فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد - ردِ رافضیت | دفاع…

فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 10

فصل:....مسئلہ قدراور رافضی الزام کا رد

[ اعتراض]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’اہل سنت کا یہ قول چند قبائح پر مشتمل ہے۔ ایک قباحت یہ ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا سب ظالموں سے بڑا ظالم ہونا لازم آتا ہے۔ اس لیے کہ وہ کافر کو کفر کے جرم کی سزا دیتا ہے، حالانکہ اس نے خود ہی اسے کفر کی قدرت عطا کی، اور ایمان کی قدرت سے محروم رکھا، جس طرح کسی کواس کے رنگ یا طویل القامت یا قصیر القامت ہونے پر سزا دینا ظلم ہے، اسی طرح اس معصیت کی سزا دینا بھی ظلم ہے جو خود اللہ تعالیٰ نے اس میں پیدا کی۔‘‘[انتہیٰ کلام الرافضی]

[جواب]:اس کا جواب اس سے پہلے بھی گزر چکا ہے کہ ظلم کی تفسیر میں تقدیر کو ثابت ماننے والے جمہور کے دو قول ہیں :

پہلا قول یہ ہے کہ: ظلم ممتنع لذاتہٖ ہے اور اللہ تعالیٰ ظلم کرنے پر قادر نہیں ۔ امام اشعری، قاضی ابوبکر، ابوالمعالی، قاضی ابو یعلیٰ اور ابن الزاغونی رحمہم اللہ کی یہی رائے ہے۔ ان کا زاویہ نگاہ یہ ہے کہ ذات باری تعالیٰ دروغ گوئی ، ظلم اور افعال قبیحہ پر قادر نہیں اور نہ اسے ان کے ساتھ موصوف کیا جا سکتا ہے۔ ذات باری سے ان افعال کا صدور اس لیے محال ہے کہ ظلم و قبح کا فاعل شرعاً مذموم ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت میں ظلم اور قباحت کی مذمت کو واجب کیا ہے۔ اور قابل مذمت وہی فاعل ہوتا ہے، جو ناروا کام کرے اور ایسے فعل کا مرتکب ہو جس کا حق اسے حاصل نہ ہو۔یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب فاعل اس چیز میں تصرف کرے جس میں تصرف کرنے کا حق اس کی نسبت کسی اور کو حاصل ہو۔ بنا بریں ظلم کا صدور اللہ سے محال ہے، کیوں کہ اس کے تصرفات کا مالک کوئی دوسرا شخص نہیں ہو سکتا، اس تقریر سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے، کہ اللہ کے حق میں ظلم کا تصور بھی محال ہے۔

مذکورہ بالا قول کی حقیقت یہ ہے کہ قابل مذمت وہ فاعل ہے، جو غیر کی مملوکہ چیز میں دست درازی کا ارتکاب کرتاہو اوراپنے سے اوپر والے کے حکم کی نافرمانی کرتا ہو۔ ظاہر ہے کہ کوئی شخص اللہ کو اپنے احکام کا مامور و مکلف نہیں بنا سکتا اور نہ ہی اللہتعالیٰ غیر کی ملکیت میں تصرف کرتا ہے، اس لیے کہ وہ سب چیزوں کا مالک ہے۔

یہ قول ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ سے منقول ہے، فرماتے ہیں :

’’ میں نے اپنی پوری عقل سے کام لے کر قدریہ فرقہ سے مناظرہ کیا اور دریافت کیا کہ ظلم کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا کسی دوسرے کی ملکیت میں تصرف کرنے کو ظلم کہتے ہیں ۔ میں نے کہا :’’جب ہرچیز اللہ کی مملوک ہے تو وہ غیر کی ملکیت میں تصرف کیسے کرے گا؟‘‘

مگر یہ لوگ تو کسی جرم کا ارتکاب کیے بغیر بھی سزا دینے کو جائز تصور کرتے ہیں ، لہٰذا قصیر القامت کو چھوٹے ہونے؛ یا طویل القامت کو طویل ہونے اور سیاہ فام کو سیاہ ہونے کی بنا پر سزا دینے سے ان پر معارضہ نہیں کیا جا سکتا ۔ان کا خیال ہے کہ سزا دینا مشیت ایزدی کے تابع ہے۔

ظلم سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ:

دوسرا قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ظلم پر قادر مگر اس سے منزہ ہے؛ یہ قدر کو ثابت ماننے والے جمہور علماء کا قول ہے۔ اور بہت سے متکلمین و مناظرین قائلین قدر کا عقیدہ ہے۔جیسا کہ کرامیہ ؛ اور امام ابو حنیفہ؛ امام مالک؛ امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کے بہت سارے اصحاب کا قول ہے۔اور قاضی ابو حازم نے بھی اس قول کو اختیار کیا ہے۔ جیسے کسی انسان کو کسی دوسرے شخص کے جرم کی سزا دینا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخَافُ ظُلْمًا وَّلَا ہَضْمًا﴾ (طہ:۱۱۲)

’’جو ایمان دار ہواور پھر نیک اعمال انجام دے تو وہ کسی ظلم یا کمی سے نہیں ڈرے گا۔‘‘

ان لوگوں کا زاویہ نگاہ یہ ہے کہ انسان کو اختیاری یا غیر اختیاری افعال کی بنا پر سزا دینے کا فرق انسانی فطرت میں جا گزیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلاشبہ جب کسی انسان کا ایک بیٹا ہو؛ اور اس کے جسم میں یا کوئی تخلیقی عیب ہو تو اس پر اس کی مذمت کرنا یا سزا دینا غیر مستحسن ہے۔لیکن اس کا یہی بیٹا اگر کسی پر ظلم کرے تو اسے سزا دینا مستحسن ہوگا۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ:’’ تقدیر سے گناہوں پر استدلال کرنا عقلاً باطل ہے۔ اس لئے کہ دوسروں پر ظلم و ستم ڈھانے والا اگر تقدیر سے استدلال کرے گا (کہ میری تقدیر میں یوں ہی لکھا تھا) تو جو شخص اس کو ظلم کا نشانہ بناتا ہے، وہ بھی یہ دلیل پیش کر سکتا ہے۔اگر تقدیر حجت ہے تو دونوں کے حق میں حجت ہے؛ اور اگرحجت نہیں تو پھر کسی ایک کے بھی حق میں حجت نہیں ۔ اس سے یہ حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ معاصی کے ارتکاب پر تقدیر سے استدلال کرنا باتفاق ادیان و عقلاء باطل ہے۔ اور اس سے وہی شخص احتجاج کرتا ہے، جو اپنے اقوال میں تناقض کا شکار اور اپنی خواہش کا پیروکار ہو۔ جیسے یہ مقولہ مشہور ہے کہ: ’’ تم اطاعت کے وقت قدری اور معصیت کے وقت جبری بن جاتے ہو۔‘‘ مقولہ کا مطلب یہ ہے کہ تم ہوائے نفس کی پیروی کرتے ہو جو مذہب اپنی خواہش کے موافق ہوا بس اسی کے ہو جاتے ہو۔‘‘

اگرظلم و قبائح کے مرتکب کے لیے تقدیر حجت ہوتی تو کوئی شخص دوسرے کو ملامت نہ کر سکتا اور نہ اسے سزا دے سکتا (کیونکہ مجرم آسانی سے کہہ سکتا تھا کہ میری تقدیر میں یونہی لکھا تھا)۔تو ظلم و فحاشی کا کرنے والا دوسرے کے اہل و مال اورخون میں جیسے چاہتا اپنی مرضی اور خواہشات کے مطابق ظلم و فحش کا ارتکاب کرتا اور پھر اس پر تقدیر سے دلیل پیش کرتا کہ یہ تو اس کے مقدر میں لکھا جا چکا تھا۔

صفحہ 1 از 10