند ہوتے اور ہم آپسی اختلافات کی وجہ سے شکست کھاتے تھے اور آگے سیدنا عمرؓ نے فرمایا: یہ بتاؤ کہ بار بار تم نے ہمارے ساتھ بدعہدی کی ہے، کیا اس کے لیے تمہارے پاس کوئی عذر یا حجت ہے؟ ہرمزان نے کہا: مجھے خوف ہے کہ کہیں میرے بتانے سے پہلے آپؓ مجھے قتل نہ کر دیں۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: اس سے بے خوف رہو۔ پھر ہرمزان نے پینے کے لیے پانی مانگا۔ اسے ایک معمولی پیالے میں پانی دیا گیا۔ اس نے پیالہ دیکھ کر کہا: میں پیاسا مر جاؤں گا لیکن اس پیالے میں پانی پینے کی مجھ میں ہمت نہیں ہے۔ پھر اسے اس کے پسندیدہ برتن میں پانی دیا گیا۔ اس نے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے پیالہ ہاتھ میں اٹھایا اور کہا: مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں پانی پینے کے دوران میں قتل نہ کر دیا جاؤں؟

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تک تم پانی نہ پی لو گے ہم تمہیں کچھ نہ کہیں گے۔ اس نے پورا پانی پی لیا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے دوبارہ پانی دو، قتل اور پیاس کو اکٹھا نہ کرو۔ اس نے کہا: مجھے پانی کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے تو امان طلبی کی نیت کی تھی۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: میں تجھے قتل ہی کروں گا۔ اس نے کہا: آپؓ مجھے امان دے چکے ہیں۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: تو جھوٹا ہے: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنینؓ! یہ سچ کہہ رہا ہے، آپ اسے امان دے چکے ہیں۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: اے انس! تم کتنی غلط بات کہہ رہے ہو، کیا میں مجزأۃ اور براء کے قاتل کو امان دے سکتا ہوں، تم کوئی حل پیش کرو ورنہ تمہیں سزا دوں گا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے کہا: آپؓ نے کہا ہے: تم بے خوف رہو اور مجھے بتاؤ اور یہ بھی کہا ہے کہ جب تک تم پانی نہ پی لو گے ہم تمہیں کچھ نہ کہیں گے۔ مجلس میں موجود دوسرے لوگوں نے بھی حضرت انسؓ کی تائید کی۔ آپؓ ہرمزان کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: تم نے مجھے دھوکا دے دیا، اللہ کی قسم! میں مسلمان کے علاوہ کسی کے دھوکے میں نہیں آتا، چنانچہ وہ بھی اسلام لے آیا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے دو ہزار درہم ماہانہ خرچ مقرر کیا اور مدینہ میں رہنے کی اجازت دے دی۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 11 صفحہ 204)